بلاول اور زرداری کے لیے سندھ ایک بزنس کی طرح ہے، ایاز لطیف

  بلاول اور زرداری کے لیے سندھ ایک بزنس کی طرح ہے، ایاز لطیف

  

حیدرآباد(این این آئی)قومی عوامی تحریک کے سربراہ اور معروف سندھی قوم پرست سیاستدان ایاز لطیف پلیجو  نے کہاہے کہ سندھ کو تباہ اور برباد کرنے میں 65فیصد کردار سندھی حکمرانوں کا ہے،بلاول اور زرداری کے لیے سندھ ایک بزنس کی طرح ہے،دادو، بدین اور شکار پور کو پنجابی، پٹھان، بلوچ یا دیگر قومیں آ کر نہیں لوٹتی ہیں بلکہ ہمارے سندھی حکمران اس کو لوٹ رہے ہیں،  کرپشن کے ذریعے سندھ کا انفرااسٹریکچر تباہ وبرباد کر دیا گیا ہے، ہم ووٹ دیتے ہیں، تو اس کا مطلب ہم پاکستان کو مانتے ہیں۔ایاز لطیف پلیجو نے امریکہ کے شہرہیوسٹن میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی مرکزی فنانشنل کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور معروف بزنس ٹائیکون طاہرجاوید کی جانب سے  اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک ظہرانے سے خطاب کیا، تقریب میں عمائدین شہر اور کمیونٹی رہنما بھی شریک تھے۔ایاز لطیف پلیجو نے خطاب کے دوران کہا کہ وہ جی ڈی اے کا حصہ رہے، نواز شریف سمیت عمران خان تمام حکمرانوں کو انہوں نے سندھ کے مسائل سے متعلق چارٹر اور ڈیمانڈ پیش کیے مگر ان پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ مڈل اور اپر مڈل کلاس کی تمام لوگ باتیں کرتے ہیں مگر لوئر کلاس کی کوئی بات نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ نیچے طبقے میں بہت بڑا کرائسز ہے، پیٹرول اب124روپے کا ہے، دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، دو وقت کی روٹی افورڈ کرنا لوئر کلاس کے لیے اس وقت ناممکن ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف سندھ میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے پانی پہلے ہی کم ہو چکا ہے اور جو پانی آتا ہے اس پر وڈیروں نے قبضہ کررکھا ہے، عام کسان پانی سے محروم ہے جبکہ لینڈ مافیا سندھ کے دیہاتوں پر قبضہ کررہے ہیں، وہ 5گاؤں خرید کر 50گاؤں پر قبضہ کررہے ہیں اور سندھ کے لوگوں کو بے گھر کررہے ہیں، غیر قانونی تارکین وطن افغانستان سے آ رہے ہیں، یہ تمام مسائل سندھ کے نچلے طبقے کو بری طرح متاثر کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکا آئے ہیں تا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اصل صورتحال سے آگاہی دے سکیں تاکہ اوورسیز میں رہنے والے پاکستانی بھی سندھ کے نچلے طبقہ کی عوام کے مسائل حل کرانے میں ان کی مدد کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف سندھ بلکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباداور گوجرانوالہ میں بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لیے ریلیاں نکالیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -