رواں سال کے دوران 1854 پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں 

رواں سال کے دوران 1854 پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں 

  

پشاور(کرائم رپورٹر) فرائض میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کے لئے پشاور پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہے، پولیس اہلکار خود کو حقیقی معنوں میں عوام کا خادم سمجھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی انجام دیں، محکمہ پولیس میں خود احتسابی کا عمل جاری ہے جس کا مقصد شہریوں کو بہترین سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانااور پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کو جانچنا ہے، خود احتسابی اور سزا و جزا پر عمل پیرا ہو کر رواں سال کے دوران جہاں پولیس افسران و اہلکاروں کو نقدانعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا ہے وہیں فرائض میں غفلت اور اختیارات سے تجاوز سمیت عوامی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 1854 پولیس اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئیں ہیں، سزا و جزا کے سخت ترین نظام کے تحت کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے اہلکاروں کو سزائیں ملی ہیں جن میں سے 61 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ، تین کو جبری ریٹائرڈ جبکہ متعدد کو تنزلی اور رینک توڑنے کی سزا دی گئی ہے سی سی پی او عباس احسن  تفصیلات کے مطابق کپیٹل سٹی پولیس پشاور میں رواں سال کے دوران فرائض میں غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب 1854 پولیس اہلکاروں کوسزائیں دی گئی ہیں جن میں سپاہی سے لے کر انسپکٹر تک کے اہلکار شامل ہیں، سزا پانے والے میں سے 61 اہلکاروں کو سنگین سزائیں دیتے ہوئے ملازمت سے برخاست کیا گیا جبکہ تین اہلکاروں کو جبری ریٹائرمنٹ پر گھر بھینجے سمیت متعدد کو تنزلی اور رینک توڑنے کی سزاسنائی گئی ہے سی سی پی او عباس احسن نے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ تر سزائیں فرائض میں غفلت اور عوامی شکایات سمیت اختیارات سے تجاوز پر دی گئیں ہیں، انہوں نے مزید کہا ہے کہ پشاور پولیس میں غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اہلکار حقیقی معنوں میں خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہوئے ان کو بہترین سروسز کی فراہمی کو یقینی بنائیں، انہوں نے مزید کہا ہے کہ محکمہ پولیس میں خود احتسابی پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد پولیس اہلکاروں کو شہریوں کا جوابدہ بنا کر ان کے مسائل کا بروقت تدارک کرنا اور ان کو قانونی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ محکمہ پولیس میں ہونے والے اصلاحات کا ثمر عام عوام تک پہنچ سکے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -