عدالت میں خنجر لے جانے پر اصرار

عدالت میں خنجر لے جانے پر اصرار
عدالت میں خنجر لے جانے پر اصرار

  


سان فرانسسکو(بیورورپورٹ) امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک سکھ شہری ایک ایسے سوال کا سامنا کرنے پر مجبور ہوگیا ہے جو کہ شاید ایک انسان کیلئے دنیا کے مشکل ترین سوالوں میں سے ایک ہے یعنی وہ اپنے ملک کے قانون کے مابق چلے یا اپنے مذہب کا حکم بجالائے۔ گرسانت سنگھ کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا کی ایک عدالت نے اسے عدالتی ڈیوٹی کے دوران کرپان (سکھوں کا علامتی خنجر) ساتھ لانے سے منع کردیا ہے۔ اب گرسانت سنگھ کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہب کی حکم عدولی کرے یا کرپان عدالت میں اپنے ساتھ لے جاکر جرمانے یا سزا کا سامنا کرے۔ اس سے پہلے سکھوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ عدالتوں میں جاتے وقت اپنی کرپان کو عدالت سے باہر سیکیورٹی گارڈز کے پاس چھوڑ دیتے تھے لیکن گرسانت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے ساتھ بے وفائی کرنے پر گرفتارہونے کو ترجیح دے گا۔ گرسانت سنگھ نے کہا کہ وہ امریکہ میں اپنے موقف کو تسلیم کروانے کیلئے بھرپورکوشش کرے گا کہ اسے اپنے مذہب کے مطابق چلنے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ کرپان سکھوں کے پانچ بنیادی مذہبی ارکان میں سے ایک ہے۔

مزید : جرم و انصاف


loading...