گلگت۔ بلتستان: پانچویں صوبے کی ضرورت کیوں؟(2)

گلگت۔ بلتستان: پانچویں صوبے کی ضرورت کیوں؟(2)
گلگت۔ بلتستان: پانچویں صوبے کی ضرورت کیوں؟(2)

  

جب یہ کالم لکھنا شروع کیا تھا تو بات گلگت۔ بلتستان (جی بی) کو ایک الگ صوبائی حیثیت دینے تک محدود تھی۔ عسکری قیادت نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو دعوت دی تھی کہ وہ  تشریف لائیں اور ان وجوہات کو سماعت فرمائیں کہ جو جی بی کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کے حق میں تھیں۔ چونکہ یہ وجوہات زیادہ تر عسکری اور جیو ملٹری مباحث پر مشتمل تھیں اس لئے وزیراعظم نے اس میں شرکت نہ کی۔ بعد میں اپوزیشن نے اسے ایک اور رنگ دے دیا اور الگ صوبے کے سوال پر اتفاق رائے نظر آنے لگا لیکن ساتھ ہی یہ پخ بھی لگا دی گئی کہ اس معاملے کو آنے والے انتخاب تک ملتوی کر دیا جائے۔ سوال یہ تھا کہ آیا یہ التوا اس خطے کی تیزی سے بدلتی صورتِ حال کے پیشِ نظر ایک صائب مطالبہ تھا یا ایسا کرنا(صوبے کا قیام) الیکشنوں سے پہلے ضروری تھا۔ فوج نے دیکھ لیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو انڈیا کی طرف سے کسی عاجل (Rapid) حملے کے اندیشے کا قطعاً کوئی شعور نہیں اور وہ صرف اپنے سیاسی مفادات و مضمرات کو ملک کی سلامتی پر مقدم سمجھتے ہیں۔

پھر ایک اور نیا شگوفہ کھلا…… ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بیان دے کر بقول ایک انگریزی اخبار ایک طوفان اٹھا دیا کہ نون لیگ کے ایک رہنما محمد زبیر نے دو ہفتوں میں (اگست کے اواخر اور ستمبر کے اوائل) دو بار آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ یہ ملاقاتیں ہوئیں جو طویل دورانیئے کی تھیں۔ محمد زبیر نے نوازشریف اور مریم نواز کے لئے ریلیف کی درخواست کی لیکن آرمی چیف نے اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ عدالتی معاملات میں سیاستدانوں کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اور سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں لے جا کر طے کرنا چاہیے……فوج کا اس سے کیا لینا دینا؟……

گزشتہ دو دنوں سے یہ موضوع میڈیا کا ’محبوب‘ بنا ہوا ہے۔ سارے نیوز چینل باجماعت اس پر نقد و نظر کر رہے ہیں اور اس اصل موضوع کو بیک برنر پر رکھ دیا گیا ہے کہ جی بی کو فی الفور ایک الگ صوبہ بنانے کی ضرورت کیوں ہے۔ تو آیئے قارئین ہم اس معاملے پر بحث کرتے ہیں کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو یہ ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے کہ جی بی کو ایک الگ صوبہ بنا دیا جائے (اور الیکشنوں کا انتظار نہ کیا جائے)۔ ویسے بھی کیا فوج کو معلوم نہ تھا کہ یہ الیکشن ہونے والے ہیں اور سیاسی رہنماؤں کو قبل از انتخابات اس صوبے کا قیام ’منظور‘ کر لینا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ بعد میں پاکستان کو کفِ افسوس ملنا پڑے!

ہندوستان کے اراکینِ حکومت ہوں، فوجی ہوں، صحافی ہوں، دانشور ہوں، تھنک ٹینک ہوں یا اپوزیشن کے رہنما سب کے سب ایک تواتر سے اور ایک طویل عرصے سے اس بیانیئے کو ہوا دے رہے ہیں کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی رہنما جب یہ نعرہ لگاتے ہیں: ”کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہے“ تو اس کا انڈین کاؤنٹر بھی یہی ہے کہ ”ہاں واقعی کشمیر انڈیا کا ہے اور سارے کا سارا ہے“…… اس ”سارے کا سارا“ کا مطلب وہ یہ نکالتے ہیں کہ جب 26اکتوبر کو مہاراجہ کشمیر نے اپنی ریاست کا الحاق انڈیا سے کر دیا تھا تو مہاراجہ کی ریاست کشمیر (ساری کی ساری) انڈیا کا حصہ بن گئی تھی۔ 73،74 برس تک پاکستان نے آزادکشمیر، سکردو، گلگت، ہنزہ، چلاس، بونجی اور یٰسین کے علاقوں پر جو ’غاصبانہ قبضہ‘ کر رکھا ہے وہ غلط ہے اور وہ سارے علاقے ہمارے ہیں اور ہم انہیں ہندوستان میں ضم کرکے دم لیں گے…… دوسری طرف لداخ اور اقصائے چین بھی ہندوستان کا ہے اور اقصائے چین پر چین نے جو قبضہ کیا ہوا ہے وہ بھی غاصبانہ ہے…… یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے ہمارے کئی آرمی چیف پاکستان اور چین سے بیک وقت ”دو محاذوں کی جنگ“ (Two Fronts War) لڑنے کا ذکر کرتے رہے ہیں …… اللہ اللہ خیر سلا!……

آیئے اب ان ’بڑھکوں‘ کی کچھ تفصیل جانتے ہیں:

15جون 2020ء کو چین نے بھارت کے 20سورما ہلاک کرکے ان کی لاشیں انڈیا کے حوالے کر دیں تو ساری بھارتی قوم کا مورال پاتال تک چلا گیا۔ نریندر مودی نے اس درد کا پہلا علاج یہ کیا کہ 4جولائی 2020ء کو لداخ کے ایک ہوائی اڈے نیمو(Nimu) میں اترے، اپنے سورماؤں سے خطاب کیا اور فرمایا: ”توسیع پسندی کا دور ختم ہو چکا۔ یہ دور ڈویلپ منٹ کا ہے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ توسیع پسندی کے نظریئے کی حامل قوتیں یا تو شکست کھا گئیں یا واپس چلی گئیں“۔

پھر جناب مودی نے 15اگست 2020ء کو یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ’توسیع پسندی‘ کی رٹ دوبارہ دہرائی اور فرمایا: ”LOCسے لے کر LAC تک جب بھی کسی نے انڈیا کی خودمختاری کو چیلنج کیا ہے، ہمارے سولجرز نے اس کو اس کی بھاشا میں جواب دیا ہے…… دہشت گردی ہو یا توسیع پسندی، انڈیا ان دونوں سے نبردآزما ہے“۔

اب شری مودی کے بعد شری امیت شاہ (وزیر داخلہ) کا بیان بھی سن لیجئے۔6اگست کو پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب میں جموں اور کشمیر کی بات کرتا ہوں تو اس میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور اقصائے چین بھی شامل ہیں۔ ہم اس خطے کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے“۔

اور اب بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر کا یہ بیان بھی دیکھ لیں جو مودی اور امیت شاہ کے بیانات سے زیادہ صریح اور واضح ہے۔ فرماتے ہیں: ”پاکستانی مقبوضہ کشمیر (POK)، ہندوستان کا حصہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایک دن ہم اس پر فزیکل قبضہ کر لیں گے“۔

اب بھارتی جرنیلوں کی بڑھکیں بھی گوارا کر لیں۔ جنرل بپن راوت جو انڈیا کے سابق آرمی چیف اور موجودہ چیف آف ڈیفنس سٹاف ہیں، انہوں نے گزشتہ برس ستمبر میں فرمایا تھا: ”انڈین آرمی، پاکستان سے وہ کشمیر چھین لینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے جس پر پاکستان نے پون صدی سے قبضہ کر رکھا ہے“۔

ایک اور سابق انڈین آرمی چیف، جنرل وی کے سنگھ (V.K. Singh) جو آج کل مودی سرکار کی کابینہ میں وزیر ہیں انہوں نے ایک اور عجیب و غریب طرح کا بیان دیا اور کہا: ”ہماری گورنمنٹ کے پاس پاکستانی مقبوضہ کشمیر کو حاصل کرنے کی ایک سپیشل سٹرٹیجی موجود ہے۔ لیکن اس قسم کی باتیں پبلک میں ڈسکس نہیں کی جاتیں“۔

تلک دیواشیر، انڈیا کے قومی سلامتی مشاورتی بورڈ کے ایک اہم رکن ہیں اور پاکستان پر درجن بھر کتب کے مصنف ہیں۔ ان کا فرمانا ہے: ”انڈیا کو جغرافیائی حدود کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور یہ جو ہم موسم کا حال بتانے کے لئے مظفر آباد اور گلگت وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ اب ہمیں اس دائرے باہر نکل کر فزیکل ایکشن کرنا چاہیے“……

BJP کے جنرل سیکرٹری کا نام رام مادھو (Ram Madhav) ہے، وہ چین کے بارے میں فرماتے ہیں: ”ہمارا کلیم LAC تک نہیں بلکہ اس سے آگے نکل جاتا ہے۔ جب ہم جموں اور کشمیر کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھی شامل ہے اور جب یونین ٹیری ٹری (Territory) کا نام لیتے ہیں تو اس میں گلگت۔ بلتستان اور اقصائے چین شامل ہوتا ہے“۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان بارہا مودی کی مدر پارٹی (Mother Party) آر ایس ایس (RSS) کا ذکر کر چکے ہیں …… اسی RSS کے چیف، موہن بھگوت کا دعویٰ ہے: ”تمام کا تمام کشمیر بشمول میرپور، مظفرآباد، گلگت اور بلتستان انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے“……یعنی وہی بات کہ جو ہمارے نعرے کی باز گشت ہے:

کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہے

بہت سے قارئین پریم شنکر جھا کے نام سے واقف ہوں گے۔ وہ نہ صرف یہ کہ ایک ماہر اقتصادیات ہیں بلکہ وزیراعظم کے اطلاعاتی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ بہت معروف صحافی ہیں۔ ہندوستان ٹائمز، دی ٹائمز آف انڈیا، اکنامک ٹائمز اور فنانشل ایکسپریس جیسے موقر بھارتی اخبارات کے ایڈیٹورل بورڈز میں رہ چکے ہیں۔ درجن بھر کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ان کی ایک کتاب ”کشمیر 1947ء“ بہت مشہور ہوئی۔ آج کل ایک معروف بھارتی اخبار ”بزنس ڈیلی“ کے انتظامی ایڈیٹر ہیں …… ان کی یہ تحریر ہم پاکستانیوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہیے:

”گزشتہ 75برس کی تاریخ کو نظر انداز کرتے ہوئے مودی حکومت ایک بڑا فیصلہ کر چکی ہے۔ وہ نہ صرف گلگت بلکہ باقی ’پاکستانی مقبوضہ کشمیر‘ بھی پاکستان سے چھیننے کی دعویدار ہے۔ چین کو اپنی بقا کے لئے CPEC اور BRI کی ضرورت ہے۔ چنانچہ تصور کیجئے کہ جب مودی حکومت نے GB اور POK کو واپس لینے کا عزم کیا ہو گا تو چین میں کیا کھلبلی مچی ہو گی۔ چین کی نگاہیں اب انڈیا کے دو تین بڑے اہداف پر ہیں …… ایک دولت بیگ اولدی پر قبضہ اور دوسرے ان سڑکوں اور پلوں پر قبضہ جو انڈیا نے گزشتہ 6برس میں ڈربوک، جھیل پاگونگ اور لیہ کو آپس میں لنک کرنے کے لئے تعمیر کی ہیں۔ اور درۂ قراقرم سے صرف 13کلومیٹر (8میل) کے فاصلے پر ہیں۔ درۂ قراقرم کے آس پاس کی زمین ہموار ہے۔ اس لئے یہ اہداف چین کی آسان رسائی کی حدود میں ہیں۔ اس میں بھارت کی 155ایم ایم بوفور توپیں اور چین کی 110ایم ایم پورٹیبل ہوٹزرز (چھوٹی توپیں) بھی شامل ہیں“۔

پریم شنکر جھا کا مطلب ہے کہ اگر انڈیا کے پاس 155 ایم ایم بو فور گنیں ہیں توچین کے پاس ان کے توڑ کے لئے 110ایم ایم دہانے کی ہوٹزرز ہیں۔

لیجئے قارئین! ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے…… انڈین سیاستدانوں، صحافیوں اور مصنفوں کی تحریروں پر مزید اس طرح کے درجن بھر کالم لکھے جا سکتے ہیں …… لیکن مرا سوال یہ ہے:

مرے اہلِ وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہے؟

مزید :

رائے -کالم -