جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا تاریخی معاہدہ

جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا تاریخی معاہدہ
جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا تاریخی معاہدہ

  

دنیا بھر میں اس سال جنوری میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا پہلا تاریخی معاہدہ نافذ کردیا گیا ہے،معاہدے کے مطابق جوہری ہتھیاروں پر پابندی اب عالمی قانون کا حصہ بن چکی ہے۔اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطہ ارض کو ”ہیروشیما“ اور”ناگا ساکی“ میں رونماہونے والی ایٹمی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔ اس بات سے آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ جنگ عظیم دوم میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پرایٹم بم گرائے تھے۔ پہلا یورینیم بم 6 اگست 1945 کو جاپانی شہر”ہیروشیما“ پر گرایا گیا جس کا نام”لٹل بوائے“ تھا جبکہ دوسراایٹم بم اس واقعہ کے تین روز بعد 9 اگست کو جاپان کے دوسرے شہر”ناگاساکی“ پرگرایا گیا جس کا نام”فیٹ مین“ تھا جوکہ پلوٹونیم بم تھا۔دونوں بم جب جاپان کے شہروں پرگرے تو دولاکھ سے زائد انسان چندسیکنڈز میں راکھ کا ڈھیر بن گئے جبکہ بعد میں بھی ہزاروں افرادموت کے منہ میں چلے گئے۔

حیرت اور افسوس کی بات یہ تھی کہ طویل عرصہ گذرنے کے باوجود بھی ایٹمی دھماکوں کے مضراثرات کم نہ ہوسکے اور وہاں پیدائشی طور پر بچے سرطا ن اورمختلف خطرناک بیماریوں کے ساتھ معذور پیداہونے لگے۔ہیروشیما اور ناگا ساکی میں ہونے والی اس قدر تباہی کا شائد امریکہ کو بھی اندازہ نہیں تھا۔امریکہ کا ایٹم بم سے حملہ کرنا صحیح تھا یا غلط؟ اس حوالے سے عالمی سطح پر دو گروپ بن گئے،ایک گروپ کا کہناتھا کہ ایٹم بم کا ستعمال کرکے امریکہ نے بہت بڑی غلطی کی ہے جبکہ دوسرے گروپ کا کہناتھا کہ امریکہ نے ایٹم بم کا حملہ کرکے ٹھیک تھا کیونکہ اس ایٹمی حملے کے بعد دوسری عالمی جنگ جودن بہ دن زور پکڑتی جارہی تھی، وہ بند ہوگئی اس طرح مزیدلاکھوں افراد کی ہلاکتوں کا خطرہ ٹل گیااور دنیا کو بھی یہ معلوم ہوگیا کہ ایٹم بم انسانی جانوں اورقدرتی ماحول کے لئے کس قدر خطرناک ہے۔

اقوام متحدہ اسی خطرے کے پیش نظر دنیا بھرمیں ایٹم بم بنانے اور اس کے استعمال کی روک تھام کے لئے عالمی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ نے پچھلے سال اکتوبر میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کے حوالے سے مطلوبہ پچاس ویں توثیق حاصل کی تھی جس کے نوے دن بعد یہ معاہدہ 22  جنوری کو نافذ کردیا گیا۔سن 2017 میں جب یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا اس وقت 120  سے زیادہ ممالک نے اس کی حمایت کی تھی جبکہ امریکہ، روس، برطانیہ،چین،فرانس اور نیٹو اتحاد میں شامل 30 سے زائد ممالک نے اس کی مخالفت کی تھی حتیٰ کہ ایٹمی حملوں کا نشانہ بننے والے ملک جاپان نے بھی اس کی تائید نہیں کی تھی۔اس معاہدے سے قبل سن2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا تھا اور ایک قراردادکے ذریعے یہ اعلان کیا تھا کہ ہر سال26 ستمبرکو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ تب سے ہر سال یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا رہاہے۔

جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیف اسلحہ کی تحقیق سے متعلق بین الاقوامی ادارے(SIPRI) کی سال 2021کی رپورٹ کے مطابق سن 2021 کے آغاز میں جوہری صلاحیت کے حامل نو ممالک (امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، پاکستان، انڈیا، اسرائیل اور شمالی کوریا) کے پاس تقریبا 13 ہزار 80 جوہری ہتھیار تھے، یہ ہتھیار اس تعداد سے کچھ کم ہیں جس کا اندازہ ”سپری“نیسن2020کے آغاز میں لگایا تھا۔پاکستان کو خطے میں امن اور انڈیا کے ساتھ طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ایٹم بم بنانا پڑا،اس کے باوجوداین ٹی آئی نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس کی رپورٹ میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے حامل ممالک میں پاکستان اثاثوں کی سیکیورٹی کو سب سے زیادہ محفوظ بنانے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ انڈیا کو یہ پیشکش کی ہے کہ اگر بھارت اپنے جوہری ہتھیار ترک کردے تو پاکستان بھی اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے گا۔ پاکستان کے اس اعلان پر دنیا پربھی یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے حق میں نہیں لیکن خطے میں امن، سلامتی اور طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے جوہری ہتھیاررکھنا پاکستان کی ضرورت ہے۔

انڈیا ایک طرف اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو محدود یا ختم کرنے کی بجائے اسے مزید بڑھانے کی تگ ودو میں لگا رہتاہے تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور معصوم مسلمانوں کے سرعام قتل اورپاکستانی سرحدوں کی آئے دن خلاف ورزیاں کرکے پاکستان کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔بہت سے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار بھی ہوئے ہیں جن میں جنوبی بحر الکاہل،جنوبی افریقہ،جنوب مشرقی ایشیا،فریقہ اوروسطی ایشیاء شامل ہیں جو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوکرایٹمی ہتھیاروں سے پاک زون بن چکے ہیں۔ ان ممالک کی مثالوں کے باوجود انڈیا خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کو تیار نہیں جو نہ صرف خطے کے لئے بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -