کراچی، رکشہ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ، خاتون سمیت 6افراد جاں بحق،30زخمی

کراچی، رکشہ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ، خاتون سمیت 6افراد جاں بحق،30زخمی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک228اے این این) گزری میں رکشہ میں نصب بم پھٹنے سے خاتون سمیت6افراد جاں بحق30سے زائد زخمی ہو گئے،بم دھماکے کی زد میں آ کر دو سرکاری گاڑیوں سمیت درجن بھر گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں سمیت قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا،زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،جائے وقوعہ سے شواہداکٹھے کر لئے گئے،وزیر اعلیٰ سندھ کا تحقیقات کا حکم،رپورٹ طلب کر لی،صدر اور وزیر اعظم سمیت اہم شخصیات کی طرف سے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت،زخمیوں کو سرکاری خرچ پر علاج معالجہ فراہم کرنے کی ہدایت ،تفصیلات کے مطابق جمعہ کی سہ پہر کراچی کے علاقے گزری کی دہلی کالونی میں واقع موتی مسجد کے قریب بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت4افراد موقع پر جاں بحق اور 30سے زائد افراد زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر جناح ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں مزید دو افراددم توڑ گئے اور جاں بحق افراد کی تعداد 6ہو گئی۔بم دھماکے کی زد میں آ کر دو سرکاری گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔بم دھماکے میں متعدد دیگر گاڑیوں اور دو موٹر سائیکلوں سمیت قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔جناح ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹ سیمی جمالی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دہلی کالونی بم دھماکے میں چار افراد جاں بحق اور 30 زخمیوں کو ہسپتال لایاگیا زخمیوں میں سے 5 کی حالت نازک ہے جنہیں آپریشن تھیٹر منتقل کردیاگیا ہے زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے ۔ صوبائی وزیر صحت صغیر احمد نے کہا ہے کہ دہلی کالونی بم دھماکے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جاں بحق ہونے والوں میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے زخمیوں کے علاج کیلئے ادویات اور تمام سہولیات فراہم کردی گئی ہیں دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کے بعد معلوم ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ پورا ملک اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے،دھماکے میں نمازی اور راہ گیر نشانہ بنے ہیں ۔دھماکے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جنھوں نے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ایس ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر خطاب نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ میں 8کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے جس میں بال بیرنگ بھی شامل تھے ،دھماکہ خیز مواد رکشہ میں نصب تھا جسے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے اڑایا گیا ہے۔جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ڈی آئی جی ویسٹ عبدالخالق شیخ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں ایک رکشہ اور 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جس میں 2 سرکاری گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی نوعیت سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا جب کہ دھماکے کے ذریعے کسے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اس پر بھی تحقیقات کے بعد ہی کچھ کہا جاسکے گا۔،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ گزری کے علاقے میں واقع موتی مسجد کے باہر اس وقت ہوا جب لوگ نماز جمہ کی ادائیگی کے بعد باہر نکل رہے تھے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی۔صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے زخمیوں کو سرکاری خرچ پر علاج معالجہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،نواز شریف نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین،سپیکر سندھ اسمبلی،ڈپٹی سپیکر،عمران خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...