طالبان پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں نہیں آئے، اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک شکل نے بھارت میں پنجے گاڑ لئے جہاں آر ایس ایس نے جتھوں کی صورت میں مسلمانوں کا قتل عام کیا: عمران خان 

  طالبان پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں نہیں آئے، اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک ...

  

 نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے  افغانستان میں انسانی بحران اور دہشت گردی کے خطرے سے بچنے کیلئے  دنیا کو افغانستان کی مدد کرنا ہو گی  اور طالبان کے ساتھ بات چیت کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی  افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کرنے والے حقائق  سے واقف نہیں ہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں  کی جنگ کا  حصہ  بننے کے باعث پاکستان دہشت گردی، فرقہ واریت  عدم استحکام کا شکار ہوا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے76ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم عمران خان نے کہا اس وقت دنیا کو کووڈ کے ساتھ ساتھ معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرےء کی وجہ سے درپیش خطرات جیسے تین طرفہ چیلنج کا سامنا ہے۔وائرس اقوام اور لوگوں کے درمیان تفریق نہیں کرتا۔نہ ہی غیر یقینی موسمیاتی رویوں کی وجہ سے آنے والی تباہیاں یہ تفریق کرتی ہیں ہمیں درپیش مشترکہ خطرات نہ صرف بین الاقوامی نظام کی نزاکتوں کو آشکار کررہے ہیں بلکہ وہ انسانیت کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے اب تک پاکستان کووڈ کی وبا کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔باہمی تعاون کی ہماری منصوبہ بندی جس کا محور سمارٹ لاک ڈاؤن تھے کی بدولت ہمیں انسانی زندگیوں اور معاش کو چلائے رکھنے میں مدد ملی اور ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہاہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام ’احساس‘ کی بدولت ڈیڑھ کروڑخاندان کورونا بندشوں کی سختیوں سے عہدہ برآہونے میں کامیاب رہے۔موسمیاتی تبدیلی ہماری بقا کو درپیش خطرات میں سے ایک ہے جن کا ہمارے سیارے کو سامنا ہے مضر گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابرہے اس کے باوجود ہم ان دس ممالک میں سے ایک ہیں جو دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقفیت رکھتے ہوئے ہم نے اس بابت ایک انقلابی ماحولیاتی پروگراموں کا آغاز کیا ہے دس  ارب درخت لگانے کی سونامی مہم کے توسط سے پاکستان میں نئے سرے سے جنگلات اگا رہے ہیں قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہے ہیں،قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں،اپنے شہروں سے آلودگی کا خاتمہ کر رہے ہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار کر رہے ہیں کووڈ کی عالمی وبا،اس کے سبب معاشی بدحالی اور موسمیاتی ایمرجنسی کے تین طرفہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں پہلے نمبر پرویکسین کی یکساں دستیابی یعنی ہر جگہ، ہر شخص کوکووڈ کے خلاف ویکسین لگنی چاہیے اور جتنا جلدی ممکن ہو لگنی چاہیے۔دوسرا، ترقی پذیر ملکوں کو مناسب فنانسنگ کی سہولت لازماً ملنی چاہیے جسے قرضوں کی جامع ترتیبِ نو، او ڈی اے کا حجم بڑھانے اورغیر استعمال شدہ ایس ڈی آر کی دوبارہ تقسیم اور ایس ڈی آرز کا بڑا حصہ ترقی پذیر ملکوں کو الاٹ کرکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ کی سہولت فراہم کر کے یقینی بنایا جا سکتا ہے ہمیں سرمایہ کاری کی واضح منصوبہ بندیوں کو اختیار کرنا چاہیے جو غربت کے خاتمے، روزگار پیدا کرنے، پائیدارانفراسٹرکچر کی تعمیر، ڈجیٹل تقسیم کاخلا کم کرنے میں مدد گا ر ہوں میں تجویز دوں گا کہ سیکرٹری جنرل دو ہزار پچیس میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کیلئے سربراہ اجلاس بلائیں جس میں پائیدار ترقی کے اہداف کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ان پر عملدرآمدکیلئے کام کی رفتار تیز کی جائے ترقی پذیر ممالک کی بدعنوان حاکم اشرافیہ کی لوٹ مار کی وجہ سیامیر اور غریب ملکوں کے درمیان فرق خطرناک رفتارسے بڑھ رہا ہیمیں اس پلیٹ فارم سے دنیا کی توجہ دولت کی ترقی پذیر ملکوں سے ناجائز اڑان کی جانب مبذول کرواتا آیا ہوں سیکرٹری جنرل کے اعلیٰ سطحی پینل برائے مالیاتی احتساب،شفافیت اورمکمل دیانتداری جسے فیکٹ آئی کہا جاتا ہے نے سات ہزار ارب ڈالر کے خطیر چوری شدہ اثاثے محفوظ مالیاتی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں اس منظم چوری اور اثاثوں کی غیر قانونی منتقلی کے ترقی پذیر ملکوں پر دور رس منفی اثرات پڑے ہیں اس عمل سے ان کو دستیاب معمولی وسائل کی حالت مزید پتلی ہوتی جاتی ہے غربت کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے بطورِ خاص جب منی لانڈرنگ کے ذریعے مال ملک سے باہر لے جایا جاتا ہیاس کے نتیجے میں ان ملکوں کی کرنسی پر دباؤ پڑتا ہے اوراس کی قدر میں کمی ہوتی ہے جودہ رفتار سے جب کہ فیکٹ آئی پینل نے اندازہ لگایا ہے کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر ترقی پذیر ملکوں سے نکال لئے جاتے ہیں نتیجتاً تلاش معاش کیلئے امیر ملکوں کی جانب ہجرت کرنے والوں کا ایک بہت بڑاسیلاب آئیگاجو کچھ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھارت کے ساتھ کیاوہی کچھ ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ ان کی بدعنوان اشرافیہ کر رہی ہے وہ دولت لوٹ رہے ہیں اور اسے امیرملکوں کے دارلحکومتوں اور ٹیکس جنتوں میں منتقل کر رہے ہیں ترقی یافتہ ملکوں سے چوری شدہ اثاثوں کی واپسی غریب قوموں کیلئے ناممکن ہے امیر ملکوں کیلئے نہ کوئی کشش ہے اور نہ ہی کوئی مجبورکہ وہ وہ یہ غیر قانونی طور پر کمائی ہوئی دولت واپس لوٹائیں یا۔ مجھے خوف ہے غربت کے سمندر میں چند امیر جزیرے ویسے ہی ایک عالمی آفت کی شکل اختیار کر لیں گے جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی نے کی ہے جنرل اسمبلی کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پریشانی اور اخلاقی تضادات کا باعث بننے والی اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہوا جاسکے۔غیر قانونی دولت کیلئے موجود ان جنتوں کا نام لے کر انہیں شرمندہ کرنے کی ضرورت ہے۔اور ایک جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دولت کی غیر قانونی اڑان کو روکا اور اس دولت کو واپس لوٹایا جائے اس انتہائی بڑی معاشی نا انصافی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے کم سے کم سیکرٹری جنرل کے فیکٹ آئی پینل کی سفارشات پر پوری طرح عمل کیا جانا چاہیے۔اسلامو فوبیا ایک اور ایسا خوفناک رجحان ہے جس کا ہم سب کو ملکر مقابلہ کرنا ہے نائن الیون کے دہشت گردی کے حملے کے بعد سے کچھ حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے اس سے دائیں بازو کے خوفناک اور پرتشدد قومیت پرستی کے رجحانات میں اضافہ ہواجس کے سبب انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں جنزل اسمبلی کی عالمی دہشت گردی کے خلاف پیش بندی نے ان اْبھرتے خطرات کو تسلیم کیا ہے ہمیں امید ہے کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ان اسلام مخالف رجحانات اوردائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب سے لاحق  دہشت گردی کے نئے خطرات کا احاطہ کرے گی،میں سیکرٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسلامو فوبیا کا تدارک کرنے کیلئے بین الاقوامی مکالمہ شروع کروائیں ساتھ ہی ہمیں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے متوازی کوششیں جاری رکھنی چاہیں۔وزیر اعظم نے کہا اس اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑھے ہوئے ہے فاشسٹ آر ایس ایس،بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئے نفرت سے بھرے ہندوتوا نظریات نے بھارت میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کیخلاف خوف اور تشدد کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے گاؤ ماتا کے جیالوں نے جتھوں کی صورت میں مسلماں وں کو قتل کرناجاری رکھا ہوا ہے وقفے وقفے سے منظم قتلِ عام کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ نئی دہلی میں گزشتہ برس ہواشہریت کے امتیازی قوانین جن کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے اورور بھارت بھر میں مساجد کو شہید کرنے کی مہم اور اس کی اسلامی تاریخ اور ورثے کو مٹانے کی کوششیں جاری ہیں نئی دہلی کی جانب سے ایک ایسے راستے پر چڑھنا جسے وہ بد قسمتی سے جموں کشمیر کے قضیے کاحتمی حل قرار دیتا ہے بھارت نے پانچ اگست دو ہزار انیس سے مسلسل یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں اس نے نو لاکھ قابض فوج کے ذریعے خوف کی ایک لہرجاری کر رکھی ہے میڈیا اور انٹر نیٹ پر پابندی لگا رکھی ہے پْرامن مظاہروں کو پر تشدد کارروائیوں سے دبارکھا ہیتیرہ ہزارہ کشمیریوں کو اغوا کررکھا ہے جن میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہوا ہے اس نے جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں کشمیریوں کو قتل کر رکھا ہیاس نے اجتماعی سزائیں دینے کی روش اپنائی ہوئی  ہے جس میں پورے پورے گاؤں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دئیے جاتے ہیں حال ہی میں ہم نے ایک تفصیلی ڈوزئیز جاری کیا ہے جس میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانے سے غیر قانونی قبضے میں رکھے گئے جموں و کشمیر میں ہو  ئی منظم اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں کوشش کی جارہی ہے کہ اسے مسلم اکثریتی علاقے سے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے بھارتی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کی جموں و کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں قراردادوں میں صاف وضاحت موجود ہے کہ اس قضیے کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کروائے گئے ایک شفاف اور ور آزادانہ استصوابِ رائے میں خطے کے عوام کو کرنا ہے۔ بھارت ظلم و جبر کی حالیہ مثال عظیم کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کی لاش کو ان کے خاندان سے زبردستی چھیننا ہے ان کی خواہش اور اسلامی روایات کے مطابق باقاعدہ نماز جنازہ اور تدفین نہیں ہونے دی گئی۔یہ کارروائی جس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہ تھا بنیادی انسانی حقوق کی شائستگی کے خلاف تھا۔میں اس جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ سید علی شاہ گیلانی کی باقیات کی باقاعدہ اسلامی روایات کے مطابق شہداء کے قبرستان میں تدفین کا مطالبہ کرے۔پاکستان اپنے دیگر ہمسائیوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلے کا

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے۔اب میں افغانستان کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔کسی وجہ سے افغانستان کی موجودہ صورتحال یعنی وہاں ہونے والی تبدیلی کے حوالے سے امریکہ اور یورپ میں بعض سیاستدان پاکستان پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ جس ملک نے افغانستان کے علاوہ سب سے زیادہ نقصان اٹھایا وہ پاکستان ہے۔اسی کی دہائی میں افغانستان پر غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اول میں تھا۔پاکستان اور امریکہ نے افغانستان کی آزادی کیلئے مجاہدین کو تربیت دی۔دنیا بھر سے مجاہدین گروپوں، آفغان مجاہدین اور القائدہ کو ہیرو سمجھا جاتا تھا۔صدر رونلڈ ریگن نے 1983 میں ان کو وائٹ ہاؤس میں دعوت دی ایک نیوز رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان کا موازنہ امریکہ کے بانیوں کے ساتھ کیا۔ 1989 میں سوویت یونین افغانستان سے چلا گیا اور اسی طرح امریکی بھی افغانستان کو چھوڑ کر گئے۔پاکستان کو 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا گیا۔ہمارے ہاں مذہبی فرقہ پرستی پھیلانے والے عسکری گروپس آگئے جن کا پہلے کوئی وجود نہ تھا۔بدترین صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایک سال بعد امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں۔آگے بڑھتے ہیں، ایک بار پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اب امریکہ کی زیر قیادت اتحاد افغانستان پر حملہ کرنے جا رہا ہے تھاپاکستان کی طرف سے لوجسٹیکل سپورٹ کے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا۔اس کے بعد کیا ہوا؟ وہی مجاہدین جن کو ہم نے غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ کیلیے تیار کیا تھاکہ غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ ایک مقدس فریضہ ہے، ایک مقدس جنگ اور جہاد  وہ ہمارے مخالف ہوگئے۔ ہمیں شریک کار گردانا گیاانہوں نے ہمارے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔پھر افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے قبائلی علاقے میں جو پاکستان کا جزوی طور پر خود مختار علاقہ ہے اور جہاں ہماری آزادی کے وقت سے کوئی فوج تعینات نہیں کی گئی تھی ن کی افغان طالبان کیساتھ بہت زیادہ ہمدردی تھی اس لیے نہیں کہ ان کا مذہبی نظریہ ایک ہے بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے جو کہ بہت مضبوط تعلق ہے۔پھر 30 لاکھ افغان پناہ گزین اب بھی پاکستان میں تھے، وہ سب پشتون ہیں جو کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔5 لاکھ پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ اور ایک لاکھ افراد پر مشتمل کیمپس ان سب کی افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی تھی، کیا ہوا؟وہ بھی پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ پہلی بار پاکستان میں عسکریت پسند طالبان سامنے آئے انہوں نے بھی پاکستانی حکومت پر حملے کیے۔ہماری تاریخ میں جب پہلی بار ہماری فوج قبائلی علاقوں میں گئی -جب بھی فوج شہری علاقوں میں جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں اور بلا تخصیص نقصان ہوتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان میں 480 ڈرون حملے کیے ہم سب جانتے ہیں کہ ڈرون حملے اپنے ہدف کو درست نشانہ نہیں لگا سکتے۔پاکستان میں ہر طرف بم دھماکے ہو رہے تھے۔ہمارا دارالحکومت ایک قلعے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔اگر ہماری فوج نہ ہوتی جو کہ دنیا کہ انتہائی منظم افواج میں سے ایک ہے اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی بھی دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان نیچے چلا جاتا۔ جب ہم اس طرح کی باتیں سنتے ہیں جب امریکہ میں انٹرپریٹرز وغیرہ اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اس کی مدد کیپریشانی ظاہر کی جاتی ہے تو ہمارے بارے میں کیا خیال ہے۔ہم نے جو اس قدر مشکلات کا سامنا کیا ہے اس کی واحد وجہ یہ ہے ہم افغانستان کیخلاف جنگ میں امریکی اتحاد کے ساتھ تھے جہاں افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے جارہے تھے۔  ہمارے لیے کم از کم تعریف کا ایک لفظ ہی کہا جاتا لیکن سراہنے کی بجائے تصور کریں ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب ہم پر افغانستان کے واقعات کے حوالے سے الزام تراشی کی جاتی ہے۔2006 کے بعد یہ بات ہر اس کے لیے واضح تھی جو افغانستان کو سمجھتا ہ یجو افغانستان کی تاریخ سے آگاہ ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہوگا۔میں امریکہ گیا، میں نے تھنک ٹینکس کیساتھ بات کی میں نے اس وقت سینیٹر بائیڈن، سینیٹر جان کیری اور سینیٹر جان ریڈ سے ملاقات کی میں نے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی اگر آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو اسے ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں تین لاکھ نفوس پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے اور اس نے مقابلہ نہیں کیا۔ جس لمحے اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم وجائے گا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں آئے ہیں اور یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں۔اس وقت ساری عالمی برادری کو یہ سوچنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے۔ ہمارے پاس دوراستے ہیں اگر اس وقت ہم آفغانستان کو پس پشت ڈال دیں گے تو افغانستان کے آدھے عوام جن کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اگلے سال تک افغانستان کے نوے فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ طالبان نے کیا وعدہ کیا تھا، وہ انسانی حقوق کا احترام کریں گے، وہ ایک مخلوط حکومت بنائیں گے، وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کو استعمال کرنے نہیں دیں گے اور انہوں نے معافی کا اعلان کیا ہے۔ اگر اب عالمی برادری ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کرے تو یہ سب کے لیے کامیابی ہو گی۔ یہ افغانستان کیلئے نازک وقت ہے۔ آپ وقت ضائع نہیں کر سکتے، وہاں امداد کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو اس مقصد کیلئے متحرک کریں۔

جنرل اسمبلی خطاب

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پہلے ہم بڑی طاقتوں کے سامنے جھکتے تھے اب ایسا نہیں ہو گا، اسلامی ریاست کا مطلب کسی کے سامنے جھکنا نہیں ہوتا، ہم خوددارقوم بنیں گے، ہمیشہ بڑے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں رہیں،کبھی خود کو کمتر نہ سمجھیں، برے وقت سے سیکھنا اور کبھی ہار نہیں ماننی،قائداعظم، نیلسن منڈیلا نے اپنی ذات کیلئے سیاست نہیں کی تھی، لوگ ہمیشہ قائداعظم، منڈیلا کویاد رکھیں گے،میرا کوئی رشتہ داربڑے عہدوں پر نہیں، میرٹ کے علاوہ معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا، 3 سالوں سے شورمچا ہوا ہے، ہماری حکومت کہہ رہی ہے جس نے چوری کی جواب دیں، اس لیے باہربیٹھ کرشورمچارہے ہیں، طاقتورکوقانون کے نیچے آنا ہوگا،یہ نہیں ہوسکتا امیراورغریب کیلئے الگ الگ قانون ہو،ہماری حکومت کرپشن نہیں کررہی تو ہمیں آزاد عدلیہ سمیت میڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں، 70 فیصد ہمارے خلاف پروگرام کیے گئے،چیلنج کرتا ہوں ہماری حکومت کے علاوہ کسی حکومت میں اتنا میڈیا آزاد نہیں تھا، امریکا جیسے ملک میں پاکستان جیسی ہیلتھ انشورنس نہیں، ہیلتھ کارڈ غریب گھرانے کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ڈیجیٹل میڈیا ڈیویلپمنٹ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا نوجوانوں کو آج مواقع میسر ہیں، پاکستان کی تاریخ میں لوگ اس طرح سے اوپر نہیں آئے، نیا آئیڈیا ہے جو بکتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے نوجوانوں کو کبھی بھی اس طرح کے مواقع میسر نہ تھے جو آج ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا آزاد ذہن رکھیں جو ہر وقت آگے سے آگے بڑھنے کا سوچ رہا ہو، مجھ سے کہیں زیادہ باصلاحیت کھلاڑی موجود تھے لیکن میں ان سے آگے اس لیے پہنچا کیونکہ میں اپنے اہداف مقرر کرتا تھا میں پاکستان کا سب سے بہتر آل راونڈر بننا چاہتا تھا اور پھر دنیا کا سب سے بہترین آل راؤنڈر بننے کا ہدف مقرر کیا۔ آپ کو نہیں معلوم کہ اللہ نے آپ کو کتنی صلاحیتیں دی ہیں اور یاد رکھیں کہ آپ جتنا بڑا سوچیں گے، آپ اتنا ہی آگے بڑھیں گے اور آپ کو اتنا ہی ملے گا جتنی آپ محنت اور جدوجہد کریں گے۔ نوجوان پاکستان کے نظریے کو فروغ دیں، جن مسلمانوں نے ہندوستان میں رہ جانا تھا انہوں نے بھی پاکستان کیلئے ووٹ دیا تھا کیونکہ نظریہ پاکستان یہ تھا کہ ہم ایک ملک بنائیں گے جو مثالی اسلامی ریاست بنے گی۔ مثالی ریاست وہ ہوتی ہے جو خوددار ہو، جس میں انسانیت اور انصاف ہو، خوددار اسلامی ریاست کسی کے آگے نہیں جھکتی، پہلے ہم دنیا کی بڑی طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے تھے لیکن اب ہمارا خودداری کا جو مقصد ہے تو ہم ایسا نہیں کریں گے۔ پختونخوا میں ہر خاندان کے پاس ہیلتھ انشورنس آ گئی ہے، ایک غریب گھرانہ کسی بھی ہسپتال میں 10لاکھ روپے کا علاج کرا سکتا ہے، ترقیاتی ملکوں میں بھی سب کو یکساں ہیلتھ انشورنس کی فراہمی نہیں ہے، ابھی ہمارے پاس بھی اتنے وسائل نہیں ہیں لیکن ہم اس سفر پر نکل گئے ہیں کہ ہم اپنے ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں ہم زندگی کی ریس میں پیچھے رہ جانے والے کمزور کا معیار زندگی بلند کرنا چاہتے ہیں۔فلاحی ریاست میں تیسری سب سے اہم چیز انصاف ہے، جس معاشرے میں قانون کی عملداری نہ ہو، وہ ترقی نہیں کر سکتا اور اب پاکستان کا سفر اس طرف شروع ہو گیا ہے جس میں پہلے میرٹ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ معاشرے میں انصاف ہوتا ہے تو میرٹ ہوتا ہے، عمران خان کے دوست، کزن، رشتے دار بڑے عہدوں پر نہیں ہیں کیونکہ یہاں میرٹ ہے اور اس کے بھی بہت اثرات مرتب ہوں گے۔ جس قوم میں خودداری نہ ہو اور جو امداد اور بھیک مانگے، وہ کبھی ترقی نہیں کرتی۔اس موقع پر انہوں نے میڈیا میں سچائی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا جتنا آپ سچ اور حقائق کو بیان کریں گے، اتنا ہی اونچا مرتبہ حاصل کریں گے، صحافت میں بھی یہ چیز بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک صحافی جعلی اور جھوٹی خبر چلا کر ایک مرتبہ فائدہ اٹھا لے گا لیکن وہ زیادہ عرصے تک چل نہیں سکتا، اس کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور صحافت میں سب سے اہم چیز آپ کی ساکھ ہوتی ہے۔میں ہمیشہ چاہوں گا کہ آپ سچ لکھیں، تنقید کریں تو درست تنقید کریں، اگر ہماری حکومت کرپشن نہیں کررہی اور ملک کے قانون نہیں توڑ رہی تو ہمیں آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا سے کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق ان کو پڑتا ہے جو چوری کررہے ہوں کیونکہ وہ صحافت کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں، آمر قانون توڑ رہے ہوں تو وہ میڈیا اور عدلیہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔میں چیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسی حکومت نہیں آئی جس نے میڈیا کو اتنی آزادی دی ہو، آپ صرف یہ نکال کر دیکھ لیں کہ تین سال میں کتنی خبریں ہمارے حق میں لگی ہیں اور کتنی ہمارے خلاف لگی ہیں، کتنے پروگرام ہمارے حق میں اور کتنے خلاف ہوئے ہیں، میں گارنٹی دیتا ہوں 70فیصد پروگرام ہمارے خلاف گئے ہیں۔عمران خان نے کہا اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی کہ ایک ملک کے وزیراعظم کو کہہ رہے ہیں کہ اس نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو زائچہ نکال کر نامزد کیا ہے، یہ ایک اہم اخبار کے فرنٹ پیج پر لکھا تھا، یہی انگلینڈ میں لکھتے تو مجھے لاکھوں ڈالرز ہتک عزت کی مد میں ملتے جو میں اپنی چیریٹی میں بھیج دیتا اور شوکت خانم کو اس سے بہت فائدہ ہوتا۔ پاکستان کے میڈیا کو اتنی آزادی کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے کیونکہ ہمیں فکر نہیں ہے لیکن ہمیں مسئلہ جعلی خبروں اور پراپیگنڈے سے ہے۔عمران خان نے نوجوانوں سے کہا وہ نئے آئیڈیا کا سوچیں کیونکہ انسانی تاریخ میں نوجوانوں کو کبھی اتنے وسائل میسر نہ تھی کہ 25، 25سال کے لڑکے ارب پتی بن گئے اور انہوں نے اپنے کاروبار شروع کردئیے لہٰذا ہماری حکومت بھی آپ کو پوری طرح سہولیات فراہم کرے گی۔وزیرِ اعظم عمران خان سے چیئر مین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے ملاقات کی جس میں چیئر مین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے وزیرِ اعظم کو ملک میں کم قیمت رہائش کی فراہمی کیلئے جاری منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ بتایاگیاکہ مارٹگیج فنانسنگ کیلئے سٹیٹ بنک نے 69 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کم قیمت رہائش کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،حکومت نے ملک میں پہلی دفعہ مارٹگیج فنانسنگ کو متعارف کرایا ہے۔۔ہفتہ روزہ میگزین نیوز ویک کو انٹریو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کابل میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکام سے مل کر کام کرنا ہوگا، طالبان امریکا کیساتھ امن میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔ افغانستان میں عبوری دور مشکل ہے لیکن طالبان کے مکمل کنٹرول سے امن کی امید ہے، افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دوسرے دہشتگرد گروپس کو غیر موثر کرنے کیلئے افغان حکومت کے ساتھ کام کرنا ہوگا، امریکا اور خطے کی طاقتوں کے درمیان تعاون ہی تباہی سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ سی پیک کی وجہ سے تجارت اور ترقیاتی منصوبوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں، طالبان نے سی پیک منصوبوں کا خیر مقدم کیا۔ سابق حکومتوں کی ناکامیوں سے افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے، افغانستان میں استحکام اور انسانی بحران کے خاتمے کیلئے اس کی مدد کرنا ہوگی۔  طالبان امریکا کیساتھ امن میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ دونوں افغانستان سے دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اسلئے دونوں ممالک کو افغانستان میں استحکام اور انسانی بحران کے خاتمے کیلئے مدد دینا ہوگی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -