سیاپے سے دور چند(غیر) محترم لوگ

سیاپے سے دور چند(غیر) محترم لوگ
سیاپے سے دور چند(غیر) محترم لوگ

  

20 ستمبر اتوار کی رات کو ساڑھے نو بجے  اطلاعی گھنٹی بجی تو میرے لیے یہ غیر متوقع تھا(جی ہاں عشاء  سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد)۔ پتا چلا مکان کی اوپری منزل میں بجلی کا الگ میٹر لگانے محکمہ بجلی کے دو اہلکار آئے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے طارق نامی لائن مین سیڑھی لگا کر دو کھمبوں کے بیج لگے ٹرانسفارمر سے اوپر ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن کے ساتھ دوہتھڑ مذاکرات کر رہا تھا۔ میرے خدایا! کھمبوں کے نچلے حصے میں لگے کوئی درجن بھر دیگر میٹروں کی ننگی جھولتی تاروں سے وہ تو احتیاط سے گزر کر اوپر چڑھ گیا، پرمیرے لیے وہاں کھڑا ہونا اختلاج قلب کا باعث تھا۔ میرے خدا یا!اس کا تو رواں رواں موت سے نبرد آزما ہے، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ اسٹریٹ لائٹ زمین پر تو روشنی بکھیر رہی تھی لیکن اوپر ننگی تاروں پر کام کے لیے نیچے کھڑا اس کا ساتھی فیصل، ٹارچ سے مدد کر رہا تھا۔ آدھی رات اِدھر، دونوں نے کام ختم کیا۔ پسینے میں شرابور اور پھولی سانس کے ساتھ انہوں نے اوزار سمیٹے اور مجھ سے اجازت طلب کی۔ میں نے انہیں روک کر چند سوال کیے۔ معلوم ہوا، اس سال گرمیوں میں صرف پنڈی ریجن (اٹک تا جہلم) میں دس بارہ لائن مین ان تاروں پر کام کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔

یہ کام ہر سال اسی طرح ہوتا ہے۔ایسی اموات پر لواحقین کو کچھ رقم مل جاتی ہے لیکن زخمی یا معذور ہونے پر پلاٹ، نہ کوئی رقم۔ مرنے پر یہ لوگ شہید نہیں گردا نے جاتے۔ طارق صاحب ملک بھر کے اعداد و شمار تو نہیں دے سکے لیکن کراچی کو چھوڑ کر، بقول ان کے، ملک بھر میں بجلی کے ایسے حادثات میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لیکن حکام یا محکمے کی کسی بے قاعدگی کی شکایت کی جائے تو ان لوگوں کے خیال میں نہ تو ملک خطرے میں پڑتا ہے، نہ یہ لوگ جواب میں یہ سیاپا ڈالتے ہیں کہ وہ دیکھو، چلچلاتی دھوپ یا برفیلی ہواؤں میں ہمارے لائن مینوں کی وجہ سے تم لوگ سکون کی نیند سوتے ہو۔ نہ تو یہ لوگ بحث کرتے ہیں اور نہ اپنی کسی بے قاعدگی پر رنگ برنگے جواب تراشتے ہیں۔ کسی جرم میں عدالتیں ان کو سزا دیں تو جیل چلے جاتے ہیں لیکن دبئی یا کسی سرکاری اسپتال میں پناہ نہیں لیتے۔ یوں سال بھر میں سو سے زیادہ شہید اور ہزاروں معذور ہوجاتے ہیں لیکن کسی کو پتا تک نہیں چلتا۔

محکمہ پولیس بھی ان لوگوں سے کسی طرح کم نہیں۔ میں نے تین پولیس افسراں (انسپکٹر تا آئی جی) اور پاکستان فورم آن ڈیموکریٹک پولیسنگ سے رابطہ کیا۔ پتا چلا صرف اسلام آباد کے مختصر سے وفاقی علاقے میں 49 افراد تمغہ شہادت سے سرفراز ہو چکے ہیں۔ حالیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان، خیبر، پنجاب اور سندھ میں پولیس مقابلوں میں 7069 شہدا پولیس کے سکور بورڈ پر موجود ہیں۔محکمہ پولیس کے چوٹی کے تین افسران سے کسی نہ کسی شکل میں میرا رابطہ رہتا ہے۔ یہ آئی جی حضرات اور دیگر متعدد افسران ملک کی خدمت کرتے ہوئے ریٹائر ہوئے ہیں اور  آج کل اپنی بساط اور فہم کی حد تک ملک اور اسلام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

دوران ملازمت گریڈ بائیس کے ان اعلی افسران کو عدالتیں بلائیں تو خندہ پیشانی سے دستور اور قانون کا سامنا کرتے ہیں۔ نہیں سنا کہ عدالتی بلاوے  پر اس محکمے کے کسی بڑے سے بڑے افسر نے کبھی کسی ہسپتال یا دبئی میں پناہ لی ہو۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ بزدل نہیں ہوتے، دلیر اور جیدار ہوتے ہیں۔ ہم نے تو متعدد دفعہ آئی جی حضرات کو ہائی کورٹ میں کھڑے دستور اور قانون کا سامنا کرتے دیکھا ہے۔ یوں ہمارے دل میں ان کی عزت اور توقیر بڑھ جاتی ہے، کم نہیں ہوتی۔ یہ لوگ دستور، قانون، حقائق اور حتی کہ موت  کا سامنا کرتے ہیں،نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف اخبارات جم کر لکھتے ہیں۔ اس کے باوجود، میری معلومات کی حد تک ان میں سے یا ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے بیرون ملک اربوں تو کیا، چند لاکھ روپے کا معمولی سا کاروبار بھی  کبھی نہیں کیا۔ 

حالیہ کرونائی بحران میں تو سب کو پتا چل گیا لیکن فی الحقیقت طبی عملہ بھی ہمیشہ موت کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ انتہائی خطرناک متعدی امراض میں مبتلا مریضوں کی محض عیادت ہی میرے آپ کے لئے لرزا دینے والا عمل ہوتا ہے۔ تپ دق، ایڈز، انتھراکس، ڈینگی، ہیپاٹائٹس، کرونا اور متعدد دیگر مہلک متعدی امراض کے معالج، یہ ڈاکٹر،یہ نرسیں، یہ لیبارٹری اسٹاف اور دیگر طبی عملہ، یہ سب لوگ ان دیکھی اور جانی پہچانی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کام کرتے ہیں۔ مہلک اور سنسنی خیز آپریشن کے بعد یہ لوگ دستانے اتار کر کامیابی کی صورت میں تھکاوٹ کو نظر انداز کر کے مسکرا کر عزیزوں کو مبارکباد دیتے ہیں۔ حالیہ بحران میں متعدد ڈاکٹر کرونا مریضوں کا علاج کرتے کرتے شہید بھی ہوئے، مگر نہیں سنا پڑھا کہ انہوں نے کوئی سیاپا ڈالا ہو۔ لوگ ان کے خلاف ناجائز شکایت کریں تب بھی خندہ پیشانی سے ان کا سامنا کرتے ہیں، کوئی سیاپا نہیں ڈالتے ہیں کہ ہم اپنا آرام قربان کرکے اور اپنی جان دیکھے بھالے خطرے میں ڈال کر آپ لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔

اخبارمیں پڑھا کہ گہرے گٹر میں ایک خاکروب اترا، زہریلی گیس کے سبب ذرا دیر میں ہلاک ہو گیا۔ اسے نکالنے دوسرا اترا، وہ بھی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ ان میں سے کسی ایک کا بیٹا یا بھائی اترا تو اس کا بھی وہی حشر ہوا۔ نم آنکھوں کے ساتھ میں نے الیاس مسیح سے پوچھا:”کوئی اندازہ ہے, ہر سال ملک بھر میں کتنی ایسی اموات ہوتی ہیں“۔ وہ میرا منہ تکنے لگا: ”صاحب جی یہ جمع تفریق تو دفتروں میں شاید ہو، لیکن پنجاب کے کئی شہروں میں پھیلی ہماری برادری کے لوگ مرتے ہی رہتے ہیں“۔ خلاصہ یہ تھا کہ ان اموات پر معمولی سی رقم محکمہ دے دیتا ہے اور پھر رفقائے کار وغیرہ مل کر چندہ کرتے ہیں۔ یوں لواحقین کی کچھ مدد ہو جاتی ہے۔ محتاط سے اندازے کے مطابق یوں مرنے والے  افراد سالانہ سو سے زائد ہوتے ہیں۔ لیکن یوں خاک نشین ہوئے یہ ہلاک شدگان مٹی ہو گئی مٹی!

ملک میں ایسے متعدد دیگر شعبے بھی ہیں جو بغیر سیاپا ڈالے جان ہتھیلی پر رکھے کام کرتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، جیسے سائنس دان، ادویہ کے ماہرین اور حیوانات پالنے والے لوگ وغیرہ۔ ایک کالم میں ان سب کا تذکرہ نہیں ہو سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -