مودی کیخلاف امریکہ میں احتجاجی مظاہرے، صدر جوبائیڈن کی طرف سے بھی سرد مہری وائٹ ہاؤس پہنچنے پر استقبال نہیں کیا مقبوضہ کشمیر میں بھی آج مکمل ہڑتال 

مودی کیخلاف امریکہ میں احتجاجی مظاہرے، صدر جوبائیڈن کی طرف سے بھی سرد مہری ...

  

واشنگٹن، سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی  کے کیے گئے مظالم نے ان کا پیچھا امریکا میں بھی نہ چھوڑا، مودی امریکا کیا گئے ان پر مشکلوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، مودی کی واشنگٹن آمد پر سکھ مظاہرین  نے کا احتجاج شروع کر دیا۔بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی ولرڈ ہوٹل میں مقیم ہیں جس کے باہر سکھ مظاہرین نے دھرنا دے دیا۔سکھ فار جسٹس کمیونٹی نے ولرڈ ہوٹل کے باہر خالصتان کے پرچم لہرا دیے، مظاہرین نے مودی کے خلاف اور خالصتان کی آزادی کے لیے نعرے بازی بھی کی۔ سکھوں کی تنظیم سکھ فار جسٹس کی جانب سے وائٹ ہاؤس سے لے کر اقوام متحدہ تک نریندر مودی کا پیچھا کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔اس حوالے سے سکھوں کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کے پر امن مظاہروں کے دوران 600 سے زائد افراد کو ریاست نے قتل کیا ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ وہ مودی کے مظالم کے خلاف وائٹ ہاؤس سے رابطے میں ہیں۔تنظیم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالہ ہیریس کو اس حوالے سے خطوط بھی لکھے گئے ہیں اور اراکین کانگریس کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں۔سکھوں کی تنظیم سکھ فار جسٹس کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا  کہ ہم سکھوں اور کشمیریوں کے قاتل مودی کو امریکہ میں چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔دریں اثنا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے بھی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا اور ا س وقت  انہیں خفت کا سامنا کرنا پڑا جب  وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر نے ان کا استقبال نہیں کیا دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے آج خطاب کے خلاف احتجاج کیلئے  حریت کانفرنس نے پورے مقبوضہ کشمیر  میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ کشمیری عوام کل نیویارک میں نریندر مودی کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے پورے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کر یں گے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام مکمل ہڑتال کے ذریعے دنیا کو یہ واضح پیغام بھی دیں گے کہ وہ اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی اور ناجائز تسلط کو قبول نہیں کرتے اور وہ اس سے مکمل آزادی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کے استعمال کا مکمل اختیار دیاہے۔حریت ترجمان نے کہاکہ ہڑتال کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے بھارت نے جموں وکشمیر کو ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کررکھا ہے اور مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے مسلسل نہتے کشمیریوں کا قتل عام اور کالے قوانین کے تحت ان کی غیر قانونی نظربندی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب سے قبل عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کریں۔۔ 22ستمبر کو ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے 'بھارت میں مذہبی آزادیوں ' کے بارے میں امریکی کانگریس کی ایک بریفنگ میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خوفناک ریکارڈ کا انکشاف کیاگیا ہے۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بھارتی حکومت کے حملے کی "سخت تنقید" سے متعلق ایشیا ایڈووکیسی کے ڈائریکٹر جان سیفٹن کی شہادت بھی بریفنگ میں پیش کی گئی۔امریکی ارکین کانگریس کو بتایا گیا کہ بھارت میں خاص طور پر 2014میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔جان سیفٹن نے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بھارتی قوانین اور پالیسیاں، بھارتی نظام انصاف میں مسلمانوں کے خلاف تعصب، جموں و کشمیر میں جاری محاصرے، بی جے پی کی حکومت کی جانب سے سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈان کو بھی دستاویزی شکل دی ہے۔

مودی احتجاج

مزید :

صفحہ اول -