بینک سے قرض لینانیب کاکیس کیسے ہوگیا؟، جسٹس قاضی امین 

بینک سے قرض لینانیب کاکیس کیسے ہوگیا؟، جسٹس قاضی امین 
بینک سے قرض لینانیب کاکیس کیسے ہوگیا؟، جسٹس قاضی امین 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بینک ڈیفالٹ کے ملزم کی بریت کیخلاف نیب اپیل پرجسٹس قاضی امین نے کہاکہ جس وقت قرض دیئے گئے ریاست سورہی تھی؟،ان قرضوں میں سارے بڑے آ دمی ہیں،بینک سے قرض لینانیب کاکیس کیسے ہوگیا؟۔

سپریم کورٹ میں بینک ڈیفالٹ کے ملزم ارشدعلی کی بریت کیخلاف نیب اپیل کی سماعت ہوئی،جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس قاضی امین نے کہاکہ احتساب کاعمل صرف قانون کے مطابق ہی ہوناچاہیے،جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ سلیکٹواحتساب عدالتوں کیلئے پریشانی کاباعث بنتاہے۔

عدالت نے کہاکہ ہزاروں لاکھوں بینک ڈیفالٹرزہیں،کیانیب نے سب کیخلاف کارروائی کی؟،جسٹس قاضی امین نے کہاکہ جس وقت قرض دیئے گئے ریاست سورہی تھی؟،ان قرضوں میں سارے بڑے آ دمی ہیں،بینک سے قرض لینانیب کاکیس کیسے ہوگیا؟۔

سپیشل پراسیکیوٹرنیب نے کہاکہ قرض بورڈ آف ڈائریکٹرزکی منظوری کے بغیرجاری کیاگیا،اصل قصور وارذوالفقارتھاجوفوت ہوگیا،جسٹس قاضی امین نے کہاکہ احتساب کے عمل میں پسند نہ پسندنہیں ہونی چاہئے،نیب نے کتنے بینک نادہندگان کیخلاف ریفرنسزبنائے؟،یہ کیس نیب کے دائرے میں نہیں آتا،

جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ نیب منظورنظرلوگوں کوچھوڑدیتاہے،نیب نے کہاکہ ملزم نے پلی بارگین کے تحت 56 لاکھ واپس کیے،جسٹس قاضی امین نے کہاکہ کیس واپس لینے کیلئے ہدایات لے لیں،کیس کی مزیدسماعت آ ئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -