بجلی کا شارٹ فال 2500 میگاواٹ ہونے سے غیر اعلانیہہ لوڈ شیڈنگ میں اغافہ

بجلی کا شارٹ فال 2500 میگاواٹ ہونے سے غیر اعلانیہہ لوڈ شیڈنگ میں اغافہ

                         اسلام آباد /لاہور/کراچی/پشاور/کوئٹہ (آئی این پی )حکومت کے تمام تر دعوﺅں اور اقدامات کے باوجود بجلی کا شارٹ فال 2500میگاواٹ سے تجاوز کر نے پر بجلی کی بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافہ ‘عوام کی گرمیوں سے پہلے ہی چیخیں نکل گئیں‘بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے سرکاری ہسپتالوں میں مریض بھی گرمی سے تڑپتے رہے ‘لاہور سمیت ملک کے کئی علاقوں میں نماز جمعہ کے دوران بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی ‘شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14سے 16جبکہ دیہاتوں میں لوڈ شیڈنگ کادورانیہ 18گھنٹے تک پہنچنے کے بعد عوام کے صبر کاپیمانہ لبریز حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے ‘بنوں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز کا احتجاج جبکہ کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پہلے ہی پانی کی کمی کے بحران کا سامنا کرنے والے عوام پانی کو ترسنے لگے‘عوام کا وزیراعظم نوازشریف سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سخت نوٹس لینے اور فوری طور پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ ‘آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا بھی بجلی کی بدترین لوڈ شیڈ نگ پر وزیراعظم سے سخت نوٹس لینے کامطالبہ ۔این ٹی ڈی سی کے ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ملک کے کئی چھوٹے شہروںمیں مارکیٹوں اور دوکانوں کی چھٹی کے باوجود بجلی کا شارٹ فال 2500میگاواٹ سے تجاوز کر گیا جبکہ دوسری طرف شارٹ فال میں اضافے کی وجہ سے گرمیوں سے پہلے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ بد ترین لوڈشیڈنگ میں شدت آگئی جس کی وجہ سے لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں مسلسل 2,2گھنٹے بھی بجلی کی بندش ہوتی رہی اور لاہور کے علاقہ مزنگ ، مغلپورہ ، دھرم پورہ سمیت کئی علاقوں میں نماز جمعہ کے دوران بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا جن حکومت کے کنٹرول میں نہ آ سکا اور نمازیوں کو بھی سخت گرمی میں نماز ادا کرنا پڑی جبکہ سندھ کے علاقہ سکھر، حیدر آباد ،سانگھڑ اور کراچی سمیت چھوٹے اور بڑے شہروں میں لوڈ شیڈنگ کی شدت میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کئی علاقوں میں 3سے 4گھنٹے تک بھی بجلی بند ہو رہی ہے جس کی وجہ سے حیدر آباد اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں پانی کی کمی کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ٹیوب ویل نہیں چل رہے جس پر عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔خیبر پختون خواہ میں بھی بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس کے خلاف نہ صر ف شہری بلکہ کاروباری طبقہ بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چھوٹے اور بڑے سرکاری ہسپتالوںمیں مریضوں کو بھی شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے خلاف گذشتہ روز ضلع بنوں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف ڈی ایچ کیو اسپتال کے ڈاکٹروں نے او پی ڈی بند کرکے ڈی آئی خان روڈ پر احتجاج کیا اور ٹریفک معطل کردی اور مظاہرین وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔دوسری طرف ملک میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے برآمد ی آرڈر بھی متاثر ہو رہے ہیں اور اپٹما کاکہنا ہے کہ اگر بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو برآمد ی آڈر پورے کرنے کےلئے فیکٹریوں کو کروڑوں روپے اضافی دیگر ذرائع سے بجلی کی مد میں استعمال کرنا پڑیںگے اس لئے حکومت فوری طور پر نوٹس لے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو بلا تعطل بجلی اور گیس فراہم کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...