رحیم یارخان، تھانوں میں شہریوں کی تذلیل کا انکشاف

رحیم یارخان، تھانوں میں شہریوں کی تذلیل کا انکشاف

  

رحیم یار خان(بیورو رپورٹ)رحیم یار خان پولیس کی چوروں  اور ڈاکوں کی پشت پناہی اور متاثرہ شہریوں کو تھانہ بلا کر ان کی تذلیل پولیس نے وطیرہ اپنا رکھا ھے چوروں کی نشاندھی کرنے اور پکڑے جانے کے بعد  چوری شدہ سامان کی بازیابی کے باوجود  (بقیہ نمبر57صفحہ7پر)

مسروقہ سامان  واپسی نہ کرنا کیا یہ انصاف ھے اور تھانوں میں پولیس اہلکاروں کا  شہریوں کے برآمد شدہ مال کو اپنی ملکیت سمجھ کر استمعال میں لانا اور متاثرین کو کاغذی کاروائیوں میں الجھائے رکھنا کیا یہ انصاف ھے، پولیس کا ھے کام خدمت آپکی کا نعرہ اور ہمارے محافظ ہونے کے دعویدار بننے والے اپنے اعلی افسران اور  میڈیا کے سامنے اپنی نیک نامی کے لئے کھلی کچہریوں کا ڈرامہ کر کے فرضی کارروائیوں کے جھوٹے قصے سنا کر یہ کس طرح کی شہریوں کی خدمت کی جا رہی ھے ان خیالات کا اظہار نہر کنارہ صادق کینال تھانہ سٹی اے ڈویژن کی حدود کی رہائشی لا کی طالبہ فائقہ علی اور مکہ ٹان کے رہائیشی محمد علی نے ان کے گھروں میں ہونے والی چوریوں کی وارداتوں  اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس کے ان کے ساتھ عدم تعاون پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اگست کے مہینے میں ان کے گھروں پر گھریلو ملازمین نے دو علیحدہ وارداتوں کے ذریعے ان کے گھروں سے نقدی اور طلائی زیورات چوری کر لئے اور فرار ہو گئے  جن کے مقدمات تھانہ سٹی اے ڈویژن میں درج  کرائے گئے اور ان دونوں وارداتوں میں چوری میں ملوث افراد کو نامزد کیا گیا جس کے چند دن بعد ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے ملزمان کو پولیس نے ٹریس کرتے ہوئے گرفتار کرلیا اور ان سے چوری شدہ مال بھی برآمد کر لیا گیا تاہم آپکو آپکا چوری شدہ سامان ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دیا جائے گا جس میں آپ نے پولیس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے پولیس کا شکریہ ادا کرنا ہے لہذا پریس کانفرنس اور آپ کے سامان کی حوالگی کے لئے آپکو مقرہ تاریخ اور وقت بتا دیا جائے گا جس کے بعد کچھ دن گزرے اور ہمیں جب تھانہ سے بلاوا نہ آیا تو ہم نے دوبارہ اپنے تفتیشی افسرسے رابطہ کیا جس نے ہمیں ڈی ایس پی سٹی سرکل سے رابطہ کرنے کا کہا جس پر ہم نے موصوف سے رابطہ کیا تو انہوں نے پولیس کی طرف سے ملزمان کے خلاف  تفتیش مکمل ہونے اور مزید  چند دن انتظار کا کہا لیکن ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر آج تک نہ ہمیں ہمارا چوری شدہ سامان واپس ملا اور نہ ہی ہمارے ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کی گئی بلکہ ہمارے  مقدمات نامزد ملزمان میں سے کچھ کو بری کر دیا گیا اور کچھ کو نامکمل تفتیش  کے باوجود جوڈیشل کر دیا گیا جس سے واضح طور پر متعلقہ تفتیشی افسر اور ڈی ایس پی سٹی سرکل کیا  کی بدنیتی واضح ہوتی ہے اور ہمیں قوی امکان  ہے ہمارے ملزمان سے ساز باز کر کے پولیس نے رشوت لے کر ہمارے مقدمات کو کمزور کر دیا اور ملزمان کوریلیف فراہم کیا جبکہ صادق کینال  نہر کنارہ کی رہائشی لا کی  اسٹوڈنٹ فائقہ علی نے کہا کہ مجھے میری ہونے والی چوری کے مقدمے میں بار بار ڈی ایس پی سٹی سرکل کے آفس بلایا جاتا رہا اور  مجھے میرے چوروں سے برآمد ہونے والے سامان کی برآمدگی اور ملزمان کی گرفتاری  بارے میں بھی آگاہ کیا میری تقریبا 18 لاکھ روپے کے سامان کی چوری ہوئی جس میں نقدی اور طلائی زیورات تھے اس  دوران جب میں تھانے میں  پہنچی تو میں نے اپنا گولڈ بریسلٹ ایک کانسٹیبل کو پہنے ہوئے دیکھا  جس پر میں نے ڈی ایس پی سٹی کو واضح طور پر بتایا کہ میں نے یہ بریسلٹ  پہچان لیا یہ میرا ہی بریسلیٹ ہے تو تب بھی ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور میری کوئی بات نہ سنی گئی لیکن میرے بریسلیٹ کی کانسٹیبل کے بعد موجودگی سے واضح ہوگیا کہ میرا  چوری شدہ مال برآمد ہوچکا ہے لیکن اس سب کے باوجود آج تک مجھے کوئی ریکوری نہیں دی گئی یہ کیسا انصاف ہے، کہ جس کی چوری ہو یا کوئی اور نقصان ہو وہ تھانے اور کچہریوں میں دھکے کھاتا پھرے اس حوالے سے میں نے سٹیزن پورٹل پر بھی  شکایت کی لیکن میری کی گئی شکایت کی سنوائی اسی ڈی ایس پی کے پاس ہوئی جس کی میں نے شکایت کی تھی تو بھلا وہ کیا مجھے انصاف فراہم کرے گا جس کے خلاف میں نے شکایت کی ہو یہاں شہری  چوروں اور ڈاکوں کے رحم کرم پر ہیں اور پولیس کھلی کچہریوں کے نام پر عوام سے بھونڈا مذاق کرنے میں مصروف ہے ہماری آئی جی پنجاب را سردار علی،ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب،آر پی او بہاولپور سے درخواست ہے کہ ہمارے ساتھ ہونے والے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان سے برآمد کیا گیا ہمارا چوری شدہ مال واپس کرایا جائے ہمارے مقدمات کی میرٹ پر تفتیش کراتے ہوئے  ہمارے مقدمات میں ناقص تفتیش کرنے والے تفتیشی افسر اور اس کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی شخصیات کے تابع افسران  کی فرائض میں غفلت برتتے ہوئے  چوروں کو ریلیف فراہم کرنے جیسے سنگین معاملہ کی تحقیقات کرائی جائیں اور خدارا  ہمیں تفتیش کے نام پر بار بار تھانے بلا کر ہماری تذلیل بند کرائی جائے ہم مقدمات میں مدعی  ہیں نہ کہ چور پھر پولیس کی جانب سے ہمارے ساتھ اس طرح کا جارحانہ رویہ کیوں اپنایا جا رہا ہے،سمجھ سے بالاترھے۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -