آئی ایس آئی اور اسکے چیف کیساتھ جو کیا گیا ایسا دشمن بھی نہیں کرتا، عمران خان

آئی ایس آئی اور اسکے چیف کیساتھ جو کیا گیا ایسا دشمن بھی نہیں کرتا، عمران خان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+ آن لائن+اے این این)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ11مئی کوپاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی دھاندلی ہوئی ،مک مکا کر کے تحریک انصاف کو باہر رکھا گیا، سابق چیف جسٹس بھی میچ فکسنگ میں ملوث تھے،شفاف انتخابات کیلئے جنگ لڑنا ہو گی، الیکشن میں پنکچر لگانے والوں کے نام سامنے لائیں گے، جو 8گھنٹے میں آئی ایس آئی اور اس کے چیف کے ساتھ کیا گیا ایسا تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا ، معلوم کیا جائے کہ حامد میر کی آڑ میں کسی کا ایجنڈا تو پورا نہیں کیا جارہا ، خیبرپختونخوا میں بڑے بڑے ڈاکو ہیں لیکن ہم نے احتساب کا ایسا ادارہ بنایا ہے جو کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ تحریک انصاف کے اٹھارویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ طالبان کا حامی کہا گیا لیکن ہم اپنی فوج کو سول جنگ کا حصہ نہیں دیکھنا چاہتے اس لئے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر 8 گھنٹے تک آئی ایس آئی اور اس کے چیف کے خلاف کسی ثبوت کے بغیر الزامات لگائے گئے جس سے دنیا بھر میں قومی ادارے کی بدنامی ہوئی، میڈیا ہاؤس بھی قانون کے دائرے میں رہیں، آزادی اظہار کے نام پر کمرشل مفادات کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا ۔پیمرا سے مطالبہ ہے کہ تحقیقات کی جائے کہ حامد میر کی آڑ میں کوئی اپنا ایجنڈا تو پورا نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی ،لوگوں نے ووٹ کسی کودیااورجیت کوئی اورگیا،اس دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی کہ صرف 4 حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کرادی جائیں لیکن سابق چیف جسٹس بھی میچ فکسنگ میں ملوث تھے سابق چیف جسٹس نے ریٹرننگ افسروں سے خطاب کیا جو پہلے نہیں ہوا ۔ مک مکا کر کے تحریک انصاف کو باہر رکھا گیا ،ہم نے الیکشن کے نتائج تو قبول کر لیے لیکن دھاندلی قبول نہیں کی الیکشن میں پنکچر لگانے والوں کے نام سامنے لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی پر مبنی انتخابات کیخلاف 11مئی کو سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جائے گا اور جو جماعت سمجھتی ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو اسے احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ عمران خان نے کہاکہ جب احتساب کا غیر جانبدار نظام لائیں گے تو وہ ہمیں بھی نہیں چھوڑے گا،آج خیبر پختونخوا میں پولیس میں سیاسی مداخلت ختم ہوچکی ہے۔ ایک ڈی ایس پی کو بھی کسی سیاست دان نے نہیں لگایاآج تک خیبرپختونخوامیں کسی شخص کوبھرتی نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا کہ صاف اورشفاف الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں اورجب الیکشن کمیشن مضبوط ہوگاتب پاکستان میں صحیح حکومت آئیگی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں سڑکوں پرنکل کرصاف شفاف الیکشن کامطالبہ کرناہوگا جوامیرترین سیاستدان ہیں وہ اقتدارمیں آکرپیسے بناتے ہیں،ہم نے کبھی دھاندلی قبول نہیں کی اورنہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شفاف الیکشن تک کرپشن ختم نہیں ہو سکتی اٹھارہ سال پہلے جو تحریک چلی وہ نیا پاکستان بنائے گی۔ اللہ نے ہر چیز کسی مقصد کے لئے بنائی ہے تمام پیغمبر اللہ کا ایک ہی پیغام لے کر آئے اور وہ تھا انسانیت لیکن یہاں تو جانوروں کا معاشرہ بنا ہوا ہے جہاں انصاف نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا ملک کو انسانوں کا معاشرہ بنانے کی کوشش کر رہے ، شیروں کے اندر کمزور شیر بھوکا مر جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں غریب آدمی پڑھ کر وزیراعظم بن سکے۔ خیبرپختونخوا میں بڑے بڑے ڈاکووں ہیں لیکن ہم نے احتساب کا ایسا ادارہ بنایا ہے جو کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور کے لیے ایک قانون ،کمزوروں کے لیے دوسرا ہے ایسا کب تک چلے گا۔ عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کسی ایم پی اے نے کوئی پولیس اہلکار تعینات نہیں کرایا اور نہ ہی میں نے کسی کی سفارش کی ہے سب کام میرٹ پر ہو رہے ہیں اگر میں چاہوں تو ایک سال کے اندر خیبرپختونخوا کا سب سے امیر آدمی بن سکتا ہوں۔

مزید : صفحہ اول


loading...