”معاہدہ لاہور “نے انگریزوں کو پنجاب میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا

 ”معاہدہ لاہور “نے انگریزوں کو پنجاب میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا
 ”معاہدہ لاہور “نے انگریزوں کو پنجاب میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:54 

9 مارچ 1846ءکا یہ معاہدہ نہایت ذلت آمیز سودا تھا۔ پنجاب اس معاہدے تک 2 وجوہات کی بنا پر پہنچا تھا۔ ایک وجہ انگریزوں کی سامراجیت اور توسیع پسندی تھی اور دوسری وجہ لاہور دربار کی سازش تھی اس فوج کو تباہ کرنے کی جس سے ہر فرد تنگ آ چکا تھا۔ انگریز اس وقت تک پنجاب کو فتح کرنے سے کتراتے تھے کیونکہ اس کی قیمت انہیں بہت بھاری نظر آتی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ پنجاب کی فوج کے ساتھ جنگ بہت مشکل کام ہو گا۔ اور تھا بھی ایسے ہی۔ لیکن چونکہ یہ فوج خود پنجاب کے عوام کےلئے ایک مصیبت بنی ہوئی تھی سو اس کا ڈھانچہ مسمار کرنا آسان ہو گیا۔ فوج اپنے عوام کےلئے جب بھی عذاب بن جاتی ہے تو اس کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ 

جنگ کے اختتام کے بعد پنجاب میں ہر طرف مایوسی طاری ہو گئی۔بد امنی کی وجہ سے معیشت تباہ ہوچکی تھی۔لوگوں کو دور دور تک کوئی ایسی شخصیت یا ادارہ نظر نہیں آ رہا تھا جو ان کی راہبری اور قیادت کر سکے۔ جہاں تک پنجاب کی خودمختاری کا سوال ہے وہ اب برائے نام تھی دوسری سکھ جنگ کے بعد وہ بھی ختم ہو گئی۔ 

بھیرووال۔ پنجاب کی غلامی کا پروانہ:

مارچ 1846کے معاہدہ لاہور نے انگریزوں کو پنجاب میں خاموشی سے پاﺅں داخل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ لیکن دسمبر 1846 کے معاہدہ بھیرووال نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور انگریز دندناتے ہوئے پنجاب میں داخل ہو گئے۔ پنجاب کی آزادی اور خودمختاری صرف نام کی رہ گئی۔ 

معاہدہ لاہور کے ذریعے انگریزوں نے پنجاب حکومت کی فوجی طاقت پر ضرب لگا کر اسے اپنا دفاع کرنے کے قابل نہ رہنے دیا۔ لیکن اس معاہدے کے بعد بھی انتظامی امور پنجاب دربار ہی کے سپرد رہے۔ معاہدہ بھیرو وال کے بعد انگریزوں نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیا کہ کوئی بھی فیصلہ گورنر جنرل ہندوستان کی منظوری کے بغیر جس کا نمائندہ ریذیڈنٹ تھا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس معاہدے کی روسے پنجاب عملی طور پر برطانوی حکومت کا ایک صوبہ بن گیا۔ 

یہ معاہدہ پنجاب دربار کو کیسے اور کن وجوہ کی بناءپر کرنا پڑا؟ انگریزوں نے اس معاہدے میں حکومت پنجاب کو پھانسنے کے کیسے کیسے ہتھکنڈوں اور مکرو فریب کے جال بچھائے ان کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔ 

 پنجاب کی انگریزوں کے خلاف پہلی جنگ کے بعد جسے پہلی سکھ جنگ کا نا م بھی دیا جاتا ہے لاہور میں امن قائم رکھنے کے بہانے انگریز فوج متعین کر دی گئی۔ اس فوج کو 1846 کے معاہد ے کے مطابق ایک سال بعد لاہور سے چلے جانا تھا۔ لیکن کہا گیا کہ اس کے رخصت ہو جانے کے نتیجے میں دوبارہ بدامنی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پنجابی فوج کا وہ حصہ جسے نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا نفری کے اعتبار سے ہزاروں افراد پر مشتمل تھا اور پنجاب دربار کےلئے خوف کا باعث بنا ہوا تھا۔ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد انہوں نے چوکیداری کرنے کی بجا ئے ڈاکوﺅں کا جو روپ اختیار کر لیا تھا اسے یاد کر کے لوگوں پر خوف و ہراس طاری ہو جاتا تھا۔ 

8 مارچ 1846ءوالا معاہدہ طے پائے3 مہینے بھی گزرنے نہیں پائے تھے کہ دربار میں اس تشویش نے سر اٹھایا کہ لاہور سے انگریز فوج کے روانہ ہو جانے کے بعد لاہور پر کیا گزرے گی۔ اصل میں ان خدشات کا پروپیگنڈہ خود انگریزوں نے ہی کرایا تھا۔ دلیپ سنگھ ابھی 7 سال کا بچہ تھا۔ رانی جنداں کو ڈر تھا کہ انگریزوں کے جاتے ہی پنجاب میں فوج گردی شروع ہو سکتی ہے۔ اور سرداروں کا کوئی دھڑا فوجیوں کے تعاون سے کسی دوسرے کو تخت کا وارث بنا کر دلیپ سنگھ سمیت اسے قتل کرا سکتا ہے۔شیر سنگھ، ہیرا سنگھ اور جواہر سنگھ کا انجام سب کے سامنے تھا۔ 

انگریز رانی جنداں اور دوسرے درباریوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ چنانچہ گورنر جنرل کے اشارے پر ریذیڈنٹ سرہنری لارنس نے سرداروں کو انگریزوں کا پنجاب میں عمل دخل بڑھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ پہلے رانی جنداں کو دلیپ سنگھ کی سرپرستی سے الگ کر کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے جائیں اور پھر مناسب موقعہ پاتے ہی دلیپ سنگھ کو تخت سے محروم کر کے پنجاب کو برٹش انڈیا کا حصہ بنا دیا جائے۔ 

اس مقصد کے حصول کےلئے انگریزوں نے دلیپ سنگھ کے رشتہ دار سردار شیر سنگھ سندھانوالے کو اعتماد میں لیا۔ انگریزوں نے کچھ عرصہ پہلے پنجاب دربار کو جاگیریں کم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر اب سرداروں کو اس شرط پر جاگیروں کی بحالی کی تجویز دی کہ وہ پنجاب کا سارا انتظام انگریز حکومت کے حوالے کرنے پر اتفاق کریں۔ اس مقصد کے حصول کےلئے سرہنری لارنس نے سرداروں کو دھمکیاں بھی دیں، سمجھانے کی کوشش بھی کی، رشوت دی، مزید انعام کا لالچ بھی دیا لیکن سردار کچھ دیر تک اس تجویز کی حمایت کرنے سے گریزاں رہے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -