ہائیکورٹ: 18سالہ لڑکی کو فرضی باپ کانام دیکرنادراکو شناختی کارڈ بنانے کا حکم 

ہائیکورٹ: 18سالہ لڑکی کو فرضی باپ کانام دیکرنادراکو شناختی کارڈ بنانے کا حکم 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس محمد شان گل نے نادرا کو ایک ایسی خاتون کا شناختی کارڈ بنانے کاحکم دیا ہے جن کے حقیقی والدین کا کسی کو علم نہیں،عدالت نے 18سالہ لڑکی کو فرضی باپ کا نام دے کر نادرا کو شناختی کارڈ بنانے کا حکم دے دیا،فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ شناخت شہری کا بنیادی حق ہے،ملک میں خواجہ سراؤں کو بھی شناخت کا حق دیا گیاہے،عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھاہے کہ نادرا نے ناصر احمد کی شکایت پردرخواست گزار زرمین عابد کا شناختی کارڈ یک طرفہ طور پر بلاک کر دیا،شناخت چھن جانے کے بعد زرمین عابد کی حالت ایسی ہے جیسے بلیوں کے درمیان کسی کبوتر کو چھوڑ دیا جائے،شناخت چھن جانے کے بعد لڑکی غیر محفوظ، کمزور ہو چکی ہیں،ہمیں نہیں پتا کہ ان کی والدہ کے نئے شوہر ناصر احمد نے نادرا کو ایسا کرنے کو کیوں کہا؟لیکن نادرا نے بھی خاتون کو سنے بغیر خوشی خوشی ان سے ان کی شناخت چھین لی،عدالت نے شناخت کو بنیادی انسانی حق قرار دے دیاہے،جن کے والدین کا کسی کو کچھ پتا نہیں ہوتا، سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے ان کو شناخت دی،زرمین عابد نامی ملتان کی رہائشی خاتون نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ درخواست گزار18سالہ لڑکی زرمین عابد کی طرف سے موقف اختیارکیا کہ نادرا نے اس کاکا شناختی کارڈ کینسل کر دیا، زرمین لڑکی اپنے حقیقی والدین کے بارے میں کچھ نہیں جانتی،لڑکی رضاعی ماں زرسنگہ ناصر کو جانتی ہے، زرسنگہ ناصر کے پہلے شوہر کا نام عابدالرحمان تھا،فارم (ب) اور تعلیمی اسناد پر والد کی جگہ رضاعی والدہ کے شوہر عابدالرحمان کا نام درج تھا،زرمین کی والدہ نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لے کر ناصر احمد نام کے کسی دوسرے شخص سے شادی کر لی،نادرا نے ان کے خاندانی ریکارڈ کو تبدیل کر کے والد کی جگہ ناصر احمد کا نام لکھ دیا،ناصر احمد نے نادرا میں درخواست دے دی کہ زرمین ان کی بیٹی نہیں ہے جس پرنادرا نے شناختی کارڈ بلاک کردیااور لڑکی کو دادرسی کے لئے عدالت سے رجوع کرناپڑا۔

 شناختی کارڈ 

مزید :

صفحہ آخر -