ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے ، اندھیرے اب تھوڑے دنوں کے مہمان ہیں، نواز شریف

ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے ، اندھیرے اب تھوڑے دنوں کے مہمان ہیں، نواز شریف

 ڈیرہ مراد جمالی (تجزیہ نگار خصوصی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے بد عنوانی، مہنگائی، ناخواندگی اور عدم تحفظ کے احساس جیسی خرابیوں سے مبرا پاکستان کو موجودہ حکومت کی منزل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے، جمہوریت احتساب کا ایک خود کار نظام ہے، خدا خوفی اور عوام دوستی ہماری حکومت کے بنیادی اصول ہیں، عوام کی اقتصادی اور سیاسی آزادی کے لئے بے روز گاری، افراط زر، ناخواندگی اور جہالت اور عدم تحفظ کے احساس کا خاتمہ ناگزیر ہے، آئندہ دو سے تین سال میں بجلی کی کمی کو پورا ہونے کا یقین ہے، اندھیرے اب تھوڑے دنوں کے مہمان ہیں، اس ملک کا مستقبل تابناک ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں 404 میگاواٹ اوچ ۔II پاور پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان ، عبدالمالک بلوچ، فرانسیسی سفیر فلپ تھائی بود، فرانسیسی کمپنی جی ڈئی ایف سوئز کے عہدیداران، سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی، وفاقی وزیراء اور صوبائی وزیر ثنا ء اللہ زہری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس ملک میں جمہوریت پنپ رہی ہے، جمہوریت احتساب کا ایک خود کار نظام ہے، اگر لوگ اللہ کے خوف سے بے نیاز ہوجائیں تو عوام کا خوف انہیں کرپشن اور بدعنوانی سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہو تا ہے کہ اگر عوام کے مسائل حل نہ ہوئے تو وہ عوام کا ا عتماد کھوسکتی ہے، خدا خوفی اور عوام دوستی ہماری حکومت کے بنیادی اصول ہیں۔ عوام کی اقتصادی اور سیاسی آزادی کے لیے، بے روز گاری، افراط زر، ناخواندگی اور جہالت اور عدم تحفظ کے احساس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ان خرابیوں سے مبرّا پاکستان ہماری منزل ہے۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اگلے دو سے تین سال میں ھم بجلی کی کمی کو پورا کر لیں گے۔ اگر اللہ نے مو قع دیا تو میںیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اندھیرے اب تھوڑے دنوں کے مہمان ہیں۔ اس ملک کا مستقبل اللہ کے فضل و کرم سے روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی ہماری نظروں سے پو شیدہ نہیں کہ اقتصادی ترقی اور اعلیٰ معیار زندگی کا انحصار نہ صرف وافر اور بلا تعطل بلکہ سستی اور مناسب قیمتوں پر بجلی کی فراہمی پر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسائل کے انبار کے باوجود، موجودہ جمہوری حکومت اس مسئلے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 404 میگا واٹ اوچ۔II پاور پراجیکٹ کا افتتاح ان کے لئے با عث مسرت ہے اس سے اوچ پاور پلانٹ کی مجموعی پیداوار 990 میگا واٹ ہو جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ دواسباب کی وجہ یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اولاّ یہ پاور پراجیکٹ ملک میں دستیاب گیس سے چلے گا لہذا منصوبے کو جس توانائی کی ضرورت ہے، وہ ہمیں کہیں باہر سے نہیں لینی پڑے گی جبکہ اس منصوبے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ یہ بلوچستان میں واقع ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔مجھے اس خطے کی اہمیت کا پوری طرح اندازہ ہے۔یہاں اگر زیرِ زمین قیمتی دھاتیں اور معدنیات ہیں تو زمین کے اوپر بسنے والے انسانی وسائل بھی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے جن صلاحیتوں اور جذبوں سے نوازا ہے،اُن کے باعث ان انسانوں کی قدرو منزلت زمین میں چھپے خزانوں سے کہیں زیادہ ہے۔اگر ہم بلوچستان میں سماجی ترقی کے عمل کو تیز کریں توجہاں زیرِ زمین معدنیات کو تلاش کرسکتے ہیں، وہاں سطحِ زمین پر مو جود انسانی وسائل سے بھی پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ ان دونوں حوالوں سے مفید ثابت ہو گا۔ایک طرف بلوچستان کے لوگ خوش حال ہوں گے اور دوسری طرف ملک توانائی کی کمی کے بحران سے باہر آئے گا۔ وزیراعظم نے درپیش چیلنجوں اور دور افتادہ مقام کی مشکلات کے باوجود منصوبے کے کامیاب آغاز پر فرانسیسی کمپنی جی ڈی ایف سوئز کی ٹیم اور تمام متعلقہ حلقوں کو مبارکباد پیش کی جبکہ قوم کو سستی اور قابل بھروسہ بجلی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنی دنیا میں بجلی پیدا کرنے والی سب سے بڑی خود مختار کمپنی ہے جو پاکستان میں نصب شدہ آئی پی پیز کے ذریعے بجلی کے شعبہ میں معیاری خدمات کی فراہمی کے ذریعے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے ملک کے لئے گرانقدر اثاثہ ہیں، موجودہ حکومت مستبقل میں ان منصوبوں کی خوش اسلوبی سے فعالیت کے لئے تمام مطلوبہ معاونت کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی کمپنی کا اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اوچ پاور پلانٹ کے ارد گرد کی آبادی کی سماجی و اقتصادی میں کردار قابل تحسین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 6600 میگاواٹ کی استعداد کا حامل کوئلے سے چلنے والا گڈانی پاور پراجیکٹ شروع کیا ہے، ہم نے بجلی کی پیداوار کے مقصد کے لئے تھرکول مائنز پر بھی کام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان منصوبوں میں سرمایہ کاری اور اس میں توسیع کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس ضمن میں ہر ممکنہ معاونت فراہم کرے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ ہم بھاشا اور داسو ڈیموں کا منصوبہ بھی وضع کیا ہے جن سے مجموعی طور پر 9 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی، مستقبل میں بونجی ڈیم پر بھی غور کریں گے، یہ منصوبے سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کو پرکشش مقام بناتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کوآج تو انائی کی شدید قلت کا سامنا ہے، اس قلت نے ملک کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ بات بھی ہماری نظروں سے پو شیدہ نہیں کہ اقتصادی ترقی اور اعلیٰ معیار زندگی کا انحصار نہ صرف وافر اور بلا تعطل بلکہ سستی اور مناسب قیمتوں پر بجلی کی فراہمی پر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسائل کے انبار کے باوجود، موجودہ جمہوری حکومت اس مسئلے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد ہم نے بہت کم عرصہ میں پاور کمپنیوں کو 500 بلین کے گردشی قرضہ کی ادائیگی سمیت بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے کے تمام ممکنہ اقدامات کئے ہیں۔اس وقت 969 میگا واٹ نیلم ۔ جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، اور425 میگا واٹ نندی پور تھرمل پاور پراجیکٹ جیسے سرکاری شعبہ کے منصوبوں پربڑی تیزی سے دوبارہ کام کا آغاز کیا ہے ۔یہ پہلے سے زیر التوا منصوبے تھے جن پر اب تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے حکومت طویل المدتی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ان منصوبوں میں درآمدی کوئلے پر مبنی، 6600 میگا واٹ کی صلاحیت کے ساتھ گڈانی پاور پارک کی ترقی ، تھر کوئلے کی ڈویلپمنٹ اور متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے قابلِ ذکرہیں۔ سندھ میں جھمپیر کے مقام پر ونڈ پاور پراجیکٹ کی تعمیر اور پنجاب میں چولستان کے مقام پر سولر پاور پارک کی ڈویلپمنٹ جیسے نئے منصوبے بھی شروع کیے جارہے ہیں ۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اگلے دو سے تین سال میں ھم بجلی کی کمی کو پورا کر لیں گے۔ اگر اللہ نے مو قع دیا تو میںیقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اندھیرے اب تھوڑے دنوں کے مہمان ہیں۔ اس ملک کا مستقبل اللہ کے فضل و کرم سے روشن ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت کو دورکرنے میں آئی پی پیز کے مثبت کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ میر پور میں آئی پی پی کے تحت 84 میگا واٹ نیو بونگ اسکیپ ، ہائیڈرو منصوبے کا حال ہی میں آغاز ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ گدو میں 747 میگا واٹ کے پاور پراجیکٹ نے بھی 21 اپریل2014ء کو کام شروع کر دیا ہے۔ ان تمام منصوبوں کے ساتھ ساتھ گیس پر مبنی 404 میگا واٹ اوچ۔II پاور پلانٹ کے باعث ،صارفین کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی , موجودہ حکومت کی ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ان کو ششوں کے پس منظرمیں،اوچ۔II پاور پلانٹ کا افتتاح ،حقیقت میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ منصوبہ توانائی اور اقتصادی لحاظ سے بڑا اہم ہے ۔ اس سے نہ صرف توانائی کی موجودہ قلت دورہوگی بلکہ عام آ دمی کو سستی بجلی ملے گی۔اس کے علاو ہ تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زر مبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کسی امتیاز کے بغیر پورے پاکستان کی ترقی ہمارے پیشِ نظر ہے۔جن علاقوں کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا، ہم ان پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کی ترقی،اس لیے ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم ترقی یافتہ شہروں سے دور علاقوں میں رہنے والے عوام کے لیے، تمام ممکنہ وسائل استعمال میں لانے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ اوچ ۔II پاور پراجیکٹ کی تنصیب سے دور دراز اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے بڑے پیمانے پر کام ہوگا۔ اس منصوبے سے اقتصادی سرگرمیاں تیز ہوں گی، علاقے کے لوگوں کو روز گار کے مواقع ملیں گے اور غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تما م علاقوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ گزشتہ روز وہ گوادر میں تھے تاکہ ذاتی طور پر تمام پراجیکٹ کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس علاقے کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ امتیاز، محرومی اور شکایت کو جنم دیتا ہے اب امتیاز اور محرومی، دونوں کا ازالہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کئے جائیں اور حکومت نجی سرمایہ کاروں کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ وزیر پانی و بجلی کی سربراہی میں،پی پی آئی بی بورڈ،ون ونڈو سہولت کے تحت ،سرمایہ کاروں کو بھر پور تعاون و مدد فراہم کر رہا ہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ پی پی آئی بی بورڈنے مقامی سرمایہ مارکیٹ کی ترقی، اقتصادی ترقی اور توانائی کی سپلائی میں بڑی پیش رفت کی ہے۔۔اس مقصد کے لیے پی پی آئی بی بورڈ کی مربوط اور مسلسل کا و شیں قابل تحسین ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے توانائی میں بھرپور مواقع کا ذکر کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں بالخصوص فرانسیسی کمپنی کو ان مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی درخواست پر ، سبی اور نصیر آباد ڈویژن کیلئے علیحدہ ٹرانسمیشن لائن کا اعلان کیا اور انہوں نے وزیر پٹرولیم اور وزارت پٹرولیم کو اس ضمن میں ہدایات جاری کردیں کہ آئندہ تین سالوں میں بلوچستان کے ہر گھر میں گھریلو استعمال کی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...