پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذر  ایجنڈا مکمل کیے بغیر پیر تک ملتوی

پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذر  ایجنڈا مکمل کیے بغیر پیر تک ملتوی

  

لاہور(این این آئی)پنجاب اسمبلی کااجلاس پہلے روز ہی کورم کی نذر ہوگیا، مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ایجنڈا مکمل کئے بغیر پیر کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیاگیا جبکہ صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ خالد محمود نے ایوان میں اعتراف کیا ہے کہ ٹڈی دل سے متاثرہ کسانوں کو کسی بھی قسم کی مالی امداد نہیں دی گئی، پالیسی کے تحت پچاس فیصد سے کم متاثر موضع جات کو مالی امداد نہیں دے سکتے، وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن رکن صہیب احمد بھرت اور پارلیمانی سیکرٹری غضنفر عباس کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی جس پر ڈپٹی سپیکر نے انہیں ڈانٹ پلاتے ہوئے نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کردی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت کی بجائے دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سرداردوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں محکمہ مال و کالونیزاور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے بارے میں سوالات کے جوابات دئیے گئے۔وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی رانا منور غوث نے کہا کہ 1993-94 میں اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب نے سرگودھا میں بھٹو کالونی کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیا تھا،آج حکومت لوگوں کو گھر چھوڑنے کا حکم دے رہی ہے،حکومت غریب شہریوں سے گھر خالی کرا رہی ہے۔جس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری کالونیز نے کہا کہ کالونیز ریکارڈ میں کسی آباد ی میں بھٹو کالونی کااعلان نہیں ہوا تھا اور نہ ہی مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیا گیاتھا۔جن لوگوں نے غیرقانونی قبضہ کیا ان سے جگہ واگزار کرائیں گئے۔صہیب بھرت نے سرگودھا میں سرکاری زرعی زمین ناجائز قابضین سے واگزار کروانے کے سوال پر سخت الفاظ کا استعمال کیا۔صہیب بھرت نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری بتائیں کہ کس کس سرکاری زمین پر قبضہ ہوا اور کون کون سی زمین کے کیسز عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ یہ وطیرہ اپنایاجارہاہے کہ پہلے تنقید کریں پھر سوال کریں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے اس رویے پر جواب نہیں دوں گا۔جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے صہیب بھرت کو اپنی نشست پر بیٹھنے کا کہہ دیااور کہا یہ پنجاب اسمبلی کاایوان ہے کوئی عام جگہ نہیں ہے۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سید حسن مرتضی نے کہا کہ رکشہ ڈرائیورز سڑکوں پر ہیں،حکومت اعلان کرتی ہے کہ ایل ٹی سی شہر میں ہزاروں بسیں لائے گی،لاہور کیلئے صرف چار سو بسیں لائی گئیں،سر توڑ مہنگائی ہے،لوگ روزی کمانے کیلئے تنگ ہیں،ایل پی جی کی قیمت اسی روپے سے دو سو روپے کلو تک پہنچ گئی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں،وزیر خزانہ نے گھی کانوٹس لیا تو وہ پندرہ روپے مہنگا ہوگیا،حکومت کون کر رہاہے سمجھ نہیں آتا،پینسٹھ سو روپے کی ڈی اے پی کی بوری ہوگئی کیا اس کو کسان خرید سکتاہے،سوئی گیس اور بجلی کاچار روپے والا یونٹ کہان پہنچ گیاہے،راجہ پرویز اشرف کو چور کہتے رہے اب یونٹ اٹھائیس روپے کا ہوگیا اب کون چور ہے،سکول مافیا لوٹ رہاہے،کوئی پرائیویٹ مافیا کو ہاتھ ڈالنے کیلئے تیار نہیں،انتہا کی مہنگائی ہے لیکن آپ کہتے ہیں گھبرانا نہیں،تین سال سنتے ہو گئے ہیں کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے اگرحکومت کی اجازت ہو تو تھوڑا گھبرا لیں کیونکہ حالات انتہائی خوفناک ہو چکے ہیں۔اجلاس کے دوران سرکاری کارروائی شروع ہی ہوئی تھی کہ اپوزیشن کے رکن اسمبلی ارشد ملک ایڈووکیٹ نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر پینل آف چیئر مین نے پہلے پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کے لئے کہا لیکن کورم پورا نہ ہو سکا جس کے بعد اجلاس کی کارروائی پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ دوبارہ اجلاس کا آغاز ہونے پر بھی حکومت کورم پورا نہ کرسکی اور اجلاس پیر کی دوپہر دوبجے تک ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -