گھاتیں اور ملاقاتیں 

گھاتیں اور ملاقاتیں 
گھاتیں اور ملاقاتیں 

  

یہ سوال ابھی حل طلب ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ وضاحت پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے جو دو ملاقاتیں کیں، وہ نوازشریف اور مریم نواز سے متعلق تھیں …… اگر بقول محمد زبیر یہ معمول کی ملاقاتیں تھیں اور ان کے جنرل قمر جاوید باجوہ سے 40 سالہ مراسم ہیں، تو پھر عسکری ادارے کے سب سے بڑے ترجمان کو میڈیا پر آکر یہ کیوں بتانا پڑا کہ محمد زبیر سے ملاقاتیں ان کی اپنی درخواست پر ہوئیں اور ان کا موضوع نوازشریف اور مریم نواز کے معاملات تھے۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف نے انہیں صاف کہہ دیا کہ ان کے معاملات عدالتیں دیکھیں گی اور سیاسی فیصلے پارلیمینٹ کرے گی۔ اس سے یہ راز بھی واضح ہو جاتا ہے کہ محمد زبیر نے ان سے نوازشریف اور مریم نواز کے بارے میں ریلیف مانگا ہوگا، جس سے  آرمی چیف نے معذرت کر لی۔

ہر چیز کی اس کے پس منظر میں اہمیت ہوتی ہے پس منظر سے ہٹ کر جو بھی دیکھا جائے وہ بے معنی نظر آئے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس وقت کا انتخاب کیوں کیا اور سوال یہ بھی بنتا ہے کہ محمد زبیر نے اگست کے آخری ہفتے اور 7 ستمبر کو ملاقاتیں کیوں کیں؟ ان دونوں سوالات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ ایک دوسرے کے ردعمل نظر آتے ہیں پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے سب کو معلوم تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس ہونے جا رہی ہے، مگر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کانفرنس سے نوازشریف بھی خطاب کریں گے اور مریم نواز اس میں شریک ہوں گی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور نوازشریف تو بالکل ہی پس منظر میں چلے گئے تھے۔ اگست کے آخری ہفتے میں محمد زبیر چیف آف آرمی سٹاف سے ملتے ہیں جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے نوازشریف اور مریم نواز کے بارے میں بات چیت کی، مگر اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے۔ غالباً آرمی چیف نے انہیں وہی جواب دیا جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا پر آکر بتایا ہے، تاہم دوسری طرف سے کوششیں جاری رہیں اور محمد زبیر کی 7 ستمبر 2020ء کو آرمی ہاؤس میں چیف آف آرمی سٹاف سے دوبارہ ملاقات ہوئی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی اور آرمی چیف نے کسی قسم کی رعایت دینے سے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ غالباً یہی وہ نکتہ تھا، جہاں نوازشریف نے یہ فیصلہ کیا اب کھل کر جنگ لڑنے کا وقت آ گیا ہے اسی لئے انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی کال پر انہیں یقین دلایا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوں گے۔ یہ خبر سب کے لئے حیران کن تھی مگر آج جب بیک ڈور ڈپلومیسی کی خبریں سامنے آ چکی ہیں تو یہ خبر کچھ زیادہ حیران نہیں کرتی۔ نوازشریف کے لئے اب اس کے سوا کوئی راستہ بچا بھی نہیں تھا کہ وہ براہِ راست عسکری قیادت کے مقابل آ کھڑے ہوں۔

یہی وہ نکتہ ہے جو اس راز کو بھی آشکار کرتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد زبیر کی چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقاتوں کو کیوں طشت از بام کیا اور ساتھ ہی زور دے کر یہ کیوں کہا کہ ان ملاقاتوں کا موضوع نوازشریف اور مریم نواز تھے؟ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ عسکری قیادت نوازشریف کے بیانیہ کی حقیقت کو قوم کے سامنے بے نقاب کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے اور دوسری طرف وہ بالواسطہ رابطوں سے ریلیف بھی چاہتے ہیں، ایک طرف ان کا بیانیہ یہ ہے کہ ان کی لڑائی عمران خان سے نہیں، انہیں لانے والوں سے ہے اور دوسری طرف وہ خود ان لانے والوں سے اپنے ایلچی کے ذریعے معاملات حل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ نوازشریف اپنے خطاب میں براہ راست فوجی قیادت کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے تو شاید یہ راز فاش نہ کیا جاتا کہ ان کی طرف سے فوجی سربراہ کو مداخلت کرنے کی اپیل کی گئی۔ یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ فوج کا محکمہ تعلقاتِ عامہ ایک بے بنیاد مؤقف کو میڈیا پر پیش کرے گا۔ ان ملاقاتوں کی ضرور ریکارڈنگ بھی موجود ہو گی، جو گفتگو ہوئی اسے بھی محفوظ کیا جا چکا ہوگا، اس لئے محمد زبیر جو اب بری طرح پھنس گئے ہیں، جتنی مرضی وضاحتیں کرتے رہیں، اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ وہ نوازشریف کے کہنے پر آرمی چیف سے ملنے گئے، مگر مطلوبہ ریلیف حاصل نہ کر سکے۔

انہی دنوں اس ملاقات کا بھی بہت چرچا ہوا، جو اے پی سی سے پہلے پارلیمانی رہنماؤں کی عسکری قیادت سے ہوئی، اسے بھی چھپانے اور جھٹلانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن ایسی باتیں بھلا کہاں چھپتی ہیں؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کس قدر کھوکھلی اور اعتماد سے محروم ہے۔ وہ اگر اپنے ہی ملک کی فوج کے افسران سے ملتی ہے تو اسے ایسے چھپاتی ہے جیسے کوئی بہت بڑا جرم کر لیا ہو، حالانکہ کئی معاملات ایسے ہیں جو فوجی و سیاسی قیادت کو مل کر حل کرنے ہوتے ہیں۔ ابھی تو بچت ہو گئی کہ آئی ایس پی آر نے اس ملاقات کے بارے میں بھی کوئی خبر جاری نہیں کی، وگرنہ کچھ مزید راز بھی سامنے آ سکتے تھے۔ یا تو سیاستدانوں میں اتنی جرأت ہونی چاہئے کہ ایسے کسی بلاوئے پر انکار کر دیں، یا پھر خود آکر سب کو یہ بتائیں کہ ان کی عسکری قیادت سے کیا بات ہوئی، کن امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا تاکہ ایسی ملاقاتوں کے بعد جو افواہیں پھیلتی ہیں، ان کا تدارک کیا جا سکے۔ ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ والی صورتِ حال پیدا کر کے سیاستدانوں کو کچھ حاصل نہیں ہوتا الٹا ان کی جگ ہنسائی کا سامان بڑھ جاتا ہے۔ ماضی میں بلا شبہ یہ ہوتا رہا ہے کہ فوجی قیادت سے رات کی تاریکی میں ملاقاتیں کی گئیں اور مطلوبہ نتائج بھی حاصل کئے گئے۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان اس بارے میں خاصے متحرک اور مشہور تھے، مگر اب لگتا ہے منظر نامہ تبدیل ہو گیا ہے۔ آرمی چیف کا یہ کہنا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے اور محمد زبیر کو نوازشریف یا مریم نواز کے سلسلے میں کوئی مدد فراہم کرنے سے انکار کرنا اس امر کا اشارہ ہے کہ فوج اب کسی کو آؤٹ آف دی وے سپورٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ کیا اس تناظر میں نوازشریف کی تقریر فوجی قیادت کی سوچ میں تبدیلی لا سکتی ہے؟ اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں مل سکے۔

مزید :

رائے -کالم -