نوا ز شریف کی اراضی کی نیلامی، ضلع انتظامیہ متحرک، 3کمیٹیاں تشکیل 

    نوا ز شریف کی اراضی کی نیلامی، ضلع انتظامیہ متحرک، 3کمیٹیاں تشکیل 

  

 لاہور(نامہ نگار)سول عدالت نے شریف خاندان کے جاتی امراء کی اراضی کے وراثتی انتقال کی درخواست پرسابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بہن کوثر یوسف اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں، عدالت نے تعمیل کنندہ کو چیف سیٹلمنٹ کمشنر اور کوثر یوسف کو نوٹسز وصول کروانے کی تصاویر بھی ریکارڈ کرنے کا حکم دیاہے،عدالت نے حکم دیاہے کہ عدالتی نوٹس کی تعمیل کے بعد نوٹسز کے پیچھے نقشہ موقع بھی بنایا جائے اور یوسف عباس کی پھوپھو کوثر یوسف اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر کو بذریعہ ڈاک بھی نوٹسز بھجوائے جائیں، سول جج عمران اسحاق نے یوسف عباس شریف کے دعویٰ استقرار حق و دائمی حکم امتناعی پر سماعت کی،دعویٰ میں میاں نواز شریف، شہباز شریف اور کوثر یوسف کو شمیم اختر کے قانونی ورثاء کے طور پر فریق بنایا گیا ہے،پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری، چیف سیٹلمنٹ کمشنر، ایل ڈی اے، کمشنر لاہور، ڈی سی، اے سی، تحصیلدار اور پٹواری رائیونڈ کو بھی فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزارکا یوسف عبا س شریف کاموقف ہے کہ شریف خاندان بہن بھائیوں سمیت دادی کی ملکیتی اراضی پر جاتی امرا موضع مانک میں رہائش پذیر ہیں، دادی شمیم اختر نے 241 کنال 10 مرلہ اراضی خریدی تھی، دادی شمیم اختر 22 نومبر 2020 کو انتقال کر گئیں، دادی کی فوتیدگی کے بعد وراثت کا انتقال کروانے کیلئے محکمہ مال کے پٹواری کو درخواست دی، پٹواری نے موجودہ حکومت کے دباؤ پر اراضی کا وراثتی انتقال درج کرنے سے انکار کر دیا، موجودہ حکومت کے دباؤ پر غیرقانونی طریقہ سے اراضی کی ملکیت و حیثیت تبدیل کئے جانے کا علم میں آیا ہے، صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے شریف خاندان کے گھروں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، عدالت سے استدعاہے کہ حکومت کو دادی کی ملکیتی اراضی کی ملکیت و حیثیت تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو شریف خاندان کے قبضے میں مداخلت سے روکا جائے، عدالت سے یہ استدعا بھی ہے کہ یوسف عباس، نواز شریف، شہباز شریف اور کوثر یوسف شمیم اختر کا قانونی وارث قرار دیا جائے۔دوسری جانب لاہور کی ایک سول عدالت نے جاتی امرا کی 127 کنال اراضی کے کیس میں مریم نواز کے گھر کے باہر نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ تعمیل کنندہ نے جمعہ کو عدالت میں موقف اپنایا کہ اے سی رائیونڈ نے حقائق کے برعکس زمین کے انتقال منسوخ کیے۔ مریم نواز کی رہائش گاہ پر نوٹسز بھی وصول نہیں کیے جا رہے۔ سول کورٹ لاہور نے تعمیل کنندہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ مریم نواز کے گھر کے باہر نوٹس آویزاں کرکے تصویر بناکر پیش کی جائے۔ لاہور کی سول عدالت میں ایک درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ شریف خاندان نے جاتی امرا میں اس کے آبا ؤاجداد کی اراضی پرغیر قانونی قبضہ کیا ہے۔ 

جاتی امرا اراضی 

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اراضی کی نیلامی کے لئے بڑا فیصلہ کر لیا گیا، ڈسٹرکٹ پرائس اسسمینٹ کمیٹی نے 1128کنال زمین کا تخمینہ چار ارب 15کروڑ روپے لگا دیا۔ضلعی انتظامیہ لاہور نے میٹنگ منٹس جاری کر دیئے۔ سابق وزیر اعظم کی تین جائیدادوں کی نیلامی کے لئے ضلعی انتظامیہ متحرک ہوگئی۔1128کنال اراضی کا تخمینہ لگا کر تین کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔موضع میاں میر،مانک اور بدوکی ثانی کی جائیدادیں چند روز میں نیلام ہونے کا امکان ہے۔ موضع میاں میر 135 اپر مال پر واقع دو کنال 8 مرلہ کمرشل پلاٹ کا تخمینہ 20کروڑ48لاکھ 32ہزار روپے میں نیلامی کا فیصلہ کیا گیا۔موضع مانک کی 936 کنال 10 مرلہ زرعی اراضی کی نیلامی 3ارب 4کروڑ میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا، موضع بدوکی ثانی میں 279 کنال زرعی اراضی کی نیلامی 91کروڑ 34لاکھ روپے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیب کورٹ کے حکم پر نیلامی کے کیلئے تین کمیٹیاں تشکیل دے دی۔تحصیل رائیونڈ میں اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید کمیٹی کے کنونیئر مقرر کیا گیا ہے، تحصیل کینٹ میں اسسٹنٹ کمشنر کینٹ ذیشان رانجھا کمیٹی کے کنونیئر مقرر کیے گئے ہیں۔ڈسٹرکٹ کمیٹی کے کنونیئر ڈپٹی کمشنر لاہور مقرر کر دیئے گئے، کمیٹی ممبران میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، ڈپٹی ڈائریکٹر نیب، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ اور اسسٹنٹ کمشنر کینٹ شامل کیا گیا ہے۔

اراضی نیلامی 

مزید :

صفحہ اول -