سعودی عرب مزدوری کیلئے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ایئر لائنز کا کھلواڑ، دراصل کیا کچھ چل رہا ہے ؟ تمام کہانی سامنے آگئی

سعودی عرب مزدوری کیلئے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ایئر لائنز کا کھلواڑ، ...
سعودی عرب مزدوری کیلئے جانے والے پاکستانیوں کے ساتھ ایئر لائنز کا کھلواڑ، دراصل کیا کچھ چل رہا ہے ؟ تمام کہانی سامنے آگئی
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

لاہور (کالم: میاں اشفاق انجم) وزیراعظم پاکستان جنابِ عمران خان ہمیشہ بیرون ملک رہنے والوں کو پاکستان کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں نے دیوالیہ ہونے سے پاکستان کو بچایا ہے یقینا پاکستان سے

محبت کرنے والا ہر فرد وزیراعظم کے بیان کی تائید کرتا ہے اور بیوی بچوں سے دور رہ کر اپنے خاندانوں کی کفالت کے لئے دیارِ غیر میں محنت مزدوری کرنے والے وطن ِ عزیز کا قابل ِ قدر سرمایہ ہیں، پاکستانی معیشت کو مشکل وقت میں سہارا دینے والوں کا کورونا اور لاک ڈاؤن کے دوران کیا حشر ہوا، ایسا محسوس ہوتا ہے ہمارے حکمران اس سے بے خبر ہیں۔ میرے قارئین اس بات سے آگاہ ہیں کورونا کی وبا سے پہلے دنیا بھر سے بالعموم اور سعودیہ سے بالخصوص سالانہ چھٹیوں پر پاکستان آنے والے ہزاروں افراد ایئر لائنز اپریشن معطل ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پھنس کر رہ گئے تھے، چھ ماہ جمع شدہ ”پونجی“ رقم بھی خرچ کرنے کے بعد پورے پورے خاندان فاقہ کشی کا شکار ہو گئے ہیں۔

روزنامہ پاکستان میں میاں اشفاق انجم نے اپنے کالم میں لکھا کہ ایسے حالات کا سامنا ٹریول ایجنٹس، عمرہ اور حج آرگنائزر کو رہا ہے،90فیصد حج آر گنائزر اپنا اور اپنے دفتر کا خرچ حج اور عمرہ سے چلاتے تھے، عمرہ بھی رک گیا،حج بھی نہ ہو سکا، دفتر بند ہو گئے، ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو گئے، حرمین شریفین کے دروازے بند ہونے، طواف اور عمرہ کی سعادت سے محروم رہنے والے لاکھوں پاکستانی اللہ کی بارگاہ میں سرسجود تھے، معافی مانگ رہے تھے کہ کرونا جیسی مہلک بیماری سے نجات اور حرمین شریفین کے دروازے امت مسلمہ کے لئے کھولنے کی درخواست کر رہے تھے۔ یہی حال سالہا سال سے سعودیہ میں ملازمت کرنے والوں کا تھا، جن کے ویزے ایکسپائر ہو گئے تھے۔

سعودی کفیل کی طرف سے خاموشی تھی، جس کی وجہ سے سعودیہ میں مزدوری کرنے والے ہزاروں افراد قرب کا شکار تھے، رہی سہی کسر امریکی ورلڈ آرڈر پر ہونے والے عمل درآمد اور عالمی تناظر کی ہر روز ہونے والی تبدیلی نے پوری کر دی تھی، عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے نئے معاہدے بھی حالت مخدوش کر رہے تھے۔مایوسی کے دور میں سعودی حکومت کی طرف سے 90واں قومی دن کے موقع پر اہل ِ پاکستان کو سعودیہ میں کام کرنے والے اقامہ ہولڈر کے لئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور

سعودی حکومت نے اہل ِ پاکستان کے اقامہ ہولڈر کو30ستمبر تک وطن واپس آنے کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی4اکتوبر سے مرحلہ وار عمرہ شروع کرنے کے لئے ایپ متعارف کرا دی گئی ہے، عمرہ پہلے مرحلے میں سعودی شہریوں کے لئے محدود تعداد میں، پھر اقامہ ہولڈر کے لئے اور نومبر سے دنیا بھر سے کرونا کے حالات کا جائزہ اور حتمی رپورٹ سے مشروط کرتے ہوئے محدود عمرہ شروع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

بات کر رہا تھا سعودیہ میں مزدوری کرنے والوں کی مشکلات کی، اللہ اللہ کر کے انہیں واپس مزدوری پر جانے کی نوید ملی تو ساتھ انہیں کورونا ٹیسٹ اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے فوری ٹکٹ خرید کر واپس سعودیہ آنے کی ہدایت کی گئی، ان حالات میں گورنمنٹ آف پاکستان کو چاہئے تھا کہ سعودیہ جانے والے مزدور بھائیوں کو پروٹوکول کے ساتھ روانہ کرنے سمیت ٹریول ٹریڈ کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا میکنزم ترتیب دیتے، جس میں آٹھ ماہ سے ڈوبتے تیرتے ٹریول ایجنٹ کو بھی ریلیف مل جاتا

اور سعودیہ واپسی کے منتظر ادھار اٹھا کر ٹکٹ خریدنے کے خواہش مند اوورسیز پاکستانیوں کو بھی ریلیف مل جاتا،اس کے لئے قومی ایئر لائنز پی آئی اے کو وزیراعظم یا وزیر ہوا بازی بلاتے اور سارا پروگرام تشکیل دیتے،کیونکہ ٹریول، عمرہ، حج ٹریڈ بھی آٹھ ماہ سے وزیراعظم کی طرف سے ریلیف پیکیج کے ساتھ ایئرلائنز اپریشن بحال ہونے کے منتظر تھے۔ المیہ ہے ہمیشہ کی طرح ایسا نہ ہو سکا مخصوص لابی اور مافیا نے کام دکھایا اور صرف اپنا پیٹ آگے رکھا گیا، پہلے مرحلے میں قومی ایئر لائنز نے اپنے بزنس پارٹنر ٹریول ایجنٹس کو آؤٹ کیا اور براہِ راست ٹکٹ کاؤنٹر سے بنوانے کی تجویز حکومت سے منظور کروائی۔

پی آئی اے کی دیکھا دیکھی دوسری ایئر لائنز نے بھی ایسے ہی فیصلے کئے اور ٹریول ایجنٹ کے سٹاک ختم کر کے ٹکٹ سسٹم میں اوپن کرنے کی بجائے سسٹم بلاک کر کے کاؤنٹر سے بکنگ اور ٹکٹ کنفرم کرنے کا پالان متعارف کرا دیا اور پی آئی اے نے بہتی گنگا میں اکیلے ہاتھ دھونے کی بجائے سعودیہ جانے والی دیگر ایئر لائنز کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مانپلی قائم کر لی اور پھر جو پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز میں ایک ہفتے میں اندھیر نگری اور ادھم دیکھنے کو ملا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

ایئر لائنز نے اپنے بزنس پارٹنر کو یکسر نظر انداز کر کے سارے منظر سے ہی آؤٹ کر دیا اور اپنے خود کفیل ہونے پر پی آئی اے نے ایک ہفتے میں چار دفعہ کرایہ بڑھایا، پہلے کرایہ68ہزار رکھا گیا،24گھنٹے بعد83 ہزار، پھر24گھنٹے بعد ایک لاکھ12ہزار اور پھر گزشتہ روز ایک لاکھ28ہزار کر دیا گیا، ٹکٹ دوبارہ ایشو کرانے کا جرمانہ پہلے100ڈالر، پھر 150 ڈالر، پھر200ڈالر اور اب350ڈالر کر دیا گیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے ایئر لائنز کے دفاتر میں ٹریول ایجنٹس کا داخلہ بند ہے،30 ستمبر کی آخری تاریخ کی وجہ سے سعودیہ جانے والوں کو خواری کا سامنا ہے یہ بھی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ لمحہ ء فکریہ ہے قومی ایئر لائنز کے لاہور ریجن میں چھ سال پہلے والا مافیا پھر سرگرم ہے۔

روزنامہ ”پاکستان“ کو تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حج کی ٹکٹوں میں لوٹ مار کرنے والا گروہ پھر سرگرم ہو گیا ہے، ایک لاکھ21ہزار والی ٹکٹ پونے دو لاکھ میں مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے، غریب مزدوروں کو بلیک میل کرنے والے نام نہاد ٹریول ایجنٹ کی ریکارڈنگ تک سوشل میڈیا میں چل رہی ہے۔ گزشتہ رات مشیر وزیراعظم زلفی بخاری کے نوٹس اور سعودی حکومت سے مزید فلائٹس کی اجازت حاصل کرنے کے بعد سعودیہ جانے کے منتظر ہزاروں پاکستانیوں کو حوصلہ ملا ہے۔ 21فلاٹس 30ستمبر تک چلیں گی، بظاہر اقامہ ہولڈر کی پریشانی ختم ہو جائے گی، عملاً ایسا ممکن نہیں ہے، حکومت کو 30ستمبر کی آخری تاریخ میں 15دن کی مزید مہلت کی درخواست سعودی حکومت کو کرنا چاہئے تاکہ سب کام افراتفری کی بجائے آرام سے ہو سکیں۔

زلفی بخاری کو پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنزکو ہدایت کرنا چاہئے کہ اپنے بزنس پارٹنر ٹریول ایجنٹس کا نظام بحال کرے، کاؤنٹر پر 7فیصد اضافی وصول کیا جانے والا ٹیکس بھی ختم کرے اور وزیراعظم عمران خان بلیک میل کر کے ایک لاکھ21ہزار والی ٹکٹ ڈیڑھ اور دو لاکھ میں فروخت کرنے والوں کو بھی گرفت میں لائیں۔ پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز کا آٹھ ماہ کورونا کے اپریشن معطل ہونے کا خسارہ سعودیہ جانے والوں سے پورا کرنے کی بجائے باقی عمرہ شروع ہونے کا انتظار کر لیں، مسلمان مشکل میں دوسرے کا سہارا بنتا ہے، مرے ہوئے کو مارنا ظلم ِ عظیم ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -