گولی، گالی اور جوتا .... ناقابل قبول ہیں

گولی، گالی اور جوتا .... ناقابل قبول ہیں
گولی، گالی اور جوتا .... ناقابل قبول ہیں

  


جی ہاں ! کسی بھی مہذب معاشرے میں بات منوانے کے لئے گولی، گالی اور جوتے کا استعمال کسی طور بھی قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر جوتا اچھالنے والے نے اپنے اس فعل کے لئے میری کمیونٹی کا نام اور پلیٹ فارم استعمال کیا کہ جرنلسٹ کمیونٹی گولی ، گالی اور جوتے کا نہیں بلکہ قلم کا استعمال کرتی ہے۔ ایک صحافی کا سوال کسی دہشت گرد کی گولی، کسی گنوار کی گالی اور کسی اپنے تئیں ہیرو کے پھینکے ہوئے جوتے سے زیادہ موثر ہونا چاہئے ۔ اگر ایک صحافی بھی منطقی اور مدلل سوال نہیں کر سکتا تو پھر ہر صبح اخبارات میں خبروں، کالموں اور اداریوں کی بجائے بندوقیں، ڈنڈے اور جوتے ہی گھروں میں سپلائی ہونے چاہئیں مگر لوگ اخبارات خریدتے ہیں او ر کرنٹ افئیرز کے پروگرام سنتے ہیں، وہ جوتے نہیں،دلیل چاہتے ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب برصغیر پاک و ہند میں سلطان راہی اور سلمان خان کی فلموں نے مقبولیت حاصل کی، سلطان راہی اورمصطفیٰ قریشی کی فلموں نے مکالمے کی جگہ للکارنا، مرنا اور مارنا سکھایا جبکہ دوسری طرف سلمان خان کی صورت میں اینگر ی ینگ مین کا تصور نوجوانوں میں در آیا، ہربات کی مخالفت کرو، ہرموقف کو رد کرو،ہر کسی کو برا کہو۔ بدتمیزی جو کبھی بدی سمجھی جاتی تھی، خوبی بنا کے دکھائی اور سکھائی جانے لگی۔ میں تو آج بھی لوگوں کو آپس میں لڑتے، ہاتھا پائی کرتے اور گالیاں بکتے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر ترس آتا ہے ، میں سوچتا ہوں کہ قصور ان کا نہیں، ان کے والدین کا ہے جنہوں نے ان کی اخلاقی تربیت میں کمی او رکوتاہی چھوڑی ، پھر خیال آتا ہے کہ جسے اس کے والدین تمیز نہیں سکھاتے، زمانہ سکھا دیتا ہے۔ میرے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں میں ” مار نہیں پیار“ کے نظرئیے نے بھی صورتحال کو خراب کیا ہے، اب نوجوان نسل کسی شے سے نہیں ڈرتی، اپنے والدین اور اساتذہ سے بھی نہیں، اس ڈر کی عدم موجودگی نے عزت کی موجودگی کو بھی متاثر کیا ہے ، یہ تو منطقی سی بات ہے کہ اگر آپ کے دل میں اپنے والدین اور اساتذہ کے لئے عزت جیسی قیمتی شے کی کمی ہے تو پھر آپ غیروں کے لئے اس کی توقع کیسے کر سکتے ہیں۔

ہاں! ماہرین کا یہ کہنا درست ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور ناامیدی نے معاشرے میں فرسٹریشن بے پناہ بڑھا دی ہے ، کسی بھی دوسرے کو ماری گئی گولی، دی گئی گالی اوراس پر پھینکا گیا جوتاآپ کی فرسٹریشن تو کم کرسکتے ہیں مگر اس کے نتیجے میں آپ جس شخص کو گولی یا جوتا ما ر رہے ہیں، نہ صرف اس کی بلکہ پورے معاشرے کی فرسٹریشن میں کس حد تک اضافہ کریں گے،کیا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی ایک شخص کو کسی ایک بات پر اختلاف پر گولی مارتے ، گالی دیتے یا جوتا پھینکتے ہیں تو آپ اس کی پوری شخصیت کو مسخ کرتے ہیں حالانکہ اس کی شخصیت کے بہت سارے مثبت اور فائدہ مند پہلو بھی ہو سکتے ہیں۔ماہرین مہنگائی ، بے روزگاری اور ناامیدی کو درست الزام دیتے ہیں مگر میرے خیال میں پاکستا ن میں اصل فرسٹریشن آمریتوں نے بڑھائی ہے۔ گولی، گالی اور جوتے کا متبادل صرف اور صرف سوال ہیں اور آمریتوں میں سوال پوچھنا منع ہوتا ہے۔ آمریتوں میں صرف حکم جاری ہوتے ہیں اور اسمبلیاں اگر موجود بھی ہوں تو وہ محض ربڑ سٹمپ ہوتی ہیں جو آمروں کے احکامات پر ٹھپے لگاتی ہیں چاہے وہ احکامات چیف جسٹس کو معزول کرتے ہوئے ہاوس اریسٹ کرنے جیسے غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیرسیاسی ہی کیوں نہ ہوں، آمروں کو ان کے خوف ناک سے نتائج سے آگاہ نہیں کیا جاتا بلکہ قراردادوں کے ذریعے ان کی حمایت کر دی جاتی ہے۔ جہاں سوال کرنے کی اجازت نہ ہو وہاں ضرور گولی، گالی اور جوتے کا استعمال ہوناچاہئے اسی لئے مہذب جمہوری معاشرو ں میں سوال کرنے سے نہیں روکا جاتا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف سے اگر حامد میر پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کا سوال پوچھا جاتا، جو اس سے پہلے والٹن فلائی اوور کے افتتاح کے موقعے پر بھی ہوا تو وہ یقینی طور پر اس جوتا پھینک صحافی کی فرسٹریشن کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا۔ حامد میر پر حملے کے مجرم گرفتا ر کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے احتجاج کوئی معنی نہیں رکھتا، ایک صحافی کو علم ہونا چاہئے کہ آئین میں امن و امان صوبائی موضوع ہے اور ایف آئی آر کے اندراج سے مجرموں کی گرفتاری تک تمام سوال سندھ کے وزیراعلیٰ سے ہونے چاہئیں، مگر سوال ہی ہونے چاہئیں،قائم علی شاہ جیسے بزرگ سیاستدان پر جوتا پھینکنے کی بھی ہرگز حمایت نہیں کی جا سکتی۔ گولی، گالی اور جوتا وہاں چلتے ہیں جہاں آپ کی منطق اور کوشش ختم ہوجاتی ہے، یہ آپ کی ناکامی کا اعتراف بھی ہے اور اعلان بھی جبکہ جمہوریت اور صحافت جہد مسلسل کا نام ہے۔

جوتا پھینک صحافی نے یہاں مجھے ایک اور اہم ایشو پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم کس قسم کے صحافی مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔ جب صحافت پر کڑے دن ہوا کرتے تھے، صحافی پرانی موٹر سائیکلوں پر ، سردی گرمی کی پرواہ کئے بغیر، دن رات مارے مارے پھرا کرتے تھے، اس قسم کی وارداتیں تو اس دورمیں بھی نہیں ہوا کرتی تھیں۔ صحافی تو نہیں، البتہ سیاستدان ضرور غصے میں آجایاکرتے تھے، دس بارہ برس پہلے میرے ایک دوست سیاسی رہنما نے مال روڈ پر اس وقت پریس کانفرنسوں کے لئے معروف اور مصروف ریستوران شیزان میں میرے دوست صحافی شیخ رشید پر گرما گرم چائے کا کپ پھینک دیا مگر شیخ رشید نے جوابی حملہ نہیں کیاکیونکہ وہ ایک صحافی تھا، بدمعاش نہیں۔ پہلے ایک دو ادارے ہی صحافت کی تعلیم دیا کرتے تھے مگر الیکٹرانک میڈیا نے جہاں کارکن صحافیوں کی ڈیمانڈ نے اضافہ کیا وہاں ہر چھوٹے ، بڑے نجی اور سرکاری کالج نے صحافت کی ڈگریاں جاری کرنی شروع کر دیں۔ میں نے دیکھا کہ آج کی جدید عملی صحافت کے تقاضے کچھ اور ہیں اورکتابیں ، عشروں پرانی پڑھائی جاتی ہیں، یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم صحافت کے ادارے کو اس وقت صحافیوں کی صورت میں جو خام مال مہیا کر رہے ہیں ، وہ موجودہ دور کی صحافتی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک صحافتی اداروں میں نوکری کے لئے میرٹ کی بجائے ریفرنس ہی چلتا ہے۔ جب عملی صورتحال یہ ہو گی تو پھر سوال کی بجائے جوتا پھینکنے والے صحافی ہی کچھ اداروں کی نمائندگی کریں گے۔

میں اپنے صحافتی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کو پورے یقین کے ساتھ بتاتا ہوں کہ سوال کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک اچھا صحافی سوال کے ذریعے معلومات حاصل کرتا ہے اور اس کے پاس معلومات موجود ہوں تو وہ احتساب کرتاہے۔اچھے سوال کی طرح اچھا جواب بھی اتنا ہی مشکل ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جب آپ مارکیٹ میںایسے صحافی لائیں گے جو سوال کرنے کی اہلیت اور صلاحیت سے عاری ہوں گے تو پھر وہ جوتے ہی پھینکیں گے۔ اس تجزئیے کو آپ پورے معاشرے تک پھیلاتے ہوئے دیکھئے کہ سوال اور جواب کتنے اہم ہیں، جہاںسوال کرنے کا موقع نہیں ملتاوہاںگولی اور گالی کا استعمال ہوتا ہے اور جب دوسروں کے پاس جواب نہیں ہوتا تو پھر وہ گالی دیتے اور گولی مارتے ہیں۔ ہمیں اپنی بات منوانے کی آمرانہ عادت کو چھوڑتے ہوئے سوال کرنے اور جواب سننے کی عادت ڈالنا ہو گی ۔ اگر ایک سوال منطقی ہو اور اس کے پیچھے درست معلومات کی طاقت بھی ہو تو میں نے اس سے زیادہ خوف زدہ کرنے والی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ میں نے لاہور میں ایسا کوئی صحافی نہیں دیکھا جو جوتا اچھالنے والے نام نہاد صحافی کی مذمت نہ کر رہا ہو جبکہ اس کے برعکس یہاں اچھا سوال پھینکنے والی کی ہمیشہ تعریف ہوتی ہے۔ مجھے اپنا دوست راشد بٹ مرحوم یاد آ گیا۔ صدر غلام اسحاق خان مرحوم لاہورآئے، ہوٹل میں ایک تقریب کے بعد گاڑی میں بیٹھنے تک وہ صحافیوں سے بات کرنے سے مسلسل گریز کر رہے تھے کہ راشد بٹ نے سوال پھینکا، ہر طرف مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی حالت خراب ہے اور آپ کہتے ہیں حالات بالکل ٹھیک ہیں، غلام اسحاق خان تڑپ کر بولے ،کون کہتا ہے ملکی حالات ٹھیک ہیں۔۔۔ ایک اور تقریب میں فاروق لغاری سے صرف ایک سوال پوچھاکہ وزیراعظم کہتی ہیں کہ آپ ان کے بندے ہیں، اس وقت کے صدر نے کہا ،وہ اللہ کے بندے ہیں،یہ گولی، گالی اور جوتے نہیں صرف چھوٹے چھوٹے سوال تھے اور چند حرفوںپر مشتمل جواب۔۔ ۔ مگریہ اپنے اپنے وقت کی لیڈ سٹوری بن گئے !!!

مزید : کالم


loading...