پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا اجلاس

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا اجلاس

  

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ شیخ امجد رشید کو  متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کیا گیا۔دیگر عہدیداران میں سینئر وائس چیئرمین صفدر ملک، مومنہ درید وائس چیئرپرسن،سپیشل سیٹ ریزرو،میڈم سنگیتا،ایگزیکٹو ممبران میں محمدیونس، ندیم مانڈوی والا،سنگیتا،ایم اکرم،طارق میندرو،ادریس اے صدیقی،محمد خالد اقبال،عبد الرشید شامل ہیں۔ فلم پروڈیوسر مبشر لقمان نے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا۔جنرل کونسل کے اجلاس میں اداکار شان، پروڈیوسر و ہدایتکار سید نور، فیصل بخاری، فلم ڈسٹری بیوٹرز اعجاز کامران، پرویز کلیم،،شیخ اکرم،سہیل ملک،راحیل ملک،شہزاد رفیق سمیت دیگر نے  شرکت کی۔نومنتخب چیئرمین شیخ امجد رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مجھے ایک بار پھر سے یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔پاکستان فلم انڈسٹری کو اس کی اصل شناخت دلوائیں گے۔ فلم پالیسی کافی عرصہ سے بن چکی ہے، وزیراعظم کی مصروفیت کے باعث فلم پالیسی کا اعلان نہیں ہوسکا، امجد رشید نے کہا کہ حکومت پندرہ اکتوبر تک فلم پالیسی کا اعلان کر دے۔ امجد رشید نے کہا کہ سنیمابند ہونے سے بہت سے لوگوں کے پیسے پھنسے ہوئے ہیں،حکومت بیٹھے اور فیصلہ کرے کہ رقم کیسے واپس ملے گی، سنیما نہ چلنے سے پہیہ رک چکا ہے۔سنیما چلیں گے تو فلم انڈسٹری چلے گی،امجد رشید نے کہا کہ کسی سے ڈرنے والا بالکل نہیں ہوں۔اداکار شان شاہد نے کہا کہ فلم پالسی پڑھی ہے مجھے نہیں لگتا کہ ایسے فلم انڈسٹری چل پائے گی۔پرانی فلمیں چینلز پر چلنی چاہئیں۔سنیما کی جو حالت ہے پروڈیوسرز کو لیز پر لے لینے چائیے۔اب فیصلہ کرنا ہے جب ہم جنگ ہار چکے ہیں۔حکومت کے جو فیصلے کرتے ہیں ان کو اپنے پاس بلا لیں گے۔حکومت اگلے پانچ سال بھی یہیں ہے۔

فلم پالیسی مستقبل کی ٹیکنالوجی کے مطابق بنانی چائیے۔ہمیں حکومت سے ملاقات سے پہلے اپنی فلم پالیسی بنانی چائیے۔شان شاہد نے کہا کہ فلم انڈسٹری کی بہتری کے لئے ورکشاپس ہونی چاہئیں۔پی ٹی وی کے ساتھ مل کر نیا سنیماآباد ہوسکتا ہے۔سعودی عرب صرف حکومتی نمائندے گئے ہیں۔ فلم انڈسٹری سے کوئی نہیں گیا۔سعودی عرب فلم انڈسٹری کے لئے نئی منڈی ہے۔چائنہ کے ساتھ ہماری کوئی کلچرل ڈیل نہیں ہوسکی۔ہمیں ہنگامی صورتحال والی اپروچ رکھنی چاہئے۔ہمیں فلم انڈسٹری کے جرنیل چاہئیں۔حکومتی فلم پالیسی کا اصل فلم پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔پرانی سوچ کے فیصلے اور ڈرامے ہم اپنے اوپر استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔حکومت ینگ فلم میکر کی بجائے سینئر فلم میکرز کو قرضہ دے۔ہمیں اب ڈو آر ڈائی کرنا ہوگا۔حکومت سپورٹ کرے ورنہ ان پر تنقید کریں۔

مزید :

کلچر -