پانی بطور غذا اور دوا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

 پانی بطور غذا اور دوا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
 پانی بطور غذا اور دوا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:24

 ہوائیں(Airs)

 بقراط کی تحقیق کے مطابق کسی مخصوص علاقے میں گرم یا سرد ہواﺅں سے انسان کے بدن میں غیر معمولی تبدیلی آ جاتی ہے۔ جیسا کہ عربوں نے ہواﺅں کی2 اقسام کو بیان کیا ہے۔ بادسموم، یہ ہوا زہریلی ہوتی ہے اور بیماریوں کو اپنے اوپر اٹھائے پھرتی ہے۔ ایسی زہریلی ہوائیں عموماً منطقہ حارہ کے ممالک میں چلتی ہیں۔ ان ہواﺅں میں بیماریوں کے موافق اجسام فوراً متاثر ہو کر بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ ان ہواﺅں کے مخالف اجسام بالکل متاثر نہیں ہوتے اور ان زہریلی ہواﺅں کا مقابلہ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ ہواﺅں میں دوسری قسم بادنسیم کی ہے۔ یہ ہوا سمندروں کی جانب سے خشکی کی طرف چلتی ہے۔ ان ہواﺅں میں لطیف اور بالیدہ مادوں کا بار ہوتا ہے اس لیے یہ ہوائیں ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو تندرست رکھتی ہیں۔

 بقراط کا کہنا ہے کہ جو امراض ہوا کی خرابی سے نہ ہوں، ایسے امراض تمام شہریوں کو نہیں ہوتے بلکہ انفرادی لوگوں کو ہوتے ہیں۔ اس لیے طبیب کو ایسی تمام کیفیات اور اشیاءکے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ تاکہ امراض کی صحیح تشخیص ہو سکے اور عوام الناس کو فائدہ ہو۔

پانی(Waters)

 طب کے طالب علم کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخصوص علاقے کے پانیوں کے متعلق مکمل علم رکھے کیونکہ پانی زندگی کا ایک لازمی اور اہم حصہ ہے اس لیے پانی بطور غذا اور دوا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن گدلے اور ثقیف پانی انسانوں کی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتے ہیں بلکہ کئی بیماریاں تو ان پانیوں سے ہی لاحق ہوتی ہیں۔ بقراط کا کہنا ہے کہ کچھ پانی ذائقے اور وزن میں متخالف ہونے کی وجہ سے قوت میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔

 ایک اچھا طبیب اس مخصوص علاقے کے مختلف ذرائع آب کے بارے میں مکمل معلومات رکھتا ہے کیونکہ اس مخصوص علاقے میں جھیلوں اور جوہڑوں میں ٹھہرے ہوئے پانی کثیف ہونے کی وجہ سے مضر صحت بھی ہو سکتے ہیں جبکہ بہنے والا پانی جوکہ اونچی چٹانوں سے آبشار کی صورت میں نیچے گرتا ہے، کثافت سے پاک اور نرم ہوتا ہے۔ ایسا پانی صحت کےلئے اچھا ہوتاہے۔ طبیب کو ان علاقوں کی زمینوں کے بارے میں بھی غور و خوض کرنا چاہیے تاکہ اسے اس مخصوص علاقے کے تمام ذرائع کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو جائیں۔ اس طرح طبیب اپنے مریضوں کی قدرتی اور فطری شفائی قوت کو مزید بڑھا دے گا جس کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔

پانیوں کی اقسام اور خواص

 بقراط کی تحقیق کے مطابق پانی کی 4 اقسام ہیں اور ہر قسم کے خواص مختلف ہیں۔

 ضروری ہے کہ طب کا طالب علم پانیوں کی ان اقسام اور خواص کو اپنے ماحول اور علاقے کے مطابق معلوم کرے۔ اس طرح طبیب کو اپنے مخصوص علاقے کے پانیوں کے بارے میں جب مکمل طور پر معلوم ہوگا تو وہ مریضوں کا وبائی امراض، اور پانیوں کے خواص کے سبب پیدا ہونے والی بیماریوں کا صحیح و درست علاج کر سکے گا۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -