قوم سوال پوچھتی ہے  

قوم سوال پوچھتی ہے  
قوم سوال پوچھتی ہے  

  

کتاب سادہ رہے گی کب تک کبھی تو آغاز باب ہو گا 

جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو انکا حساب  ہوگا 

سحر کی خوشیاں منانے والو سحر کے تیور بتا رہے ہیں 

کہ ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا محال ہو گا 

یہ داستان پاکستان کے علمی ادبی اور ثقافتی شہر لاہور کی ہے انیسویں صدی عیسوی کی چھٹی دہائی میں انگریز حکمران ارض پاک پر قابض تھے اس وقت اس خطہ زمین پر غربت افلاس اور بیماری راج کرتی تھی اور طریقہ علاج بھی صرف دیسی ہی رائج تھا اسی دورانیے میں بہت سی وباؤں نے بھی اس علاقے کو گھیرا ہوا تھا جن کا علاج دیسی طریقہ کار سے کرنا ممکن نہیں تھا اس دور میں بہت سی بیماریوں کا علاج صرف اور صرف موت ہوا کرتی تھی اس وقت اچھا علاج  صرف امیر لوگوں کے لیے میسر تھا اٹھارہ سو ساٹھ میں پنجاب کے شہر لاہور میں لاہور میڈیکل سکول کی بنیاد رکھی گئی جو بعد میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج بنا اور آج پوری دنیا میں کے ای کے نام سے جانا جاتا ہے اس ادارے نے وطن عزیز کو بہت سے قابل ڈاکٹر دیے جنہوں نے بے شمار لوگوں کی جانیں بچائیں وقت گزرتا گیا پاکستان میں  علاج کا  طریقہ کار جدید سے جدید تر ہوتا گیا بہت سے نئے ہسپتال بنے اور بن رہے  ہیں۔

سابق دور حکومت میں وزیر اعلی جناب  شہباز شریف نے  پنجاب کے بہت سے شہروں میں بہت سے ہسپتال بنائے اور بہت سوں کی تعمیر نو کی گئی اسی  لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر بنایا گیا جس سے پاکستان میں گردوں اور جگر کی پیوندکاری ہونے لگی اس سے قبل پاکستان میں شاید کوئی بھی ادارہ ایسا موجود نہیں تھا جہاں پر مریضوں کو پیوندکاری کی سہولیات مفت میسر ہوں بہت سے مریضوں کو علاج کی غرض سے ہندوستان جانا پڑتا تھا یہ ادارہ سابقہ حکومت کے بہت بڑے کارناموں میں سے ایک تھا پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک سے قابل ترین ڈاکٹروں  کی ٹیم کا چناؤ کیا گیا انہیں باہر کے ممالک کی نسبت کم معاوضہ پر پاکستان میں کام کرنے کے لیے راضی کیا گیا اور انہیں پاکستان لایا گیا سارے پاکستان سے لوگوں نے علاج کی غرض سے پی کے ایل آئی کا رخ کرنا شروع کیا مسلم لیگ کی حکومت نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی اسی دورانیے میں خود ساختہ مسیحا  نے اپنے فرائض کو چھوڑ کر ہر اس کام میں ٹانگیں  اڑانا شروع کر دیں جو اس سے متعلقہ بھی نہیں تھا اس بد بخت انسان دشمن مسیحا  نے اس ادارے کا بھی دورہ کیا اسے کرپشن دھوکہ دہی اور ڈاکٹروں کو زیادہ تنخواہیں دینے کے الزامات لگا کر تہس نہس کر دیا گیا ڈاکٹر سعید اختر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا اور ان کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا دور چیف جسٹس کی حیثیت سے پاکستان کا ایک ڈرامائی اور ہنگامی دور تھا میڈیا کی شہ سرخیوں میں زندہ رہنے کے لیے وہ آئے روز کوئی نہ کوئی از خود نوٹس لیتا نئے سے نئے ڈرامے کرتا جبکہ اس کے مدمقابل جسٹس جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے دور میں کوئی ایک بھی ازخود نوٹس نہیں لیا سابقہ دور میں ثاقب نثار کے ازخود نوٹسوں میں سے ایک سب سے زیادہ نقصان دہ از خود نوٹس پی کے ایل ای کا تھا یہ ہسپتال دکھی انسانیت کی خدمت جگر اور گردوں کے علاج اور پیوند کاری کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اس از خود نوٹس نے اس ہسپتال کی تقدیر  بدل دی سارا نظام درہم برہم ہو گیا وہ ڈاکٹر صاحبان جو پاکستان میں عوام کی خدمت کا  جذبہ لیے آئے تھے وہ واپس چلے گئے اور اس کے بعد رہی سہی کسر موجودہ حکمرانوں نے نکال دی اس ادارے کو صرف اس لئے برباد کر دیا گیا کیوں کہ اس کا نام شہباز شریف سے منسلک تھا ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے تین ماہ بعد تین رکنی ججز کے پینل نے ثاقب نثار کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ڈاکٹر سعید اختر پر لگائے گئے تمام ترالزامات کو واپس لے لیا گیا لیکن اس ازخود نوٹس نے پاکستان کے ایک ترقی کرتے ہوئے ادارے کو تنزلی کی جانب دھکیل دیا اس سارے تماشے کی اصل وجہ جو  سننے میں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ثاقب نثار کا بھائی ڈاکٹر ساجد نثار مریضوں کو جگر اور گردوں کی پیوند کاری کے لیے بیرون ملک بھیجتا تھا  اور وہاں سے بڑی رقم کمیشن کی مد میں کمآتا تھا 

اور اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اسے شہباز شریف نے بنایا تھا اس کی حکومت کی تذلیل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس ادارے کو متنازعہ بنا دیا جائے اس فیصلے کا نقصان  عام آدمی کو جو ہوا سو ہوا لیکن جب کوئی حکومت اس پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کرے گی تو کنسٹرکشن کی مد میں اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہوگا اور دوسرا یہ کہ  باہر کے ممالک سے بڑے ہسپتال اور ادارے پی کے ایل آئی کو اربوں ڈالر کی رقم امداد کی شکل میں دینا چاہ رہے تھے ادارے کی متنازعہ حیثیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے وہ امداد بھی کینسل کردی بہت سے ملکی اور غیر ملکی ادارے کے پی کے ایل آئی کے ساتھ اشتراکی تعلقات رکھنا چاہتے تھے وہ تمام ایم او یو کینسل کر دیے گئے جس سے وطن عزیز کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوا اور ثاقب نثار تمام تر مراعات لے کر انگلستان کا شہری بن گیا لیکن پاکستانی قوم ایک سوال پوچھنے کا حق محفوظ رکھتی ہے کہ جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی آخر کب ان کا حساب ہوگا

مزید :

رائے -کالم -