بھارت مخالف بیانیے کو تقویت پہنچانے  کےلئے پاکستان کو کیا کرنا ہو گا ؟ ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزارت خارجہ کو نئی رہ دکھا دی

 بھارت مخالف بیانیے کو تقویت پہنچانے  کےلئے پاکستان کو کیا کرنا ہو گا ؟ ...
 بھارت مخالف بیانیے کو تقویت پہنچانے  کےلئے پاکستان کو کیا کرنا ہو گا ؟ ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزارت خارجہ کو نئی رہ دکھا دی

  

اسلام آ باد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر برائے انسانی حقو ق  ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت مخالف بیانیے کو تقویت پہنچانے کیلئے روائتی  سفارتکاری کافی نہیں ،بھارت کو عالمی سطح پر جواب کیلئے انسانی حقوق ڈپلومیسی ضروری ہے ،کشمیر میں عورتوں بچوں سے زیادتی کے معاملے کو اقوام متحدہ میں موثر طریقے سے نہیں اٹھایا گیا،وزارت خارجہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو موثر طریقے سے اٹھائے،خارجہ پالیسی کے سٹریکچرکو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،،اسلامو فوبیا پر موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے،ہمیں دفاعی سے نکل کر جارحانہ خارجہ پالیسی پر جانا ہوگا ۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو پاکستان کیلئے انسانی حقوق سفارتکاری میں چیلنجز اور مواقعوں پر بریفنگ دیتے ہوئےوزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ  رواِئتی خارجہ پالیسی کے ہوتے ہوئے عالمی فورمز پر انسانی حقوق سفارتکاری میں کامیابی ممکن نہیں،بھارت کے ساتھ عالمی سطح پر جواب کیلئے انسانی حقوق ڈپلومیسی ضروری ہے،وزیر اعظم نے عالمی سطح پر ہندو توا پالیسی کو بے نقاب کیا،5 اگست کے بھارت کے بیانیے کو عالمی سطح پر شکست ہوئی،پاکستان کا بیانیہ کامیاب رہا،بھارت مخالف بیانیے کو تقویت پہنچانے کیلئے رواِئتی  سفارتکاری کافی نہیں،کشمیر میں ادویات اور خوارک کی قلت پہچانے کے حوالے سے انسانی حقوق کمیشن کو خطوط لکھے،کشمیر میں عورتوں بچوں سے زیادتی کے معاملے کو اقوام متحدہ میں موثر طریقے سے نہیں اٹھایا گیا،وزارت خارجہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو موثر طریقے سے اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے سٹریکچرکو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،روائتی سفارتکاری سے ہٹ کر پالیسی بنانا ہوگی،نئی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کے نمائندوں میڈیا اور دیگر شراکت داروں کو شامل کیا جائے۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ میں انسانی حقوق کونسل میں بڑی مشکل سے گئی، وزارت خارجہ کو سمجھایا کہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے مجھے جانا ہوگا،اسلامو فوبیا پر موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، یورپ کہتا ہے ماسک پہن لیں مگر نقاب نہیں کرنا،وزارت خارجہ کو انسانی حقوق پر موثر کردار ادا کرنا ہوگا، ہمیں دفاعی سے نکل کر جارحانہ خارجہ پالیسی پر جانا ہوگا۔ڈاکٹر شیریں مزاری  نے کہاکہ کشمیر پر وزیر اعظم موقف کلیئر ہےلیکن متعلقہ فورمز اس میں کام نہیں کر رہے،وزیر خارجہ نے فارن ایڈوائزری بورڈ میں مجھے شامل نہیں کیا۔

مزید :

قومی -