”مُحبِّ وطن سے غدّار تک“

 ”مُحبِّ وطن سے غدّار تک“
 ”مُحبِّ وطن سے غدّار تک“

  

رابرٹ براؤننگ انیسویں صدی کا ایک قدآور شاعر اور ڈرامہ نِگار تھا۔اس کی تحریریں کردار نِگاری، حالات کی سِتم ظریفی،دُکھ سے پیوستہ مزاح اور معاشرتی بیانیہ میں گُندھی ہوئی ہیں۔اُس کی معروف نظم”مُحبِّ وطن سے غدّار تک“ایک ایسے بدقسمت ہیرو کی نقشہ کشی کرتی ہے جسے ایک سال پہلے خطاب کی غرض سے شہر کی جلسہ گاہ میں مدعو کیا گیاتھاتوگلاب کی سُرخ پتیوں میں دیگر خوشبودار پھولوں کی رَنگ بَرنگی پتیاں ملا کر اُس کے اُوپر نچھاورکی گئیں۔جس راستے سے اُسے جلسہ گاہ کی طرف لے جایا جا رہا تھااس کے اطراف میں عمارتوں کی چھتوں پر اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اتنے لوگ جمع تھے کہ چھتیں اُن کے وزن سے جھول رہی تھیں۔جگہ جگہ راہ گزر پر خوش آمدی تختے آویزاں تھے۔چرچ کے میناروں پرسے روشنیاں نُور برسارہی تھیں۔اُس دن اگر وہ لوگوں کے جمِ غفیر سے کہتا کہ مجھے نعروں کی بجائے کچھ کر کے دِکھاؤ،اورنیلگوں آسمان پرسے چمکتا ہوا سورج اتار کے لا دو تو وہ اس کی محبّت میں یہ مشکل ترین کام کر گزرتے اور پھرپوچھتے، اور بتایئے ہم آپ کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟لیکن اُس نے اپنے لوگوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا،بلکہ خود سورج پر لپکا اور اس کو اُن کے قدموں میں لا کر رکھ دیا۔اس نے وہ کچھ کیا جوکوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔

رابرٹ براؤننگ مزید کہتا ہے کہ ٹھیک ایک سال گزرنے کے بعدآج اس کو دوبارہ اُسی راہ گزر سے اسی جلسہ گاہ کی طرف لے کر جایا جا رہا ہے۔آج راستہ ویران ہے۔نہ عمارتوں کی چھتوں پر نعرے لگانے والے ہیں،نہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے والا کوئی موجود ہے۔ بس، کہیں کہیں، کھڑکیوں میں سے چند بوڑھے،زرد چہرے پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہے ہیں۔اُس کے ہاتھ اس کی پُشت پر باریک رَسّی سے اتنی سختی سے بندھے ہیں کہ اس کی کلائیاں زخمی ہورہی ہیں۔اسے محسوس ہو رہا ہے کہ اس کے ماتھے سے لہُو ٹپک رہا ہے کیونکہ ہر”صاحبِ شعور“ اس پر پتھر پھینک رہا ہے۔ آج جلسہ گاہ میں لوگ اُس کو سننے کو جمع نہیں،بلکہ آج اسی جلسہ گاہ میں پھانسی گھاٹ سجادیا گیاہے اور لوگ اسے تختہ دار پر لٹکتا دیکھنے کیلئے جمع ہیں۔یہ اس کی سال بھر کی”کارگزاریوں“ کی سزا ہے۔مگراسے اطمینان ہے کہ اپنے لوگوں کے لئے جو کچھ اس نے کیا،اس کا بدلہ کوئی انسان اُسے کیا دے گا؟اس کا بدلہ اسے خُدا،روزِ قیامت،جزاء کی صورت میں دے گا۔

جہاں دنیا کے مختلف ممالک میں رابرٹ براؤننگ کے ہیروسے مماثلت رکھنے والے نامور کردار اُجلے چہروں کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے واضح ہیں،وہاں راقم کی نشاندہی کے بغیر بھی،وطنِ عزیز میں،کچھ نام یقیناًقارئین کے ذہنوں میں گُھوم رہے ہوں گے۔سائنسی عمیق گہرائیوں سے آشنا ایک شخص وقت کے سربراہ کے پاس پہنچا۔اُسے اپنے ہنر کے ذریعے دشمن پردفاعی برتری حاصل کرنے کی تجویز دی۔”دوراندیش“حکمران نے اس کی بات کو درخوراعتنانہ سمجھا۔مگراسے اپنے ہُنر پر ناز تھا۔ وہ اسے ہر حال میں استعمال میں لانا چاہتا تھا۔اس نے اسی دشمن کے گھر کا رُخ کیا جس کو زیر کرنے کے لئے وہ پہلی پیشکش لے کر پاکستان آیا تھا۔دشمن نے غیر مسلمان ہوتے ہوئے بھی اس مسلمان کی بات پر اعتماد کر لیا،اور اس کی ہُنر کاری سے چند سالوں میں ”مسکراتے بدھا“کے تماشہ کے ذریعے دفاعی میدان میں پاکستان پر اپنی برتری کا اعلان کر دیا۔اوربطورِ انعام اس شخص کوملک کا سب سے بڑا آئینی عہدہ تفویض کردیا گیا۔

دیارِ غیر میں بیٹھے ایک دوسرے مسلمان سائنسی ہُنر مند کویہ برتری ناگوار گزری۔اُس نے وطنِ عزیزمیں اُس وقت کے حکمرانوں کو اپنی ہُنر مندی اور اس کے مُضمرات کی مدد سے دشمن کے اعلانِ برتری کو ہزیمت میں بدلنے کی پیشکش کی،جو مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے کامیاب ٹھہری۔ دوراندیش سربراہِ وقت نے اس کی پیشکش کو قبول کر لیااور اُسے منصوبہ کی کار گزاری میں ہرتعاون کی یقین دہانی کرائی۔وہ شخص خاموشی کے ساتھ اپنے کام میں جُت گیا۔سائنسی معلومات اور مواد کے حصول کے لئے اس نے اپنے تمام تر تعلقّات سے بھر پور فائدہ اُٹھایا۔سائنسی شعبہ میں سے صاحبِ علم اور ہُنر مند لوگوں کی مطلوبہ جماعت ترتیب دی۔اپنی جماعت کے ساتھ مل کر منصوبہ کی تکمیل کے لئے چوبیس سال ثابت قدمی،یکسوئی اور محنت سے کام کرتا رہا۔وہ دن اُس کے لئے زندگی کا سب سے کامیاب ترین دن تھا جس دن اُس کی جماعت کی ریاضت اورخون پسینہ کی کمائی چاغی کے پہاڑوں کو چنبیلی کا رنگ دے گئی، اور جس کارنامے سے دشمن کے تفاخر آلُود جارحانہ ارادوں پر مایوسی کی مستقل اوس پڑ گئی۔آج وہ شخص بے قدری کے جاڑے میں ٹھٹھر رہا ہے۔

اٹھائیس مئی1998ء پاکستان کو دفاعی خود اعتمادی اور اپنی سا لمیّت کے تحفّظ کی ضمانت دے گیا۔اس دن کی یاد ہر سال یومِ تکبیر کے طور پر منائی جاتی ہے۔ایٹمی میدان میں پہل کرنے والا ہمسایہ دشمن آج پاکستان کی طرف میلا ارادہ کرنے سے قبل ہی ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ اٹھائیس مئی1998ء کے بعد وطنِ عزیز میں شعبہ طبیعات سے مُنسلک سائنسدانوں،طالبعلموں اور مقتدر حلقوں میں یہ بحث چھیڑدی گئی کہ وطنِ عزیز کو ایٹمی توانائی سے سرفراز کرنے میں کس کا کتنا حصّہ ہے۔ایسے لگتا تھا جیسے چاغی پر”جلوہ نُمائی“کا کریڈٹ کوئی بھی دوسرے کو دینے کو تیار نہ تھا۔بھلے یہ کسی فردِ واحد کا کارنامہ نہ سہی، مگرکسی فردِ واحد کو اس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے عمل سے بے بہرہ بھی تو نہیں سمجھا جا سکتا۔خاص کرجس نے دیارِ غیر میں اپنی پُر آسائش زندگی کو جذبہئ حُبّ الوطنی میں ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا،اور وطن کو طاقتور بنانے کے پُر خطرراستے پر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر گامزن ہو گیا۔بلاشبہ اُسے دوران سفرِ منزل پَے درپَے حکومتی سربراہوں کے ساتھ ساتھ دفاعی حلقوں کی مکمّل معاونت رہی،تاہم اسے عالمی سطح پر اپنے”کئے“کی رسوائی بھی کاٹنا پڑی۔آج جہاں ہم فنونِ لطیفہ سے وابستہ افرادکے علاج معالجہ کا احسن اقدام کر رہے ہیں،وہاں کسمپرسانہ زندگی گزارتے اس بیمار ہیرو کی بھی تھوڑی باز پُرس کرلیں،جس کی تصویر رابرٹ براؤننگ کی نظم کے ہیرو کا عکس لگتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -