یہ غلط ہے 

یہ غلط ہے 
یہ غلط ہے 

  

 علم،برداشت اور شعور انسان کو بڑا بنا دیتا ہے۔جبکہ غصہ،جہالت اورغرور انسان کو چھوٹا کر دیتا ہے۔غلطی کر جانا کوئی بڑی بات نہیں۔جبکہ غلطی پر شرمندہ نہ ہونابلکہ ڈٹ جانا بڑی بات ہے۔یہ ”بڑی بات“ کسی کے ہاتھ نہیں آ رہی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ نے کسی پڑھے لکھے آدمی کو  سڑک پر غلطی پرشرمندہ ہوتے نہیں دیکھا ہو گا،بلکہ خطرناک بحث کرتے ہوئے اور دھمکیاں دے کر الجھتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ اسی طرح کچھ اور مناظرآپ کے سامنے رکھتا ہوں جو ہماری سوچ اور رویے ظاہر کرتے ہیں۔ توجہ طلب امور پر بعد میں بات کرتے ہیں۔ 

آپ کسی بڑے شہر کی مصروف سڑک پر کھڑے ہو کر دیکھیں آپ کو سڑک کے اوپر ایک لوہے کا پل نظر آئے گا۔ پل کیوں بنایا گیا اس کی اہمیت سے پہلے سڑک کو غور سے دیکھیں۔ سڑک دو رویہ ہے ایک سائیڈ سے ٹریفک جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف سے ٹریفک آ رہی ہے۔ دونوں سائیڈ پر ٹریفک اتنی زیادہ ہے کہ آپ سڑک کو آسانی سے عبور نہیں کر سکتے۔ آپ نے سڑک کو عبور کرنے کی کوشش کی، مگر دو تین دفعہ آگے جا کر گھبرا کر واپس آ گئے۔ پھر آپ نے وقفے کا انتظار کیا کچھ دیر کے بعد تھوڑا سا وقفہ ملا آپ نے دوڑ کر یا تیز چل کر سڑک پار کر لی۔ یہ سڑک کا ایک حصہ تھا۔ اب دوسرا حصہ عبور کرنے کے لئے پھر اسی خوف کے مقام پر کھڑے ہو گئے۔ وقفے کا انتظار کیا، ادھر اُدھر دیکھا اور منہ ٹریفک کی طرف کر کے تیز چلتے ہوئے یا دوڑتے ہوئے سڑک پار کر لی۔اس تیز چلنے یا دوڑنے کی کیفیت میں کسی چیز سے ٹکرا بھی سکتے تھے اور ٹھوکر لگنے سے گر بھی سکتے تھے۔ اس کیفیت میں کئی افراد کا اندازہ ٹریفک کی رفتار سے نہ ملا اور حادثہ ہو گیا، جس میں گاڑی والے کا اور سڑک پار کرنے والے کا جانی یا جسمانی نقصان ہو گیا۔ جانی نقصان کی تکلیف اپنی جگہ پر ایک علیحدہ ایشو ہے تا ہم انسان کی جان کا کوئی متبادل نہیں۔ دنیا کی کوئی بھی چیز جان کی قیمت نہیں ہوسکتی۔ آپ نے  سڑک پار کر کے اپنی جان محفوظ پاتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔ تب تک آپ کا سانس پھول چکا ہے۔ اس کیفیت کو دیکھتے ہوئے آپ کی جان کی حفاظت کے لئے حکومت نے اس سڑک پر پل بنا دیا۔ تا کہ آپ بحفاظت سڑک پار کریں، آپ بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کے لئے بھی خطرہ کا باعث نہ بنیں،آپ اس پل کو استعمال نہیں کرتے،اپنی اور دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈا لے ہوئے ہیں۔ آپ کی اس حالت کو دیکھ کر حکومت نے سڑک کے درمیان ایک دو یا اڑھائی فٹ کی دیوار کھڑی کر دی کہ آپ پل پر سے گذریں، مگر آپ نے وہ دیوار پھلانگنا شروع کر دی، جس سے سڑک پر حادثات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ آپ نے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو مزید پریشانی میں ڈال دیا کہ دیوار پھلانگتے وقت آپ کا اور ڈرائیور کا اندازہ درست نہیں ہوا، جس سے حادثے کے امکانات میں اضافہ ہوا۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر حکومت نے سڑک کی درمیانی دیوار پر لوہے کا جنگلا لگا دیا۔ آپ کا  پل سے گزرنا آپ کی حفاظت ہے۔ اس پر کچھ لوگوں نے پل سے گزرنا شروع کر دیا، جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو  اب بھی پل سے نہیں گزرتے اور جنگلا میں سے سر نکال رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے رویے اور سوچ کی آخری حد ہے جو  غلط ہے۔ ہمیں اس حد تک نہیں جانا چاہئے۔ ایک منظر اور ملاحظہ فرمائیں۔ 

ہماری جان کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے بعد ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہے۔ بد قسمتی سے گذشتہ کچھ سال سے ہمارے ملک میں بیماریوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ آپ ہسپتال جائیں تو ایک بیڈ پر دو دو مریض نظر آئیں گے۔ یہ چیز طبی ّ لحاظ سے بھی غلط ہے کہ مختلف بیماریوں کے مریض ایک بیڈ پر ایک دوسرے کے لئے خطرے کا باعث ہیں۔ حتیٰ کہ برآمدوں میں فرش پر پڑے ہوئے مریض دیکھے گئے،ان میں مریضوں کی کثیر تعداد ڈاکٹروں کی عدم توجہ اور لا پرواہی سے دم توڑ دیتی ہے۔ یہاں پر افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال میں کڑوی زبان کے ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ ہسپتال میں میٹھے نظر آتے ہیں،بلکہ اپنے ہسپتال میں حقیقی طور پر مسیحا نظر آتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ عورتوں کے ڈلیوری کیسز کو اپنے لالچ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ کئی نارمل ڈلیوری کو آپریشن کرکے اپنے لالچ کو تسکین دی گئی ہے۔ کہ نارمل ڈلیوری کے چارجز آپریشن کے چارجز سے بہت کم ہوتے ہیں۔ محض بھاری چارجز کی خاطر ایک عورت کے نارمل ڈلیوری کیس کو آپریشن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس سے ڈاکٹر کو تو بھاری فیس مل جاتی ہے، مگر عورت کو دو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک انفرادی، جبکہ دوسرا خاندانی ہے۔ انفرادی یہ کہ وہ مریض بن کر رہ جاتی ہے۔ ” احتیا ط“  اس کی زندگی کا حصہ بن کر رہ جاتی ہے۔ چلنے پھرنے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور سونے جاگنے میں احتیاط شامل ہو جاتی ہے۔ خاندانی یہ کہ قدرتی طور پر ہمارے معاشرے میں نرینہ اولاد کے بغیر عورت بے اولاد ہی سمجھی جاتی ہے،آپریشن کی صورت میں لڑکی پیدا ہونے سے خاندان میں مایوسی پھیل جاتی ہے۔ 

دونوں طرح کی صورتِ حال سے آپ نے جو رائے قائم کی وہ یقینا مثبت ہو گی، مگر ہم دانستہ طور پر ان چیزوں کو اپنے اوپر لاگو نہیں کرتے،بلکہ دوسروں پر افسوس کرتے ہیں۔یہ غلط ہے۔ ہمارے رویے اور سوچ ہماری توجہ کے طلب گار ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -