چند لمحے الشریعہ اکیڈمی میں

چند لمحے الشریعہ اکیڈمی میں
چند لمحے الشریعہ اکیڈمی میں

  


گزشتہ کئی سال سے مولانا زاہد الراشدی دعوت دے رہے تھے کہ کسی دن گوجرانوالہ آﺅ اور الشریعہ اکیڈمی میں مولانا عبد الرحمن جامی ؒ (1972-1924ئ) کی شخصیت اور طرز خطابت پر لیکچر دو۔بالآخر19اپریل کو نماز ظہر کے وقت میں اپنے تین دوستوں سمیع اللہ بٹ، شبیر احمد میواتی اور پروفیسر سلیم منصور خالد کی معیت میں الشریعہ اکیڈمی جا پہنچا۔ نشست کا اہتمام لائبریری ہال میں کیا گیا تھا۔

مولانا زاہد الراشدی نے پروگرام کا آغاز مولانا جامی ؒ کے بارے تعارفی کلمات سے کیا، ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کو آواز دی۔ انہوں نے بتایا: ”مولانا جامی ؒ“ اپنے وقت کے ایک بے مثال خطیب تھے۔ رہنے والے تو وہ چکوال کے تھے، لیکن مختلف مدرسوں سے دینی اورطبیہ کالج دہلی سے طب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد1944ءمیں گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہو گئے۔ اس وقت تحریک قیام پاکستان چل رہی تھی، اس کو اپنی خطابت سے تقویت بخشی۔1950ءمیں کھیالی روڈ پر محمدی جامع مسجد کی بنیاد رکھی۔1953ءکی تحریک ختم نبوت میں بھی حصہ لیا اور قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔1968ءمیں حکومت نے انہیں بادشاہی مسجد کا خطیب مقرر کر دیا۔ گلے کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ 11جولائی 1972ءکو واصل بحق ہو گئے اور گوجرانوالہ ہی کے بڑے قبرستان میں آسودہ¿ خاک ہوئے“۔

مولانا زاہد الراشدی مولاناجامیؒ کا تعارفی خاکہ پیش کر چکے تو مجھے لب کشائی کی دعوت دی۔ مَیں نے مولانا مرحوم کے طرز خطابت پر بات کچھ اس طرح شروع کی کہ قدرت نے انہیں نورانی گلا عطا کر رکھا تھا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو سامعین ایک روحانی کیف میں ڈوب جاتے تھے۔ اردو بھی اچھی جانتے تھے، کچھ عرصہ تک دو ماہنامے ” انسان“ اور ”خادم“ بھی شائع کرتے رہے، لیکن ان کی تقریر کا حُسن پنجابی زبان میں خُوب نکھرتا تھا۔ پنجابی محاوروں اور اکھانوں (ضرب الامثال) کا استعمال سونے پر سہاگے کا کام کرتا۔ پنجابی صوفی شعراءکے اشعار اتنے شیریں لحن کے ساتھ پڑھتے کہ سماں بندھ جاتا۔ فارسی، عربی اور ہندی اشعار موقع اور محل کے مطابق پیش کرتے تو ابلاغ درجہ ¿ کمال کو پہنچ جاتا۔ فرقہ وارانہ جھگڑوں میں نہیں پڑتے تھے، وہ ایسے موضوعات پر بولتے تھے جن کا مقصد فرد اور معاشرے کی اصلاح ہوتا تھا۔ رسول کریم کی حیات طیبہ پیدائش سے وفات تک بیان فرماتے تھے۔ آپ کی دنیا میں تشریف آوری پر کلام کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ نے مکہ کے یتیم بچے کو فقط رب پر توکل کرتے ہوئے گود لے لیا تو اتنے فیوض و برکات سے نوازی گئیں کہ نہال ہو گئیں۔ اس موقع پر ہندی شاعر تُلسی داس کا ایک شعر پڑھا جس نے سامعین کو عجب روحانی لذت سے سرشار کر دیا:

تُلسی بروا باغ میں سیخپت بھی کُملائے

رام بھروسے جو رہے پربت پر لہرائے

جن پودوں کی باغوں میں مالی نگہبانی کرتے ہیں وہ جلدی مُرجھا جاتے ہیں لیکن پہاڑوں پر اُگنے والے پودوں کا آسرا مالی پر نہیں مولا پر ہوتا ہے وہ سوکھنے سڑنے سے محفوظ رہ جاتے ہیں“۔

اسی طرح ایک دفعہ مولانا حدیث نبوی بیان کر رہے تھے کہ جو لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں انہیں برائی سے یاد نہیں کرنا چاہئے۔ اس مضمون کو سامعین کے ذہن نشین کرنے کے لئے وارث شاہ کا شعر پڑھا:

وارث شاہ ایہہ رب دیاں رب جانے وارث ردہو یا کہ قبول ہویا

 مولانا نے فرمایا، دنیا سے کنارہ کرنے والا جس کی گود میں سر رکھ کر جان دے رہا ہوتا ہے اُسے بھی خبر نہیں ہوتی کہ جانے والا کس حال میں داعی¿ اجل کو لبیک کہہ رہا ہے، جنت کے محل دیکھ رہا ہے یا جہنم کے شعلے ، اس لئے ہم کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وارث کا انجام کیا ہوا ۔ یہ توایسی نازک گھڑی ہوتی ہے کہ اس وقت کئی چور قطب بن کر اور کئی قطب چور ہو کر دنیا سے رخصت ہو رہے ہوتے ہیں اس لئے یہ فتویٰ کیسے دیا جا سکتا ہے کہ”وارث رد ہو یا کہ قبول ہو یا“۔یہ تو وارث کو علم ہے یا وہ وارث جانتا ہے کہ ”وارث رد ہو یا کہ قبول ہویا“ پے در پے کتنے ہی ایسے جملے ارشاد فرمائے جن کا اختتام انہی الفاظ پر ہوا کہ ”وارث رد ہو یا کہ قبول ہویا“۔

جامی صاحب وسیع المطالعہ خطیب تھے۔ بعض اوقات خطبہ جمعہ کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ” چھ دن مطالعہ میں غوطہ زن رہ کر چند موتی آپ کے لئے لے کر آیا ہوں“۔ یا یہ کہتے کہ ” چھ دن ایک باغ کی سیر کرنے کے بعد چند پھول آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے چُن لایا ہوں“۔ اس میں قطعی مبالغہ نہیں ہوتا تھا۔ مَیں نے انہیں کئی بار اپنے حُجرے میں مطالعہ کی دنیا میں غرق دیکھا تھا۔ چارپائی پر تکیے سے ٹیک لگائے وہ کسی ضخیم کتاب میں گم ہوتے تھے۔ مَیں اس وقت سکول کا طالب علم تھا،لیکن ان کے مطالعہ کا یہ منظر میرے دل پر نقش ہو گیا، مجھے آئیڈیل زندگی یہی لگتی تھی۔ مَیں دُعا کرتا کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ اسی راہ پر چلنے کی توفیق دے دے۔ کرنا خدا کا ہوا کہ مجھے شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی میں پنجابی زبان و ادب پڑھانے کی ذمہ داری مل گئی اور30سال اسی مشغلے میں بسر ہو گئے۔ مطالعہ کے لئے قدرت نے ہزاروں کتابوں سے بھی نوازا اور علم کا ابلاغ بھی بساط بھر چلتا رہا، حتیٰ کہ دو سال پہلے مَیں اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو گیا، کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ مجھے یہ سب کچھ مولانا جامی ؒ سے عشق کی و جہ سے عطا ہوا۔ آج دل میں ایسی کوئی حسرت نہیں کہ فلاں کتاب نہیں پڑھ سکا یا فلاں مضمون اپنے شاگردوں کے گوش گزار نہیں کر سکا۔ شاید ایسی ہی صورت حال میں لوگ چراغ سے چراغ جلنا کا محاورہ بولتے ہیں۔ گھنٹہ بھر جب مَیں مولانا جامی ؒ کے کمالات سخن پر بول چکا تو ایک دوست نے آغا شورش کاشمیری کے طرز خطابت پر بھی کچھ کہنے کی فرمائش کر دی، چنانچہ مَیں نے آغا صاحب مرحوم و مغفور کی یاد میں بھی چند کلمات کہے۔ مَیں نے کہا:مجھے ان کے بھی طرز تحریر اور طرز خطابت نے اسیر کئے ر کھا ہے۔ اتفاق سے مجھے اُن کی تقریروں اور تحریروں سے بے شمار اقتباسات پوری طرح یاد ہیں، یعنی انہی الفاظ کے ساتھ بلکہ لب و لہجے کے ساتھ! ایک ٹکڑا قارئین کی نذر کرتا ہوں۔اگست1970ءمیں آغا صاحب علامہ احسان الٰہی ظہیر کے ساتھ گجرات تشریف لائے۔ چند روز پہلے وہاں مولانا کوثر نیازی نے پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کیا تھا اور آغا صاحب کے بارے میں کچھ گرم گرم باتیں کہی تھیں۔ آغا صاحب کو مدعو کرنے والے احباب نے انہیں اس صورت حال سے آگاہ کر رکھا تھا، چنانچہ تقریر میں کئی مواقع پر آغا صاحب نے اس طرف اشارہ کیا۔ آغا صاحب سے پہلے علامہ احسان الٰہی ظہیر خاصے گرجے برسے۔ آغا صاحب کی تقریر کے آغاز کا ایک مختصر سا حصہ قارئین کی نذر کرتا ہوں، ذرا اندازہ لگائیں کہ آغا صاحب کی خطابت کس شان کی تھی!

”مجھ سے پہلے میرے عزیز بھائی حافظ الٰہی ظہیر نے جس قہرو غضب کے انداز میں اپنے خیالاتِ عالیہ کا اظہار کیا ہے اور جس روانی اور طغیانی سے اپنی موجوں سے آپ کے د امن ِ سماعت کو دھونا چاہا ہے، مَیں اس میں مزید کوئی اضافہ نہیں کر سکتا، اپنا اپنا انداز، اپنا اپنا ڈھب، اپنا اپنا رُخ، اپنے اپنے تیور اور اپنا اپنا اسلوب ہوتا ہے اور آدمی اپنے جذبات کو اس سانچے میں ڈھال کر پیش کرتا ہے۔ آج جب مَیں یہاں آ رہا تھا، یا جب یہاں کے دوست میرے پاس آتے تھے، بات چیت کرتے تھے، گفتگو کرتے تھے اور ان بھائیوں متعلق جو ہماری مخالف صف میں ہیں ان کے تذکرے کرتے تھے اور ان کی حکائتیں بیان کرتے تھے تو ظاہر بات ہے جو باتیں وہ بیان کرتے تھے میں ان کو سنتا تھا لیکن آویزہ¿ گوش نہیں بناتا تھا، بس یوں سمجھتا تھا کہ صر صر کی ایک موج آتی ہے اور نکل جاتی ہے لیکن جہاں تک حافظ صاحب کا تعلق ہے تو مجھے اُن کے جذبے میں، اُن کے ایمان میں اور اُن کی خطابت میں رتی برابر شبہ نہیں، وہ مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں، بڑے عالم اور فاضل آدمی ہیں، مستقبل اب انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے، ہم لوگ تو اب چراغ سحری ہیں،

جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا

اور

 کھو چکا جو جوشِ طاقت اب ملے دشوار ہے

حشر میری صحت اب گرتی ہوئی دیوار ہے

تو ایک قافلہ، بہت پرانا قافلہ جو کبھی چلا تھا، یہیں گجرات ہی سے چلا تھا اور ایک شخص اُٹھا تھا دیوانہ، جس کے بالوں کی جنبش کے ساتھ کائنات بھی جنبش کیا کرتی تھی اس قافلے کا ایک بچھڑا ہوا مسافر مَیں بھی ہوں، وہ قافلہ اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے اور مَیں منزل کے قریب آ گیا ہوں“۔

اس آخری جملے میں رئیس الاحرار حضرت سید عطاءاللہ شاہ بخاری ؒ کی طرف اشارہ ہے، وہ گجرات کے نزدیک کے گاﺅں ناگڑیاں کے رہنے والے تھے۔

پروگرام کے اختتام پر زاہد الراشدی صاحب کے فرزند ارجمند جناب عمار خان ناصر نے مجھے چار گراں قدر علمی تحائف عنایت کئے، مگر ان پر اظہار خیال ایک الگ کالم کا تقاضا کرتا ہے، یار زندہ صحبت باقی! ٭

٭٭٭

مزید : کالم


loading...