عمر اکمل کرپشن کیس کی درخواست، عالمی ثالثی عدالت نے پی سی بی کو زوردار جھٹکا دیدیا، حیران کن خبر آ گئی

عمر اکمل کرپشن کیس کی درخواست، عالمی ثالثی عدالت نے پی سی بی کو زوردار جھٹکا ...
عمر اکمل کرپشن کیس کی درخواست، عالمی ثالثی عدالت نے پی سی بی کو زوردار جھٹکا دیدیا، حیران کن خبر آ گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی ثالثی عدالت نے قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کرپشن کیس میں کسی نزدیکی ملک میں سماعت کی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق کرکٹر عمر اکمل کرپشن کیس میں عالمی ثالثی عدالت نے اخراجات میں کمی کی خاطر کسی نزدیکی ملک میں سماعت سے متعلق پی سی بی کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ ویڈیو لنک سماعت کی اپیل بھی مسترد ہونے کے امکانات ہیں۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے ویڈیو لنک اپیل کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے اور ذرائع کے مطابق عمر اکمل کے وکلا ویڈیو لنک سماعت کے زیادہ حق میں نہیں ہیں تاہم اس کا فیصلہ عالمی ثالثی عدالت نے ہی کرنا ہے۔ 

واضح رہے کہ 20 فروری کو پی سی بی نے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری تحقیقات شروع کی گئی تھیں جبکہ اس معطلی کی وجہ سے عمر اکمل پاکستان سپر لیگ 5 میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔

بعد ازاں یہ خبریں سامنے آئیں کہ عمر اکمل کو بکی نے میچ فکسنگ کی پیشکش کی تاہم وہ اس کی اطلاع بروقت پی سی بی کو دینے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد عمر اکمل کے فون کا ڈیٹا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنے پاس رکھ لیا اور عمر اکمل کو طلب کرکے ان کے دونوں فونز قبضے میں لئے۔ 

ریکارڈ کے مطابق پی ایس ایل 2020سے پہلے بکی نے عمر اکمل سے رابطہ کیا اور انہیں فکسنگ کی پیشکش کی۔ ان ٹھوس شواہد کے ہاتھ لگنے کے بعد پی سی بی نے کارروائی کی اور پھر عمرل اکمل نے بھی بکی سے رابطہ ہونے کا اعتراف کرلیا تاہم پی سی بی یا ٹیم مینجمنٹ کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر ان کی معطلی برقرار رکھی گئی۔

20 مارچ کو کرکٹر عمر اکمل پر اینٹی کرپش کوڈ کی خلاف ورزی کی فردجرم عائد کی گئی اور عمر اکمل کو 31 مارچ تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی گئی۔ ٹیسٹ کرکٹر کو اینٹی کرپشن کوڈ 4.2.2 کے تحت چارج کیا گیا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دو بار قانون کی خلاف ورزی کی۔ پی سی بی انٹی کرپشن کوڈ کا آرٹیکل 4.2.2 کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجی لنس اینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ نہ کرنا ہے۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے عمر اکمل کے خلاف کیس کی سماعت نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ڈسپلنری پینل کے چیئرمین جسٹس (ر) فضل میراں چوہان نے کی اور 27 اپریل کو کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے 3 سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی جس کے باعث ان پر تین برس کیلئے ہر طرح کی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے۔ 

پی سی بی نے عمر اکمل کی سزا میں کمی کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں اپیل دائر کی تھی اور پھر عمر اکمل نے بھی اس معاملے پر عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا اور آج عالمی ثالثی عدالت نے کسی نزدیکی ملک میں اس معاملے کی سماعت سے متعلق پی سی بی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ 

مزید :

کھیل -