عورت

عورت

  

عورت کائنات کی حسین ترین مخلوق.جس کے بنا کائنات کا حسن مانند ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کے وجود کے بنا کائنات مکمل ہی نہیں ہوتی. اس کے بنا کائنات ادھوری رہ جاتی ہے.عورت کے کئی روپ. اور ہر روپ میں وہ مکمل.اس کا سب سے پیارا حسین روپ بیٹی ہے جو بہت پیاری ہوتی ہے، لیکن اگر سمجھا جائے تو.گھر کی چہکار، چڑیوں کی طرح چار دن چہک کر بابل کے آنگن سے اڑجاتی ہے.بیٹی جسے رب کائنات نے رحمت کہا، لیکن لوگوں نے اسے زحمت سمجھ لیا. اسے صرف عورت سمجھا گیا جو باپ کے لئے بوجھ بن گئی، بھائی کے لئے زحمت اور شوہر کے لئے ضرورت بن کے رہ گئی.زمانہ جاہلیت میں بیٹی کے پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا.یہ رسم آج بھی جاری ہے بس انداز بدل گئے.بیٹی کو بوجھ سمجھنے والوں نے اسے پنجروں میں بند کر دیا. اس کی رخصتی کے وقت کہا جانے والا یہ جملہ ”کہ اب اس گھر سے تمہارا جنازہ اٹھے“اور پھر وہ بیٹی عورت ہونے کے جرم میں ایک جنم میں جانے کتنی بار مرتی ہے.

لیکن کوئی اس کاجنازہ اٹھانے آتا ہے نہ اس کی مردہ روح پہ ماتم کرنے. اس کی زندہ لاش سفید کفن اوڑھ کر خونی رشتوں کی منتظر ہی رہتی ہے کہ کب اس کا باپ، بھائی اس کی میت کو کاندھا دینے آئیں.اور کب اس کو قبر میں اتاریں، لیکن جانے کیوں وہ اس کے بے جان لاشے کو قبر میں اتارتے ہیں نہ اس کے زندہ وجود کو تسلیم کرتے ہیں.وہ نہ زندہ میں مانی جاتی نہ مْردوں میں شامل کی جاتی ہے. عورت ہونا جرم ہے اور اس جرم میں وہ زندہ جلادی جاتی ہے، تو کہیں اس کے ہونٹوں سے ہنسی چرالی جاتی ہے. کہیں نگاہوں کے حصار میں رکھ کر اسے زبان کی دھار سے کاٹا جاتا ہے.تو کبھی محبت کے نام پر دیوار میں چنوایا جاتا ہے.کبھی آٹھ سالہ بچی کی معصوم خوشیوں کو اسی سال کے بوڑھے کے آگے گروی رکھ دیاجاتا ہے تو کبھی آنکھ میں کاجل لگانے کے جرم میں آنکھیں نکال دی جاتی ہیں، کہیں اس کی سانسوں کے زیروبم پر پہرے بٹھائے جاتے ہیں تو کہیں اٹھائے وہ قدم گنے جاتے ہیں.کہیں محبت کرنے کے جرم میں سنگسار کی جاتی ہے توکہیں بھاء کے کسی جرم کی پاداش میں ونی کردی جاتی ہے.بیٹے کے کردہ گناہ بیٹی کے نصیب میں لکھ کر بیٹے کو بچالیا جاتا ہے کہ مرد سے تو نسل چلنی ہے. تو پھر عورت کون ہے؟

 کہیں یہ باپ کے کندھوں کا بوجھ ہے تو کہیں محبوب کے دل بہلانے کا سامان، خاوند کے لئے اس کی بے لگام خواہشوں کو پورا کرتی اک روبورٹ. مرد سمجھتے ہیں کہ عورت اک.بیجان شے ہے اسے درد ہوتا ہے نہ اس کے جذبات ہیں.  عورت کی آغوش سے اپنی راتوں کو رنگین کرنے والا مرد صبح اس سے نظر چراتا پھرتا ہے.دل بھر جانے کے بعد بیدردی سے اس کو پھینک دیا جاتا ہے.اس کی کربناک چیخیں کوء سنتا ہے نہ اس کے بدن پر آئے کھرنڈ کوء دیکھتا ہے. عورت محبت سے گندھی ہے.مقدس رشتوں میں بندھی ہے.جس کے قدموں تلے رب کائنات نے  جنت لکھی اور رب کے بندوں نے اس کے لئے پامالی اور بے توقیری لکھ دی. عورت کے وجود سے تخلیق پانے والا مرد اگر اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ عورت کے وجود کے بنا اس کا وجود میں آنا ہی ممکن نہیں تو وہ عورت کو سب سے اونچی مسند پہ بٹھائے. یہ محبتوں کی امین زنجیروں میں باندھ کر رکھنے کے لئے نہیں کہ.یہ توزنجیر کی ہر اک کڑی کو خود اپنے ہاتھوں سے جوڑتی ہے.عورت سر کش ہے نہ باغی ہے.یہ سراپا محبت ہے.میں ایک عورت ہوں، جس کے وجود کا بوجھ اس کی پہلی سانس سے شروع ہوتا ہے اور آخری سانس تک قائم رہتا ہے.عورت منحوس ہے، عورت بوجھ ہے، اس بات پر یقین کر لیا گیا ہے. اس کی پیدائش اس قدر سکوت لاتی ہے کہ پورے گھر کی چاردیواری اس کے حصار میں آجاتی ہے.اس قدر جامد خاموشی کہ پورا شہر اس سناٹے کی زد میں آجائے.پورا گھر موت کے سناٹے میں چلا جاتا ہے.

ماں کا اترا چہرہ، باپ کے جھکے کندھے، اس کی کم مائیگی کا ماتم کرتے درو دیوار، اس کے جھولے کے کرلاتے، بین کرتے تار، ایک عورت کو عورت پیدا کرنے کے جرم میں مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے کہ تم نے ایک عورت کو پیدا کیوں کیا جبکہ اس عورت پرظلم ڈھانے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اپنی رات کو رنگین کرنے کے لیئے، اپنی فطری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اکھڑ مرد عورت کا محتاج ہے.مرد اپنی مردانگی پہ کتنا ہی کیوں نہ اترائے لیکن کسی مرد میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اپنے اندر کسی وجود کو تخلیق کر سکے.قدرت نے یہ صفت صرف عورت کے اندر رکھی ہے.پرکیف لمحوں میں بے اختیار جذبوں کو قابو کرنے کے لئے عورت ہی مرد کی تسکین کا باعث بنتی ہے.اگر ان لمحوًں میں عورت مرد کو سنبھالا نہ دے تو عورت کی پیدائش پر ماتم کرنے والے مرد ہیجان کے عالم میں اپنی ضرورت کے پورا نہ ہونے پر دیواروں سے سر ٹکراتے پھریں اور اپنے بے قرار وجود کو قرار نہ دلا سکیں.مسرت کے لمحے عطا کرتی عورت مرد کے ابلتے لاوے کو اپنی کوکھ میں رکھ لیتی ہے نوماہ اس کے بے قابو جذبات کو گواہی کے طور پر اپنے پیٹ میں رکھ  کر اس جیسا سرکش مرد پیدا کرلے تو مرد خوش بخت اور اگر اپنے جیسی عورت کو جنم دے تو یہ عورت کا جرم..

محبوب کو محبت کا احساس دلاتی عورت بد کردار اور مرد صرف بے باک.محبت کے نام پر عورت داغدار  ہوجاتی ہے. سنگسار ہوجاتی ہے.مرد عورت کے لمس سے آشناہو کر بے تحاشا محبت کا دعوی تو کرتا ہے. لیکن خود محبت کا حق ادا نہیں کرتا. اپنے عشق کے جنون کے خاتمے پر وہ عورت کواک نظر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا.محبت کے نام پر خود کو دان کر دینے والی عورت اس کے لئے قابل اعتبار نہیں.محبت کے ہاتھوں لٹ کر عورت محبت ہی کا سوگ مناتی رہتی ہے.اور مرد اس کے وجود پر بھنبھناتی مکھیوں کی طرح ڈنگ مارتا رہتا ہے. عورت کے وجود سے اپنی پیاس بھجانے والا مرد عورت کی پیدائش پر ماتم کرتا دکھاء دیتا ہے.عورت کے وجود کا لمس مانگنے والا، اس کے قرب کا متلاشی عورت کی پیدائش سے بیزار نظر آتا ہے مرد عورت کے در کافقیر ہے لیکن  پھر بھی عورت بے توقیر ہے.کیا عورت کے نصیب میں ذلیل ہونا، بے توقیر ہونا ہی لکھا جا چکا۔

مزید :

رائے -کالم -