وہ شکاگو میں کہیں اور ہوتا تو پولیس اسے چور سمجھ کر گرفتار کر سکتی تھی

 وہ شکاگو میں کہیں اور ہوتا تو پولیس اسے چور سمجھ کر گرفتار کر سکتی تھی
 وہ شکاگو میں کہیں اور ہوتا تو پولیس اسے چور سمجھ کر گرفتار کر سکتی تھی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:26

ان اشتہاروں میں سے ایک اشتہار نے ان کی توجہ حا صل کی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ 2خوبصورت ننھے پرندے اپنا گھونسلا بنا رہے ہیں۔ ماریا نے ایک واقف سے کہا کہ وہ یہ اشتہار پڑھ کر اسے سنائے جس نے اسے بتایا کہ یہ گھر کی تکمیل کے بارے میں ہے۔ یہ کمپنی 4 کمروں کے گھر کو صرف 75 ڈالرز کی مختصر رقم میںمکمل کرسکتی تھی۔ مزید اہم بات یہ تھی کہ آپ کو پہلے تھوڑے سے پیسے نقد دینے تھے باقی آسان ماہانہ اقساط میں دئیے جا سکتے تھے۔ہمارے دوستوں کو تھوڑے سے فرنیچر کی ضرورت تو تھی اور اس کے بغیر گزارہ بھی مشکل تھا چنانچہ اِس سے ان کی بچی کھچی جمع پونجی مزید کم ہوگئی۔ الز بیٹا کو ایک اور کاغذ پر دستخط کرنا پڑے۔ ایک رات جب یورگس گھر آیا تو اسے بتایا گیا کہ فرنیچر پہنچ گیا ہے۔ بیٹھک کےلئے 4 پیس کا سیٹ، سونے کے کمرے کےلئے 3 پیس کا سیٹ، کھانے کا میز اور 4 کرسیاں،مونھ ہاتھ دھونے کا سامان جس پر گلابی رنگ کے خوبصورت چھوٹے چھوٹے گلاب کے پھول بنے ہوئے تھے۔استعمال کے برتن، ان پر بھی گلاب کے گلابی پھول تھے، وغیرہ وغیرہ۔ برتن کھولے گئے تو 1 پلیٹ ٹوٹی ہوئی نکلی اور اونا نے فیصلہ کیا کہ صبح پہلے وقت جا کر وہ اسے تبدیل کروا کر لائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنی نے 3 پتیلیوں کا کہا تھا لیکن نکلیں صرف 2۔ یورگس کو خیال آیا کہ کہیں ان کے ساتھ دھوکا تو نہیں کیا جارہا۔ اگلے دن کام سے آکر مردوں نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور سامان منتقل کرنے میں مصروف ہو گئے۔ نیا گھر تقریباً 2 میل سے زیادہ دور تھا۔ یورگس نے سامان سر پر اٹھا کر پیدل 2چکر لگائے۔ وہ شکاگو میں کہیں اور ہوتا تو پولیس اسے چور سمجھ کر گرفتار کر سکتی تھی لیکن پیکنگ ٹاؤن کی پولیس اس طرح کی آمدورفت کی عادی تھی اور سرسری جائزے سے زیادہ پریشان نہیں کرتی تھی۔ سامان سے بھر کرنیا گھر چراغ کی مدھم روشنی میں اشتہار میں بنے ہوئے گھر جیسا اچھا لگنے لگا تھا۔ 

اونا تو خوشی سے ناچ رہی تھی۔ وہ اور ماریا دونوں یورگس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سارے کمرے دکھانے لگیں۔ وہ ایک ایک کرسی پر بیٹھ کر دیکھتیں اور یورگس کو بھی ایسا کرنے کو کہتیں۔ یورگس ایک کرسی پر بیٹھا تو وہ اس کے بوجھ سے چرچرائی اور ان کی چیخیں نکل گئیں، جس سے بچہ جاگ کر رونے لگا اور سب گھر والے بھاگے چلے آئے۔ مجموعی طور پر یہ ایک بہترین دن تھا لیکن تھکاوٹ کے باوجود اونا اور یورگس ایک دوسرے کی بانھوں میں سمٹے بہت دیر تک خوشی سے کمرے کو دیکھتے رہے۔ معاملات ذرا سیدھے ہوتے اور تھوڑے سے پیسے جمع ہوتے ہی وہ شادی کرنے والے تھے۔ یہ ان کا گھر اور یہ ان کا کمرہ ہوگا۔

گھر کی ضروریات پورا کرنا ایک نا مختتم مسرت تھی لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ صرف مزے کےلئے خرچ کرتے رہتے۔ اس کے باوجود چند چیزیں بہر حال لازمی ضرورت کی تھیں جن کا حصول اونا کےلئے ایک مہم کے برابر تھا۔ یہ کام زیادہ تر رات کو کرنا تھا جب یورگس واپس آجائے۔ ہفتے کی رات وہ ٹوکری بھر کر سامان لائے اور میز پر پھیلا دیا۔ سب گھر والے جمع ہوکر یہ سامان دیکھنے لگے۔ بچے کرسیوں پر چڑھ گئے۔ جنھیں نظر نہیں آرہا تھا وہ گود میں اٹھائے جانے کی ضد کرنے لگے۔ ان کے سامان میں نمک، چائے کی پتی، پاپڑ، ایک ڈبا گھی، دودھ کی بالٹی، رگڑائی والا برش،بڑے لڑکے کےلئے جوتوں کا جوڑا، تیل کا ڈبا، ہتھوڑی اور ایک پاؤنڈ کیل۔ یہ آخری چیز باورچی خانے اور سونے کے کمرے کی دیواروں میں ٹھونکنے کےلئے تھی تا کہ چیزیں ٹانگی جا سکیں۔ اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ کس کی کون سی جگہ ہوگی۔ یورگس نے کیل ٹھونکنے کی کوشش میں انگلیاں زخمی کر لیں کیوں کہ ہتھوڑی بہت چھوٹی تھی۔ وہ اونا پر بگڑنے لگا کیونکہ اسی نے 15 سنٹ بچانے کےلئے بڑی کی جگہ چھوٹی ہتھوڑی خریدی تھی۔ اس نے اونا کو کوشش کرنے کےلئے کہا۔ اس کا بھی انگوٹھا زخمی ہوا جس سے اس کی چیخ نکل گئی اور یورگس نے اس کا انگوٹھا چوم کر درد کم کیا۔ بالآخر سب کی جدوجہد سے کیل لگ گئے اور چیزیں ٹنگ گئیں۔ یورگس ایک بڑا ڈبا سر پر اٹھا کر لایا تھا، اس نے یونس کو بھیجا کہ وہ دوسرا ڈبا جا کراٹھا لائے۔ وہ ان سے پرچھتیاں اور الماریاں بنانا چاہتا تھا تاکہ چیزیں سلیقے سے رکھی جا سکیں۔ اشتہار میں گھونسلے کےلئے جتنی چیزیں دکھائی گئی تھیں وہ شاید اتنے لوگوں کےلئے ناکافی تھیں۔

کھانے کا میز انہیں باورچی خانے میں رکھنا پڑا کیونکہ کھانے کے کمرے میں آنٹ الز بیٹا اور 5بچوں نے سونا تھا۔ وہ اور 2 سب سے چھوٹے بچے ایک پلنگ پر سوئے جب کہ 3 زمین پر گدّا ڈال کر لیٹ گئے۔ اونا اور اس کی کزن بیٹھک میں لیٹے، تینوں آدمی اور سب سے بڑا لڑکا دوسرے کمرے میں زمین پر سوئے کیونکہ فی الحال ہم وار فرش کے علاوہ لیٹنے کےلئے کچھ نہیں تھا۔ اس کے باوجود سب کو خوب گہری نیند آئی۔ آنٹ الزبیٹا ہر صبح 5 بجے انہیں جگا کر ناشتہ کرواتی اور جاتے ہوئے انہیں پیاز اور پنیر کے ٹکڑے کے ساتھ روٹیوں پر گھی لگا کر دیتی کیونکہ مکھن ان کی گنجائش سے باہر تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -