سول با لا دستی

سول با لا دستی
 سول با لا دستی

  



پا کستان میں سول حکو مت یا سیا ستدانوں اور فوج (اسٹبلشمنٹ)کے ما بین تنا ؤ کی تا ریخ بڑی پرانی ہے۔ ملک میں جب بھی فوجی حکمرانی کے بعد جمہو ریت بحال ہوئی تو سیا ستدانوں نے ہمیشہ یہ دعوی کیا کہ انہوں نے ماضی سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اور آئندہ وہ پرانی غلطیوں کو نہیں دہر ائیں گے،مگر بد قسمتی سے ہر مر تبہ جب بھی جمہوری سفر شروع ہو تا ہے تو معلوم ہو تا ہے کہ ہم سیا سی بلو غت کا مظا ہرہ نہیں کر رہے۔اس مر تبہ تو مو جودہ سول حکو مت کو وجود میں آئے ایک سال بھی پو را نہیں ہوا کہ کئی اہم ایشوز پر سیا سی حکو مت اور فو جی قیا دت کے مابین اختلا فات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔فو جی اقتدار کے خاتمے کے بعد سول حکمرا نی کا قیا م اپنے اندر بہت سی پیچیدگیا ں لے کر آتا ہے کیونکہ اس میں ایک طرف پاپولر سیاست اور دوسری طرف عسکری قیادت کی حساسیت کے مابین ایک توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی سیاسی قیادت کا پہلا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کتنی کامیابی سے اس توازن کو برقرار رکھ پارہی ہے۔

پاور شیئرنگ کے اس بندوبست کے دوران بہت سے ایسے ایشوز سامنے آتے ہیں کہ جن میں سیا سی حکو مت کے بعض فیصلے فوجی قیا دت کی سوچ اور رجحان سے مطا بقت نہیں رکھتے اسلئے اس مو قع پر سیا سی قیا دت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دانشمندی اور بصیرت کا مظا ہرہ کرتے ہوئے ان مسا ئل پر اختلافات کو حل کرے۔اس وقت سیاسی حکومت اور عسکری قیادت جن امور پر ایک صفحے پر دکھائی نہیں دے رہے ان میں پرویز مشرف مقدمہ،پاک امریکہ تعلقات،پاک بھارت تعلقات، طالبان کے ساتھ مذاکرات ،افغانستان پالیسی اور بلوچستان جیسے ایشوز شامل ہیں واقفان حال کے مطابق 17اپریل کو منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے نتیجے میں صرف دو ایشوز یعنی افغانستان اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے موضوعات سے متعلق وقتی طور پر ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے۔لیکن باقی حوالوں سے اختلاف اور بعض پرتنا ؤ موجود ہے ۔خاص طور پر پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل کا مسئلہ حکومت اور فوجی قیادت کے مابین ایک بڑے تناؤ کی صورت میں مو جود ہے۔یہ تناؤ اس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک حکومت اس تاثر کو ختم نہیں کرتی کہ پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل کسی انتقا می کارروائی کے تحت نہیں کیا جا رہا ۔ کیونکہ مشرف دور کے وزیراعظم اور کئی وزرا (مشرف دور کے وزیر قانون سمیت)کو ن لیگ نے اپنی صفوں میں شامل کر لیا ہے۔ایسے میں یہ تا ثر دینا کہ مشرف کے خلاف ٹرائل جمہوریت سے محبت اور اور وابستگی کا اظہار ہے درست دکھائی نہیں دیتا۔

کئی ایسے مما لک کہ جہاں سابق فوجی حکمرانوں کے خلاف ٹرائل کیا گیا ان کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ممالک میں سول حکمرانوں کی بالادستی میں ان ٹرائیلز کا کردار انتہائی محدود تھا۔خاص طور پر بنگلہ دیش، چلی، انڈونیشیا اور تر کی کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ممالک میں سول بالادستی اس لئے قائم نہیں ہوئی کہ ایسے فوجی جرنیلوں کے خلاف ٹرائل کئے گئے جنہوں نے سول حکمرانوں کے تختے الٹے تھے۔ترکی میں 1980ء میں سول حکمت کا تختہ الٹنے کی پاداش میں جرنیلوں کے خلاف ٹرائل کا آغا ز 2008ء میں کیا گیا ۔وہ بھی ایسے وقت میں کہ جب ترکی کی حکمران جماعت اے کے پارٹی کو اقتدار میں چھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔اور اس نے متواتر دو عام انتخابات میں کامیا بی حا صل کی تھی۔جبکہ بنگلہ دیش، چلی اور انڈونیشیا میں فوجی حکمرانوں کے خلاف آئین شکنی کی بجائے کرپشن، طاقت کے غلط استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت ٹرائیلز چلائے گئے۔

اس لئے فوجی حکمرانوں کے خلاف ٹرائیلز سے زیادہ اہم ایشو یہ ہے کہ کون سے ایسے ٹھوس اقداما ت کئے جا ئیں کہ فوج اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہو ئے ہی کام کرے اور اقتدار پر سیاسی بالادستی ہی قائم رہے؟یقیناًاس مقام تک پہنچے کیلئے بہت وقت چا ہیے کیو نکہ ایسا مقا م صبر آزما اور تدریجی مرحلے سے گزر کر ہی آسکتا ہے۔ کسی ملک میں فو جی با لادستی یا حکمرا نی کے قیا م میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ایک اہم عامل یہ کارفرما ہو تا ہے کہ فوجی حکمرانی کو جواز بخشنے کیلئے ملکی سلامتی کو لا حق داخلی اور خارجی خطرات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش، چلی، انڈونیشیا اور ترکی میں سول بالادستی کے قیام میں ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ان ممالک میں قومی سلامتی کو لاحق خطرات بڑی حد تک کم کر دئیے گئے یا ان خطرات کے جواز کو ختم کر دیا گیا۔ پاکستان میں بھی فوجی اور عسکری با لادستی قا ئم کر نے میں قومی سلامتی کو لاحق خطرات کو ایک جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔پا کستان کو بہت سے خطرات کا سامنا ہے ۔اس وقت اندرونی طور پر پا کستان کو ایسی دہشت گردی کا سامنا ہے کہ جو پاکستانی ریا ست کی سالمیت، آئین،طرز معاشرت اور تہذ یب کو ہی فنا کر کے ایک انتہا پسند نظر یے اور سوچ کا نٖفا ذ چاہ رہی ہے۔یہ صورت حال سول حکمرانوں کیلئے ایک چیلنج ہے کہ وہ ثا بت کریں کہ سیا سی حکومت ملکی سلا متی کو لا حق ان اندرونی خطرات سے نمٹنے کی پوری صلا حیت رکھتی ہے۔

پا کستان میں سول حکمران ہمیشہ سول با لا دستی کیلئے آئین کے حوالے دیتے ہیں نظری اعتبا ر سے یہ حوالے درست ہیں، مگر ان کی توجہ ایک قابل اعتما د، استعدادکار، کر پشن سے پا ک اور پر فارمنس پر مبنی گڈگو رننس پر کم ہو تی ہے۔ دنیا بھر میں اگر فوج کی طا قت اس کی تنظیم، ڈسپلن اور بندوق میں ہو تی ہے تو سویلین حکومت کا ہتھیا ر عوام کی حما یت ہو تی ہے عوامی حما یت صرف اسی وقت مل سکتی ہے کہ جب عام لو گوں کی بنیادی ضروریا ت پو ری کی جا ئیں،مہنگا ئی کم ہو، بے روزگا ری کا خا تمہ ہو،وسا ئل کی تقسیم منصفا نہ ہو اور معا شرے میں سما جی انصاف ہو تا نظر آئے۔ایسے اقداما ت کر کے ہی سول با لادستی کو ممکن بنا یا جا سکتا ہے۔ محض چند علا متی اظہا رات، ٹی وی پر فوجی حکمرا نوں کے خلا ف سخت زبا ن استعما ل کرنا ، آئینی ترامیم اور عوامی مینڈیٹ ملنے پر اترانا سول با لا دستی کو قا ئم رکھنے کی ضما نت نہیں ۔اس با ت کو میا ں نواز شریف سے بہتر اور کون جان سکتا ہے جنہوں نے 1997ء کے انتخابا ت میں دو تہا ئی سے بھی زیا دہ اکثر یت حا صل کی اپنے اقتدار کو محفوظ بنانے کے لئے آئین میں ترامیم بھی کیں اور اُس دور میں وہ اپنی ہر تقر یر اور خطاب میں ان کو ملنے والے بھا ری مینڈ یٹ کا ذکر ضرور کرتے تھے، مگر جب 12اکتو بر1999کو ان کی حکومت پر ایک فو جی آمر نے شب خون ما را تو اس غیر آئینی اقدام کے خلا ف مزا حمت میں یہ بھاری میڈ یٹ ان کے کسی کا م نہ آیا۔ *

مزید : کالم


loading...