کیا شادی کا جھانسہ دے کر جسمانی تعلق قائم کرنا جنسی زیادتی ہے؟ عدالت نے اہم ترین فیصلہ سنا دیا

کیا شادی کا جھانسہ دے کر جسمانی تعلق قائم کرنا جنسی زیادتی ہے؟ عدالت نے اہم ...
کیا شادی کا جھانسہ دے کر جسمانی تعلق قائم کرنا جنسی زیادتی ہے؟ عدالت نے اہم ترین فیصلہ سنا دیا

  

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی بمبئی ہائی کورٹ نے شادی کا جھانسہ دے کر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں اہم فیصلہ سنا دیا۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک لڑکی نے 33سالہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرا رکھا تھا کہ وہ کئی سال تک شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا رہا اور پھر شادی سے انکار کر دیا۔ اس مقدمے میں بمبئی ہائی کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ شادی کا جھانسہ دے کر قائم کیا گیا جنسی تعلق جنسی زیادتی کے زمرے میں نہیں آتا۔ 

ڈویژن بینچ کے جسٹس سنیل دیش مکھ اور نیتن سوریاونشی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ”ایف آئی آر اور تفتیشی مواد سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکا لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کے لیے سنجیدہ تھا مگر کئی سال گزرنے پر اس کا ذہن تبدیل ہو گیا جو کہ ملک کے قانون کے تحت قابل سزا جرم نہیں ہے۔ “

 واضح رہے کہ 30سالہ خاتون نے آدمی کے شادی سے انکار کرنے پر اس کے خلاف پولیس کو رپورٹ درج کرائی تھی جس کے خلاف آدمی نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

مزید :

بین الاقوامی -