مالکان کے ہاتھوں جھلس کر شدید زخمی ہونیوالی گھریلو ملازمہ اقصٰی 26ویں روز ہسپتال میں دم توڑ گئی

مالکان کے ہاتھوں جھلس کر شدید زخمی ہونیوالی گھریلو ملازمہ اقصٰی 26ویں روز ...

                             لاہور (کرائم سیل) 26 روز قبل سمن آباد کے علاقے میں گھریلو مالکان کے ہاتھوں جھلسنے والی جواں سالہ اقصیٰ میو ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں ر ہنے کے بعد گزشتہ روز دم توڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق زبیدہ پارک میں رہائش پذیر سوئی گیس کمپنی کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسر جمشید احمد کے گھر میں محنت کش عبدالرزاق کی جواں سالہ بیٹی اقصیٰ گزشتہ چار ماہ سے ملازمہ تھی۔31مارچ کو اقصیٰ کپڑوں کو آگ لگنے کے باعث پُراسرار طور پر جھلس کر شدید زخمی ہو گئی تھی اوراسے میو ہسپتال میںایڈمٹ کیا گیا تھا۔ متوفیہ کی والدہ حمیداں بی بی نے روزنامہ ”پاکستان“ کو بتایا کہ اس کی بیٹی کو مالکن ماہ رخ اور دیگر گھر والوں نے آگ لگائی اوروہی اس کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ مالکان بااثر ہیںاور انہیں زبان کھولنے پر دھمکیاں لگا رکھی ہیں ،پولیس بھی ان سے ملی ہوئی ہے۔ والد عبدالرزاق نے سہمے ہوئے بتایا کہ بااثر مالکان اور پولیس نے انہیں کچھ اس طرح کے خوف میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے کہ وہ کچھ نہیں بتا سکتے۔پولیس نے بھی تفتیش کو ایک انچ آگے نہیں بڑھایا اور مقدمہ درج کر کے محض کارروائی کو پورا کیا گیا ہے ۔ ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے عدالت سے عبوری ضمانت کرانے کا موقع فراہم کیا ہے۔26دنوں سے اعلیٰ پولیس افسران کے پاس چکر لگا رہے ہیں، کسی نے قانونی مدد کرنا تو درکنار، ڈھارس تک نہیں باندھی ہے اور اب تو دلبرداشتہ ہو کر پولیس سمیت کسی سے انصاف کی توقع نہیں۔ اس موقع پر دونوں میا ںبیوی جواں سالہ اقصیٰ کی لاش وصول کرتے ہوئے خوف کے مارے خاموش تھے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے اُن کی زبانوں پر خوف کے تالے لگے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر پولیس نے بھی انہیں کسی قسم کی بات کرنے سے روکے رکھا۔ جواں سالہ اقصیٰ کا بھائی شہزاد اور دیگر رشتے دار بھی پولیس اور مالکان کے خلاف کسی قسم کی بات کرنے سے کتراتے رہے۔ اقصیٰ کو نماز جنازہ کے بعد سبزہ زار کے علاقہ ڈوبن پورہ میں مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر ورثا کی جانب سے لاش گورنر ہاﺅس لیجانے کے خوف سے پولیس موجود رہی۔ انچارج انوسٹی گیشن انسپکٹر قیصر وسیم بٹ اور تفتیشی افسر ظفر شاہ نے بتایا کہ ابھی تفتیشی سلسلہ جاری ہے پوسٹ مارسٹم کی رپورٹ کے بعد اصل صورت حال سامنے آئے گی۔ تاہم ابتدائی تفتیش کے دوران جواں سالہ اقصیٰ کی موت کے اصل اسباب سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ انچارج انویسٹی گیشن قیصر وسیم بٹ نے بتایا کہ جواں سالہ اقصیٰ کی ہلاکت کے الزام میں گھریلو مالک جمشید کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ پولیس حراست میں سوئی گیس کمپنی کے ریٹائرڈ افسر جمشید نے بتایا کہ اقصیٰ کی موت کا واقع اتفاقیہ ہے، آگ لگانے کا محض الزام ہے ایسا سوچ بھی نہیں سکتے جبکہ ڈی ایس پی سمن آباد شاہد احمد خان نے بتایا کہ تفتیش میرٹ پر ہو گی۔ مقدمہ مدعی پر پولیس اثر انداز نہ ہے۔

مزید : علاقائی


loading...