دنیا کا اصل حکمران.... ” بائلڈربرگ“

دنیا کا اصل حکمران.... ” بائلڈربرگ“
 دنیا کا اصل حکمران.... ” بائلڈربرگ“

  



ایشیائی ممالک ،خصوصاً مسلمان ممالک اور پاکستان جیسے تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کے لوگوں کا عام خیال یہ ہے کہ دنیا پر امریکہ کی حکومت ہے، پوری دنیا امریکی بالا دستی قبول کرچکی ہے، وہ جب اپنے ملک پر امریکی اثرورسوخ دیکھتے ہیں تو وہ یقین کرلیتے ہیں کہ پاکستان میں صدر، وزیراعظم اور پارلیمنٹ محض نمائشی ہیں،جبکہ سات سمندر پار انکل سام ہی سب کچھ ہے، جوتھوڑے بہت پڑھے لکھے ہیں اور معاشی نظام کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور یورپی یونین کے کہنے پر ہمارے ہاں پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں، ہمارا بال سے کھال اتارنے والا سیاپا قسم کا میڈیا بھی دن رات ہرکام کے پیچھے امریکی ہاتھ تلاش کرتا رہتا ہے پاکستان کے کونے کھدرے سے خبر ڈھونڈلیتے ہیں مگر ان سب کو سات لاکھ پچانوے ہزار مربع میل سے باہر اصل دنیا کا کچھ علم نہیں کہ اس دنیا کی پانچ ارب آبادی اور (196) ممالک کا اصل بادشاہ کون ہے۔ دنیا پر اصل حکومت کس کی ہے۔ یقین جانئے ہمارے تیس مارخان قسم کے سقراطوں کو بالکل علم نہیں کہ دنیا پر اصل حکومت ”بائلڈر برگ“ کی ہے۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ بائلڈر برگ کیا بلا ہے ؟۔بائلڈر برگ کو شیڈوگلوبل حکومت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے امیرترین اور بااثر لوگوں کا ایک گروپ ہے، اس گروپ کا چیئرمین ایک تہتر سالہ شخص اینٹی ڈیویگن ہے جو سابق کواپریٹوڈائریکٹر اور یورپی کمشنر ہے۔ اس کی ایک سٹیرنگ کمیٹی ہے جس میں اٹھارہ ممالک کے دو دو افراد ہوتے ہیں۔ اس کے کل ارکان کی تعداد ایک سو بیس ہے۔ یہ ارکان دنیا کے بڑے بڑے بزنس مین ، بااثر سیاستدان اور میڈیا گروپ کے مالکان ہوتے ہیں۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کے اس سال کے اجلاس میں جوارکان شریک ہوئے ان میں ورلڈ بینک ، یورپیئن بنک اور سنٹرل بینک کے چیئرمین، نوکیا، بی پی، یونی لیور، ڈیملرکرسلر،پیپسی جیسی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو ان کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کرتا دھرتا ، دنیا کے پانچ بڑے میڈیا گروپ کے ایڈیٹر، یورپی وامریکی ممالک کے چند بااثر ممبر پارلیمنٹ ، وزرائ، یورپی کمشنرز، بلجیم کے کراﺅن پرنس اور نیدرلینڈ کی شہزادی شامل تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مل بیٹھ کر طے کرتے ہیں کہ مستقبل میں کس ملک کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ دنیا کے کس خطے میں کتنے قدرتی وسائل ہیں ان پر اپنی کن کمپنیوں کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ کن ممالک میں تیزی سے معیشت ابھررہی ہے اور ان معیشتوں میں کس طرح داخل ہونا ہے۔

یورپی یونین اور امریکہ جیسے ممالک میں کن لوگوں کو اقتدار میں لانا ہے اور ان کی متبادل قیادت کونسی ہوگی۔ دنیا کے کن ممالک اور خطوں میں کتنے قدرتی وسائل باقی بچے ہیں ان ممالک کے وسائل کو کب حاصل کرنا ہے اس وقت تک ان ممالک کے اندرونی حالات کس قدر خراب رکھنے ہیں کہ وہ اپنے وسائل ہمارے طے کردہ شیڈول سے پہلے حاصل نہ کرسکیں اگر کسی ملک میں تیل، گیس یا کوئلہ جیسے انرجی کے وسائل ہیں تو ان وسائل سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اپنی کن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے وہاں کارخانے لگانے ہیں۔ بائلڈر برگ انٹرنیشنل ایجنڈا ترتیب دیتا ہے۔ دنیا میں ہمارے سامنے جوبڑی بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کسی ملک کو کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، القاعدہ کے گروپوں کے بیس کیمپ، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری، عوام کو جمہوریت کا تحفہ دینے جیسے پراپیگنڈے کرکے جو جنگیں لڑی جاتی ہیں اور طاقتور ممالک اکٹھے ہوکر چڑھ دوڑتے ہیں بڑے بڑے میڈیا گروپ اسے زمین پر سب سے بڑی برائی قرار دینے لگتے ہیں تو یہ سب بائلڈر برگ کا طے شدہ ایجنڈا ہوتا ہے۔

بائلڈر برگ کے اجلاس خفیہ ہوتے ہیں۔ اس کے اجلاس کی کوئی تشہیر نہیں ہوتی۔ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کو باہر نہیں آنے دیا جاتا۔ دنیا کا کوئی اخبار اور ٹیلی ویژن اس کی خبر شائع نہیں کرتا کیونکہ دنیا کے پانچ سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالکان اس کے ممبر ہیں اور چھوٹے میڈیا گروپ انہی بڑے گروپس کی خبر شائع کرتے ہیں، بائلڈر برگ کا ہو سکتا ہے دنیا میں کسی کو علم نہ ہوتا، مگر امریکہ کے رائٹ ونگ کے ایک اخبار کے مالک جم ٹکرنے کسی طرح اس کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں اور اس کا اصل کردار دنیا کے سامنے لے آیا۔ جم ٹکر کا خیال ہے کہ بائلڈر برگ اس لئے اپنے اجلاس خفیہ رکھتا ہے کہ لوگوں کو اس کے اصل کردار سے واقفیت حاصل نہ ہووہ اس سے نفرت نہ کرنے لگیں کیونکہ یہی وہ گروپ ہے جو دنیا میں لڑائیوں کو ترتیب دیتا ہے، سیاستدانوں کو اقتدار میں لانے کے فیصلے کرتا ہے، وسائل پر قبضہ حاصل کرتا ہے اور معاشی طاقت سے دنیا کو کچلتا ہے۔ یہ شیطانی گروپ ہے، حالانکہ ان لوگوں کو ایسے اجلاس رکھنے چاہیں جہاں لوگ مل کر چیلنجز سے نمٹنے، انسانیت کی فلاح اور امن کے لئے کام کریں ناکہ ان کے استحصال کا ایجنڈا ترتیب دیں۔

اس گروپ کی سٹیرنگ کمیٹی دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے سیاستدانوں کا باقاعدہ جائزہ لیتی ہے یہ سیاسی جماعتوں میں باصلاحیت لوگوں کو شارٹ لسٹ کرتی ہے اس کے پاس دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں حکومتوں کو لانے کا پورا پروگرام ترتیب دیا ہوتا ہے۔ کون سے لوگ مستقبل میں حکومت میں لانے ہیں۔ ان کے متبادل کون ہوں گے ان ممالک میں نئے ابھرتے سیاستدانوں میں کون سے ایسے لوگ ہیں جو مستقبل میں کامیابی حاصل کرسکیں گے۔ ان کی شخصیت میں کس قدر مستقل مزاجی پائی جاتی ہے۔ ان کا بیک گراﺅنڈ کیا ہے اور وہ کیا گول اچیو کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے صدور بل کلنٹن، بش اور اوبامہ جبکہ برطانوی وزراءاعظم جان میجر، ٹونی بلیئر اور ڈیوڈ کیمرون کا فیصلہ بھی بائلڈر برگ کے اجلاسوں میں ہوا۔ بل کلنٹن جب ارکنساس کا گورنرتھا اس وقت اسے بائلڈر برگ کے سالانہ اجلاس میں بلا کر اگلے امریکی صدر کا سگنل دے دیا گیا۔ ٹونی بلیئر کو وزیراعظم بننے سے دوسال پہلے جب اپوزیشن کا ممبر پارلیمنٹ تھا اس وقت اسے بائلڈر برگ کے سالانہ اجلاس میں بلاکر اسے اگلے برطانوی وزیراعظم کی اشیر باد دے دی گئی تھی۔

اوبامہ کی کہانی بڑی دلچسپ ہے لیکن اس سے بھی دلچسپ تجزیئے ہمارے کوٹ نائی والے احساس کمتری کے شکار ان تجزیہ کاروں کے تھے جنہوں نے اوبامہ کے صدارتی امیدوار چنے جانے پر دن رات امریکی معاشرے کی وسیع القلبی ، اعلیٰ ظرفی اور عظمت کے گیت گانے شروع کردیئے جنہوں نے ایک مسلمان کی اولاد بارک حسین اوبامہ کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا۔ امریکیوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ عیسائی اور یہودی اس پر کیسا ری ایکٹ کریں گے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے کہ یہ امریکی معاشرے کا ہی کمال ہے کہ گوروں نے ایک سیاہ فام کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا ہے۔ اب ذرا اصل دلچسپ حقیقت جانئے اور بائلڈر برگ کی حکمت عملی کو داد دیجئے جس کے شہ دماغوں نے بارک حسین اوبامہ کا چناﺅ کرکے ایک تیر سے کئی شکار کئے بلکہ پوری مسلم امہ کا معاشی شکار کیا۔ بائلڈربرگ کے سالانہ اجلاس میں دنیا کی بڑی مشروب ساز اور فوڈ آئیٹم تیار کرنے والی کمپنیاں سرپکڑ کر بیٹھی تھیں کہ بش کی مسلم کش پالیسی سے مسلمان ممالک ہماری مصنوعات سے دور ہورہے ہیں اور وہاں مکہ کولا، مسلم کولا ٹائپ نئے مشروب تیزی سے مقبول ہورہے ہیں۔ مسلم ممالک میں ہماری مصنوعات کے بائیکاٹ کی آوزیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ ہمارا کاروبار متاثر ہورہا ہے اس لئے ہمیں معاشی دیوالیہ ہونے سے بچانے کی تدابیر کی جائیں۔

بائلڈر برگ کے ذہین دماغوں نے مسلم ممالک کی امریکہ سے نفرت کم سے کم سطح پر لانے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کاروبار بچانے کے لئے کافی سوچ بچار کے بعد کیتھولک بارک اوبامہ کو لانچ کرنے کا فیصلہ کیا جس کا والد مسلمان تھا اور اس کی رنگت بھی عربوں سے ملتی جلتی تھی اس سے میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مسلمانوں سے نفرت نہیں بلکہ انہوں نے تو ان کے ہم مذہب کے بیٹے کہ جس کا نام بھی اسلامی ہے اسے صدر بنادیا ہے۔ امریکہ کی افغانستان اور عراق میں لڑائیاں دراصل شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو مارکر مسلمانوں کی مدد کرنا ہے۔ صدارت سنبھالنے کے بعد مصر کی قاہرہ یونیورسٹی سے اوبامہ کا خطاب بھی دراصل ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سپانسرڈ شو تھا۔ اوبامہ کا شہزادہ عبداللہ کو جھک کر ملنا بھی دراصل اسی ایجنڈے کا حصہ تھا جس میں مسلمانوں کے دل میں امریکہ سے نفرت کم کرکے اس کے مالیاتی اداروں کا کاروبار بچانا تھا بائلڈر برگ کے ذہین دماغوں نے واقعی کمال کردیا اب آپ نے کبھی سنا کہ کوئی اسلامی مشروب بھی ہے اور امریکی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

اب مسلمان ممالک کے جاگنے کا وقت ہے انہیں بائلڈر برگ کے مقابل اپنا طاقتور گروپ بنانا چاہئے تاکہ یہ ان کے ایجنڈے کو سمجھ سکیں اور مسلمانوں کے مفاد میں کام کریں اگر مسلمان نہ جاگے تو بائلڈر برگ ان پر حکومت کرتا رہے گا اور یہ محکوم بن کر رہ جائیں گے اور اس کے ایجنڈے کے سامنے سرجھکا کر جینے پر مجبور ہوں گے۔  ٭

مزید : کالم


loading...