افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران کاخاتمہ ضروری، عالمی برادری افغانوں کی معاونت یقینی بنائے: شاہ محمود

  افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران کاخاتمہ ضروری، عالمی برادری افغانوں ...

  

 نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے پاکستان جاپان کیساتھ اپنے سیاسی اور معاشی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان جاپا ن کو ایک ترقیاتی حوالے سے قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کا قیام خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، افغانستان میں نمو پاتے انسانی و معاشی بحران کے خاتمے کیلئے ضروری ہے عالمی برادری افغانوں کی معاونت کو یقینی بنائے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس کے موقع پر جاپان کے وزیر خارجہ مسٹر توشی مِٹسو موتیجی سے ملاقات ہوئی جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرخارجہ نے کہاہم 2022 میں پاکستان اور جاپان کے سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کو پرجوش انداز میں منانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ انہوں نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے،مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت پربھی زور دیا۔انہوں نے بھا رت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد پر مشتمل ایک ڈوزیر جاپانی ہم منصب کو پیش کیا۔ دریں اثناء وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رینکنگ ممبر ریپبلکن سینیٹر جیمز رِش سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں وزیر خارجہ نے پاکستان کیطرف سے، امریکہ کیساتھ وسیع البنیاد، اسٹریٹجک شراکت داری کی خواہش کا اعادہ کیااور علاقائی روابط، دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افغانستا ن میں ایک جامع سیاسی تصفیے کے حصول کیلئے کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہارکیا۔ امریکی سینیٹر رش نے دوطرفہ اور علاقائی امور پر مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون جاری رکھنے کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے فن لینڈ کے ہم منصب، پیکا ہاویسٹو کیساتھ بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور فن لینڈ کے درمیان سفارتی روابط کی سات دہائیاں مکمل ہو نے پر مبارکباد دی اور فن لینڈ کیساتھ سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، معاشی بندھن کو گہرا کرنے اور تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں وز ر ا ئے خارجہ نے دو طرفہ سیاسی مشاورت کا اگلا اجلاس جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ نے، فن لینڈ کے ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی،جبکہ افغانستان ایشو پر پاکستان کے نقطہ نظر سے بھی آگاہ کیا۔بعدازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سویڈن کی وزیر خارجہ محترمہ اینا لنڈے سے ملاقات ہوئی، وزیر خارجہ نے کہا پاکستان، سویڈن کو یورپی یونین میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر خصوصی اہمیت دیتا ہے۔  پاکستان اور سویڈن کے مابین دو طرفہ تجارت سرمایہ کاری، صاف توانائی ترقیاتی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیر خارجہ نے اپنے سویڈش ہم منصب کو افغانستان کی صورتحال اور خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے سویڈن کی وزیر خارجہ کو دورہ ء پاکستان کی دعوت بھی دی۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کیساتھ ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا، شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستا ن، انڈونیشیا کیساتھ، سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ، آسیان اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا، انڈونیشیا کی وزیر خارجہ نے کابل سے، انڈونیشین سفارتی عملے کے محفوظ انخلاء میں سہولت کی فراہمی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا،دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دو طرفہ سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور عوام کی سطح پر روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -