مشکوک ٹرانزیکشن، فرد جرم عائد کرنے کیلئے آصف زرداری 29 ستمبر کو طلب

   مشکوک ٹرانزیکشن، فرد جرم عائد کرنے کیلئے آصف زرداری 29 ستمبر کو طلب

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ دیسک) احتساب عدالت نے جعلی اکاونٹس کیسز میں 8 ارب کی مشکوک ٹرانزیکشن کے نیب ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری کو 29 ستمبر کو فرد جرم کے لئے طلب کرلیا۔رجسٹرار احتساب عدالت کی جانب سے سمن آصف علی زرداری کو بلاول ہاؤس کراچی کے پتے پر ارسال کیا گیا۔ سمن نیب تفتیشی نے ارسال کیا۔ سمن میں کہا گیا ہے کہ 29 ستمبر کو احتساب عدالت نمبر تین میں پیش ہوں، فرد جرم کا جواب دینے کیلئے آپ کی ذاتی حیثیت میں پیشی لازم ہے۔یاد رہے آصف زرداری پر 8 ارب سے زائد کی مبینہ منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ سا۔ سابق صدر کے مبینہ فرنٹ مین مشتاق احمد کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ مشتاق احمد کو احتساب عدالت نے بذریعہ اشتہار طلب کر رکھا تھا اور  9 ستمبر کو ملزم کو پیش ہونے کی آخری مہلت دی گئی تھی مگر وہ پھر بھی پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے مشتاق احمد کا شناختی کارڈ بلاک اور جائیداد ضبطی کی کارروائی بھی شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ آصف زرداری 8 ارب کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے کیس میں ضمانت پر ہیں۔ نیب کا ریفرنس میں موقف ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ آصف زرداری نے کراچی میں کرپشن سے اپنا گھر بنایا۔ گھر کی خریداری کے لیے آصف زرداری کے اسٹینو گرافر مشتاق احمد نے رقم دی، 2009 سے 2013 تک صدارتی ہاس میں سرکاری ملازم کے طور پر کام کرنے والے مشتاق احمد کے بینک اکاونٹ سے 8 ارب 30 کروڑ روپے کی غیر قانونی ٹرانزیکشن ہوئی اور یہ رقم نجی ہاسنگ ادارے کو ادا کی گئی 

زرداری پیشی

مزید :

صفحہ اول -