کے ایم یو پبلک ہیلتھ کا کورونا وبا ء میں کردار ناقابل فراموش ہے: تیمور سلیم جھگڑا

کے ایم یو پبلک ہیلتھ کا کورونا وبا ء میں کردار ناقابل فراموش ہے: تیمور سلیم ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ کے ایم یو پبلک ہیلتھ ریفرنس لیب نے کوروناء وبا کے دوران جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے، جینوم سیکوینسنگ سہولت کی فراہمی سے کے ایم یو پی ایچ آر ایل نے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے جس سے نہ صرف مختلف پبلک ہیلتھ امراض کی بر وقت تشخیص میں مدد ملے گی بلکہ اسکے ذریعے کسی بھی مرض کی وبائی شکل اختیار کرنے سے روک تھام کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ کے ایم یو میں ڈے کئیر اینڈ بریسٹ فیڈنگ سنٹر کا افتتاح محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر ایسے اداروں کے لئے بھی ایک قابل تقلیدمثال ہے جہاں خواتین کام کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت احساس پروگرام سمیت دیگر سکیموں کے ذریعے ہونہار اور نادار طلباء وطالبات کو تعلیم اور ہاسٹل اخراجات کی مد میں مختلف وظائف فراہم کر رہی ہے او ر اس سلسلے کو آنے والے دنوں میں مذید وسعت دی جائے گی۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہارخیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو)پشاور پبلک ہیلتھ ریفرنس لیب میں جینوم سیکوینسنگ سہولیات اور ڈے کیئر اینڈ بریسٹ فیڈنگ سنٹر کے افتتاح کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت طلباء و طالبات میں وظائف کے چیک تقسیم کرنے کی تقاریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر تے ہوئے کیاہے۔ جبکہ اس موقع پر وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹرضیاء الحق،اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر فاروق جمیل، رجسٹرارپروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم گنڈاپور، ڈائریکٹر پی ایچ آر ایل ڈاکٹر یاسر یوسفزئی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ کے ایم یو پی ایچ آر ایل  نے کورونا کے بیس ٹیسٹ یومیہ سے جس سفر کا آغاز کیا تھا آج الحمداللہ یہاں روزانہ 4000ٹیسٹ ہو رہے ہیں جبکہ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران یہاں پر آ ٹھ لا کھ سے زائد ٹیسٹوں کا ہونا اس لیب کی شاندار کارکردگی کا واضح ثبوت ہے جس پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، لیب کے ڈائریکٹر اور دیگر معاون عملہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات لائق تحسین ہے کہ کے ایم یو پی ایچ آر ایل این آئی ایچ اسلام آباد کے بعد پبلک سیکٹر میں ملک کی دوسری بڑی لیب بن گئی ہے جہاں جینوم سیکوینسنگ کی سہولیات دستیاب ہونگی۔ انھوں نے کہا کہ ان سہولیات کی دستیابی سے جہاں متعدی اور غیر متعدی امراض کی فوری تشخیص میں مدد ملے گی وہاں اس سے تشخیص شدہ امراض کے بر وقت تدارک اور علاج معالجے کی راہیں بھی کھلیں گی۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں کے دوران صحت کا بجٹ 86 ارب روپے سے بڑھا کر 146 ارب روپے کیا گیا ہے جسکے نتیجے میں صوبے کے لوگوں کو انکی دہلیز پر صحت کی بہترین سہولیات مل رہی ہیں۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ویکسی نیشن مہم میں تیزی کے نتیجے میں کورونا کی چوتھی لہر میں متوقع جانی نقصان پر کا فی حد تک قابو پایا گیا ہے اور کوروناسے اموات کی شرح میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں ویکسی نیشن کی شرح  18 سال سے زا ئد عمر کے افراد میں 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو دیگر صوبوں کے نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ویکسی نیشن کے حوالے سے چترال صوبے کے تمام اضلاع میں سر فہرست ہے جہاں 75 فیصد افرادکی ویکسی نیشن ہو چکی ہے جبکہ ہمارے دس اضلاع ایسے ہیں جہاں 50 فیصد سے زائدافراد کو ویکسی نیشن کی پہلی ڈوزمل چکی ہے البتہ ہماری کوشش ہے کہ ویکسی نیشن کی مہم میں مذید تیزی لائی جائے تاکہ کورونا کی کسی بھی دوسری ممکنہ لہر کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انھوں نے کے ایم یو میں ملازمت پیشہ خواتین کی سہولت کے لئے یونیسیف کے تعاون سے ڈے کئیر اور بریسٹ فیڈینگ سنٹر کے قیام کو ایک مثالی قدم قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو صوبے کے تمام تدریسی اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں بھی اسی نوعیت کے سنٹر بنانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں احساس سکالر شپ پروگرام کے تحت طلباء اور طالبات میں وظائف کے چیک تقسیم کرتے ہوئے تیمو سلیم جھگڑا نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم کو یکساں اہمیت دے رہی ہے اور اس ضمن میں مختلف سکیموں کے تحت طلباء و طالبات کو وظائف فراہم کئے جا رہے ہیں۔ وزیر صحت کو بتا یا گیا کہ یونیورسٹی میں احساس سکالر شپ سکیم کے تحت حالیہ بیچ میں 500 طلباء و طالبات میں تقریباً 68 ملین روپے کے وظائف تقسیم کئے جارہے ہیں جن میں ٹیوشن فیس کے علاوہ ہاسٹل اور جیب خرچ کے اخراجات شامل ہیں۔ قبل ازیں وزیر صحت نے یونیورسٹی میں پودا بھی لگایا جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے یونیورسٹی کی کارکردگی، درپیش مسائل اور صوبائی حکومت سے مطلوبہ تعاون کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جس پر  صوبائی وزیر صحت نے تمام مسائل کے حل میں صوبائی حکومت کے جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور سپیشل سیکرٹری ہیلتھ کو ہدایت کی وہ جلد از جلد کے ایم یو کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کر کے تمام مسائل حل کرنے میں تعاون کریں۔ #

مزید :

صفحہ اول -