آبادی بم…………پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ

آبادی بم…………پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھوک کا خطرہ ہے۔ پیداوار میں اضافہ نہ ہوا، آبادی بڑھتی چلی گئی تو بھوک اور افلاس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کسان کارڈ تقسیم کرنے کے لئے منعقد کئے جانے والے کسان کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اور عوام کی ترقی کے لئے اگلے انتخابات کا نہیں اگلی نسلوں کا سوچنا ہوگا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا، پانی ذخیرہ کرنے، پانی کا استعمال بہتر بنانے، بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے ساتھ ساتھ زرعی تحقیق پر بھی توجہ دینا ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ ایسی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں بڑھنے والی قیمتیں ہماری اجناس کو متاثر نہ کر سکیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ نوجوان پاکستانی آبادی کا اکثریتی حصہ ہیں۔ پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، دنیا میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں کی نہیں، غیرت مندوں کی عزت ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے جو کچھ بھی کہا ہے، اس سے اختلاف ممکن نہیں۔ خود داری اور عزت نفس کی حفاظت کرنے والی قومیں ہی دنیا میں ترقی کرتی ہیں۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے والے ہی آگے بڑھتے اور اپنے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں۔ قرض کی مے پینے سے مستی میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن فاقہ مستی کم نہیں ہو سکتی۔ ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بدتر ہوتا ہے کہ قرض کا بوجھ کمر کو جھکاتا چلا جاتا ہے، بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے کو قرض لینے اور اسے امداد کہہ کر اس پر اترانے کا چسکا پڑ چکا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بھی غیر ملکی قرضوں کی ریل پیل ہوئی تو چودھری محمد علی مرحوم اور ان جیسے کئی بالغ نظر افراد نے اس خطرے کی نشاندہی کر دی تھی کہ اگر قرضے سوچ سمجھ کر نہ لئے گئے اور سوچ سمجھ کر استعمال نہ کئے گئے تو پھر قرضوں کو لوٹانے کے لئے بھی مزید قرض لینا پڑیں گے اور پاکستان کا مستقبل خطرات میں گھرا رہے گا۔ یہ درست ہے کہ ترقی پذیر قوموں کو وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، اندرونی وسائل کی کمی کو بیرونی قرضوں سے پورا کیا جا سکتا ہے اور بہت سے ملکوں نے ایسا کرکے ترقی کا سفر طے بھی کیا ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ قرض متعین مقاصد کے لئے لیے جائیں اور انہیں صرف اور صرف صنعتی اور زرعی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے۔ اگر ان کے ذریعے غیر ترقیاتی اخراجات کو بھی سبسڈائز کیا جائے گا تو پھر تو انبار لگتے چلے جائیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے ادوار آئے ہیں جب غیر ترقیاتی مقاصد کے لئے بھی قرضے حاصل اور استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فضول خرچی اور غیرذمہ داری کو فروغ ملا ہے اور قرضوں کی واپسی کی صلاحیت کم سے کم ہوتی چلی گئی ہے۔ اگر انہیں صرف اور صرف ترقیاتی مقاصد کے لئے حاصل کیا جاتا تو پھر قومی آمدنی میں ہونے والا اضافہ ان کی واپسی بآسانی ممکن بنا دیتا اور ہماری وہ درگت نہ بن پاتی جو آج بچے بچے کو نظر آ رہی ہے۔

پاکستانی ریاست کے ذمہ داران نے جہاں قرضوں کا حصول محدود اور مخصوص مقاصد کے لئے نہ کیا، وہاں آبادی میں اضافے کو روکنے کی تدبیر بھی نہیں کی۔ ستر کی دہائی کے بعد تو اس طرف سے بالکل ہی آنکھیں بند کر لی گئی ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کا احساس نہیں کیا، اب بھی یہ معاملہ نظر انداز ہو رہا ہے  اسے صوبوں کو سپرد کر دیا گیا ہے اور وہاں نیم دلی سے کوششیں کی جا رہی ہیں، پاکستان قائم ہوا تو اس کے مغربی حصے کی آبادی تین کروڑ سے کچھ زائد تھی، لیکن اب یہ بائیس کروڑ کو چھو رہی ہے اور مستقبل کے حوالے سے جو جائزے لگائے جا رہے ہیں، وہ انتہائی تشویش ناک ہیں۔

وزیراعظم نے زرعی اور صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی جو ضرورت بیان کی ہے، وہ اپنی جگہ ہے۔ اس سے تو انکار کیا  ہی نہیں جا سکتا لیکن اگر آبادی میں اضافے کو روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہیں کریں گے تو پھر وسائل میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ شرح نمو سے زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھی ہوئی آبادی سب کچھ نگل جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان پر لازم ہے کہ اس طرف فوری توجہ کریں، بچوں کے جنگل اگانے کا سلسلہ روکنے میں سرگرم ہوں۔ دوسرے سیاسی اور سماجی رہنماؤں کو بھی متحرک کریں، وگرنہ آبادی بم ہی پاکستان کے مستقبل کو سنگین خطرات سے دوچار کرتا رہے گا، اس کی موجودگی میں ہمارے کسی دشمن کو ایٹم بم چلانے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنا گلا دبانے کے لئے تیار جو نظر آئیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -