جس سوسائٹی میں زندگی کی قدر نہ ہو وہاں ایسے ہی کرائم ہوں گے، حضور اکرم کی احادیث سے ہی لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کیس میں ریمارکس

جس سوسائٹی میں زندگی کی قدر نہ ہو وہاں ایسے ہی کرائم ہوں گے، حضور اکرم کی ...
جس سوسائٹی میں زندگی کی قدر نہ ہو وہاں ایسے ہی کرائم ہوں گے، حضور اکرم کی احادیث سے ہی لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چڑیا گھر کے جانوروں کی ہلاکت پر توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ جس سوسائٹی میں زندگی کی قدر نہ ہو وہاں ایسے ہی کرائم ہوں گے، جس طرح کے کرائم آج کل ہم خواتین اوربچوں کے حوالے سے سن رہے ہیں یہ بھی مائنڈ سیٹ ہے،اس معاشرے میں مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، حضور پاک کی احادیث سکول نصاب میں شامل کرنے کےلئے عدالت نے فیصلہ دیا تھا،حضور اکرم کی احادیث سے ہی لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، بچوں کو سکولوں میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے پڑھایا جانا چاہئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں چڑیا گھر کے جانوروں کی ہلاکت پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جس سوسائٹی میں زندگی کی قدر نہ ہو وہاں ایسے ہی کرائم ہوں گے، جس طرح کے کرائم آج کل ہم خواتین اوربچوں کے حوالے سے سن رہے ہیں یہ بھی مائنڈ سیٹ ہے، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ جو زندگی کی قدر کریگا وہ جانور کو بھی کچھ نہیں کہے گا،جو جانور کا خیال رکھے گا وہ بچے اور خاتون کا بھی خیال رکھے گا، گھناؤنا جرم نہیں کریگا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ سے استفسار کیاکہ ہاتھی اور ریچھوں کا کیا بنا؟،چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ انیس الرحمان نے کہاکہ کاون کوکمبوڈیا بھیجنے کی تیاری مکمل ہورہی ہے،معائنے کے بعد ہاتھی کو سفر کےلئے بالکل فٹ قرار دیا گیا، ہمارے پاس کوئی سنکچوری نہیں، ہاتھی کو ہر صورت کمبوڈیا بھیجنا ہی پڑیگا۔چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ نے کہاکہ ریچھ رکھنے کی ذمے داری کسی صوبے نے نہیں لی،شرمندہ ہوکر کہہ رہا ہوں کہ ہمیں ریچھ بھی بیرون ملک بھیجنے پڑیں گے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہ شیر بھی چڑیا گھر میں بہت تشویشناک حالت میں تھے، اس معاشرے میں مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، حضور پاک کی احادیث سکول نصاب میں شامل کرنے کےلئے عدالت نے فیصلہ دیا تھا،حضور اکرم کی احادیث سے ہی لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے،بچوں کو سکولوں میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے پڑھایا جانا چاہئے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ڈیڑھ سال میں عدالت کے سامنے آیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بالکل ہمدردی نہیں ، جو جانور اللہ نے اونچے پہاڑوں میں رہنے کےلئے بنایا ہم نے یہاں لا کر بند کر دیا ، اب بہت سی ترقی ہو چکی ہے ، بچوں کو تھیٹر میں جانوروں کے ڈرامے دکھائیں، یہ عدالت فیصلہ دے چکی کہ اب چڑیا گھر ہو ہی نہیں سکتا، بچوں میں ہمدردی پیدا کریں۔

عدالت نے بیرون ملک سے آئے ایکسپرٹ ڈاکٹر عامر خلیل کو عدالتی معاون مقررکردیا، ڈاکٹر عامر خلیل کو بطورعدالتی معاون پیر کے روز طلب کرلیاگیا،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ چڑیا گھر کی جگہ بچوں کی تفریح کیلئے کچھ اور بنایا جاسکتا ہے،اگرانسانی ہمدردی کا پہلو زندہ ہوتا تو دنیا میں دہشتگردی بھی ہوتی ، ریچھ برف کے عادی ہیں ہم نے لاکر ان کو گرمی میں ڈال دیا،فیصلے میں ایک چیز خود نہیں لکھی کہ ہاتھی کے نام پر کیا گیا چیزیں لائی جا رہی تھی ، عدالت نے وائلڈ لائف بورڈ کو ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ پہلی ترجیح جانوروں کو تکلیف سے نکالیں ،توہین عدالت معاملے کو بعد میں دیکھ لیں گے پہلے جانوروں کی تکلیف ختم کریں ،عدالت نے چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت اور توہین عدالت کیس سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -