صوبوں کا صوبائی سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز ماننے سے انکار

صوبوں کا صوبائی سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز ماننے سے انکار

اسلام آباد(آن لائن)صوبوں نے وفاق کی طرف سے سروسز پر فیڈرل ایکسائزڈیوٹی عائد کرنے کیلئے صوبائی سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز ماننے سے انکارکردیا ہے تاہم سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین نے مشروط حمایت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد سروسز پر سیلز ٹیکس صوبوں کو منتقل ہونے اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے قیام کے بعد سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعہ چلا آرہا ہے اور سروسز پر صوبائی ریونیو اتھارٹیز کی طرف سے سیلز ٹیکس کے نفاذ کے باجود ایف بی آر کی طرف سے سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس نہیں لی گئی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی معاملہ حل کرنے اور انٹیگریٹڈ سسٹم متعارف کروانے کی تجویز دی ہے جس کیلئے گذشتہ روزایف بی آر ہاوس میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ کی زیر صدارت اعلی سطع کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ،ممبر سندھ ریونیو بورڈ،چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی اور چیئرمین خیبر پختونخواہ اتھارٹی کے علاوہ بلوچستان حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری تنازعہ حل کرنے کیلئے صوبوں کو تجویز دی کہ صوبے سروسز پر عائد کردہ سیلز ٹیکس کی شرح کم کردیں اور اگر صوبے سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح کم کردیں گے تو جتنی شرح کم کی جائے گی اسی شرح کے حساب سے ایف بی آرکی طرف سے سروسز پر فیڈرل ایکسائزڈیوٹی نافذ کردی جائے گی جس سے تنازعہ طے ہوجائیگا۔ذرائع نے بتایا کہ پنجاب اورپختونخواہ کی ریونیو اتھارٹیز کے حکام نے وفاق کی یہ تجویز ماننے سے انکار کردیا ہے تاہم سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین نے مشروط حمایت پر آمادگی ظاہر کی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ریونیو بورڈ کے ممبر وفاق کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کررہے تھے مگر سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ اگر وفاق سندھ کے ٹیکس واجبات ادا کردیتا ہے تو اس صورت میں وفاق کی اس تجویز کو ماننے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تاحال وفاق اور صوبوں کے درمیان کسی قسم کا اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

مزید : کامرس


loading...