طالبان بھی قلمی جہاد کے قائل!

طالبان بھی قلمی جہاد کے قائل!
طالبان بھی قلمی جہاد کے قائل!

  


یہ اتفاق ہے یا تنظیمی صلاحیت یہ تو وہ خود ہی بہتر جانتے ہوں گے، لیکن ہمیں انتہائی خوشگوار حیرت ضرور ہوئی، جب ایک مجلہ ملا، یہ امارات اسلامیہ افغانستان کا خبرنامہ ہے، اس میں طالبان نے بعض خبروں کے علاوہ مضامین اور تبصرے بھی شائع کئے ہیں، کسی کو ان تحریروں اور واقعات سے اتفاق ہو یا نہ ہو تاہم یہ خبر نامہ ترجمانی کا حق بڑی حد تک ادا کر دیتا ہے۔ایک طرف تو حال ہی میں افغانستان میں صدارتی انتخابات ہوئے، ان کے بارے میں بہت کچھ چھپا کہ رائے دہندگان کی بھاری اکثریت نے حق رائے دہی استعمال کیا اور افغانستان میں جمہوری عمل مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ عوام کی اکثریت نے اسے تسلیم کرتے ہوئے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، لیکن طالبان اس کا رد کرتے ہیں ان کے مطابق تو دارالخلافہ کابل میں بھی بائیکاٹ موثر رہا، اس کے علاوہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماسوا دو تین شہروں کے باقی افغانستان آج بھی طالبان کے زیر تسلط ہے اور جونہی غیر ملکی افواج واپس گئیں وہ علاقے بھی طالبان کی حمایت کریں گے، جہاں جہاں غیر ملکی قابض افواج موجود ہیں اور طاقت کے بل پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔

بہرحال یہ بالکل الگ مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں خبریں بھی موصول اور شائع ہوتی رہتی ہیں اور جب غیر ملکی افواج جائیں گی اور چند اڈوں پر ہی کچھ نفری رہ جائے گی، تو پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہو گا۔ ہمیں تو آج یہ عرض کرنا ہے کہ طالبان نے خبرنامہ شائع اور تقسیم کر کے ایک ایسا کام کیا ہے کہ جو ا ن کو پہلے کر لینا چاہئے تھا، ممکن ہے کہ یہ سلسلہ پہلے سے جاری ہو اور ہمیں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہو۔ بہرحال یہ تعلیم و ترغیب کا ایک ذریعہ ہے، جس کے تحت مخالفین کو دلائل سے قائل کیا جاتا ہے اور یہی عمل بہترین بھی کہلاتا ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان کے اندر یہ صورت حال نہیں، دوسرے معنوں میں ایسا امن نہیں کہ فریقین دلائل سے قائل کریں جو لوگ برسر اقتدار ہیں وہ غیر ملکی افواج کے حصار میں حکومت کرتے ہیں اور طالبان افغانستان کی تاریخی روایت کے مطابق گوریلا جنگ کر رہے ہیں۔

تھوڑا عرصہ قبل طالبان سے مذاکرات کا بہت چرچا ہوا، بلکہ متحدہ امارات میں دفتر بھی کھلا، لیکن پھر یہ بیل منڈے نہ چڑھی اس کے بعد بھی مذاکرات کے حوالے سے بعض اطلاعات شائع ہوتی ر ہی ہیں، لیکن حتمی طور پر رابطے نہیں ہو پائے ، حالانکہ حامد کرزئی بھی پیشکش کرتے رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں افغانستان کو امن کی ضرورت ہے اور وہاں بھی یہ اسی طرح ممکن ہے کہ جیو اور جینے دو کی حکمت سے کام لیا جائے اور یہ مذاکرات ہی سے ممکن ہے اگر طالبان اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو بھی تشہیری اور تحریری مہم بھی چلانا چاہئے تو اس سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ وہ تحریر کے تاثر پر یقین لے آئے ہیں اور صرف گولی کو حل نہیں جانتے۔ یہی وہ عمل ہے، جس کے ذریعے افغانستان میں خود افغانوں کی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ اگرچہ افغانستان کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے کہ یہاں والے خود اقتدار کی جنگ لڑتے رہے اور اگر کسی نے باہر سے آ کر اقتدار سنبھال لیا تو پھر اسے بھی آرام سے حکومت نہیں کرنے دی گئی۔ یہ تو زمانہ قریب کی تاریخ ہے جب روسیوں کو یہاں سے جانا پڑا اور افغانستان ، افغان عوام کے حوالے ہو گیا، لیکن روائتی اور تاریخی عمل شروع ہو گیا۔ جرگے ہوتے، فیصلے ہوتے اور پھر وعدہ خلافیاں نئی جنگ کا ذریعہ بن جاتیں اور اقتدار کی اسی کشمکش نے طالبان کو موقع دیا اور مُلا عمر کی قیادت میں ایک حکومت قائم ہو گئی، جو مستحکم بھی نظر آنے لگی۔ ایک دوسرے سے برسر پیکار گروہ بھی خاموش ہو گئے لیکن اسامہ بن لادن تنازعہ نے صورت حال ہی تبدیل کر دی، امریکہ کثیر الملکی فوج بنا کر اقوام متحدہ کی اجازت سے نیٹو کی چھتری تلے حملہ آور ہو گیا اور اسے دس سال سے زیادہ ہو گئے بارود کا کھیل کھیلتے ہوئے۔ کہتے ہیں کہ امن اب بھی نہیں ہو سکا اور شاید امریکیوں کے واپس جانے کے بعد بھی نہ ہو سکے۔

اب ہمیں یہ گزارش کرنا ہے کہ طالبان کو بھی غور کرنا چاہئے کہ یوں مسلسل خون بہانے سے کیا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ افغانستان میں بھی پُرامن تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو سکے، وہ اسی طرح ممکن ہے کہ طالبان بھی جمہوری عمل کا حصہ بن جائیں۔ اس کے لئے بہرحال مذاکرات کے ذریعے کوئی قابل عمل حکمت عملی اپنائی جائے۔ کسی طرف سے ڈائیلاگ کا سلسلہ بحال کرنے کی کوشش کرنا چاہئے کہ یہ خبرنامہ ہوا کی تبدیلی والی خبر دیتا ہے۔

اب یہ بھی غور فرمایئے کہ افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے پاکستان بھی پوری طرح ملوث ہو چکا ہے اور ہم خود یہاں سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں بھی حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کالعدم تحریک طالبان بھی آمادہ ہے، ان سب کو حالات کا ادراک کرنا چاہئے اور بندوق کی جگہ قلم اور تعلیم پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ افغانستان اور پاکستان کے طالبان کا آپس میں تعلق مدرسہ حقانیہ اور مسلک ہی کے حوالے سے ہے ورنہ عمل کے معاملے میں کئی اعتراضات پائے جاتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان غیرملکی تسلط کے خلاف ہیں لیکن پاکستان میں تو ریاست کے خلاف شدت پسندی جاری ہے اور اس سے امن جس بُری طرح متاثر ہوا اس نے ہمارے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس لئے کیا ہی بہتر ہو کہ افغان طالبان بھی مصالحت کر لیں اور جمہوری عمل کا حصہ بن کر اقتدار جیت لیں اور یہاں بھی شدت پسندی ترک کر کے یہ حضرات پُرامن شہری بن جائیں۔ سیاسی عمل کے ذریعے فاٹا ملکی سیاست کا اسی طرح عملی حصہ بن سکتا ہے جیسے دوسرے علاقے ہیں اور پُرامن تحریکوں کے ذریعے ہی قوانین میں بہتری لائی جا سکتی اور حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں مستقبل کا نقشہ بننا اور کوشش ہونا چاہئے۔

مسلسل دو کالم تحریر کر کے بات مکمل کر دی تھی۔ بےشمار حضرات نے بہت سی معلومات مزید دیں اور کئی استفسارات بھی کئے ہیں تو ہماری یہی گزارش ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بھی تمام معاملات پُرامن طور پر خوش اسلوبی سے دلائل کے ذریعے طے ہونا چاہئیں۔ تشدد ختم اور سازشیں بند کر کے اس نادیدہ ہاتھ کو توڑنا چاہئے جو ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے اور یہ صرف اور صرف اتفاق رائے سے ممکن ہے، ہمارا پرانا موقف ہے، قومی مسائل پر قومی اتفاق رائے۔  ٭

مزید : کالم


loading...