کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، دفاعی اداروں کے وقار کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے،وزیر داخلہ

کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، دفاعی اداروں کے وقار کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ...

 اسلام آباد(اے این این) وزیرداخلہ چو ہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے دفاعی اداروں کی عزت و وقار کا تحفظ ہماری آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، صرف ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر جج ، جیوری اور پراسیکیوشن کا کام کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم نواز شریف کا صحافی حامد میر کی عیادت کیلئے جانا الگ معاملہ ہے،حامدمیرپرحملے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن قائم ہو گیا ، ذمے داروں کو بے نقاب کرنے میں آخری حد تک جائیں گے ،حملے کے بارے جو بھی ثبوت ہوں ، کمیشن میں پیش کیے جائیں، سب کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر اور ٹھنڈی سانس لے کر حالات کنٹرول کرناچاہیے،تالی بجانے والوں اور تیلی لگانے والوں سے دور رہنا سب کے لیے بہتر ہے ۔جمعہ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حامد میر اور ان کے اہل خانہ اور ادارے سے دلی ہمدردی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کاتین رکنی کمیشن قائم ہو گیا ہے ، جو 21 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہے،حامد میر پر حملے بارے جو بھی ثبوت ہوں ، کمیشن میں پیش کیے جائیں،کسی کو کمیشن سے اختلاف ہے تو اس کا بھی ایک طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں حامد میر کیساتھ اسلام آباد میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، حامد میر نے موجودہ دور حکومت میں نہ کوئی شکایت درج کرائی اور نہ ہی کوئی فون نمبر دیئے۔انہوں نے کہا کہ سابق پولیس افسران نے حامد میر کے بچوں پر حملے بارے کسی رپورٹ سے انکار کیاہے، حامد میر نے اسلام آباد پولیس کو دھمکی آمیز فون کالزکا ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔حامد میر یا ان کے خاندان کو اسلام آبادپولیس کے بارے کوئی اعتراض ہے تو مکمل تحقیقات کراؤں گا۔ چوہدری نثارنے کہا کہ حامد میر پر حملے میں جو بھی ملوث ہیں انہیں بے نقاب کرنے میں آخری حد تک جائیں گے، ملزمان کی گرفتاری کے لیے شفاف تحقیقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر جج، جیوری اور پراسیکیوشن کا کام کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کا حامد میر کی عیادت کیلئے جانا الگ معاملہ ہے پہلے دن واضح کر دیا تھا کہ حکومت کس کے ساتھ ہے جب آئی ایس آئی کیخلاف میڈیا ٹرائل شروع ہوا اس وقت بیان دینا چاہتا تھا ۔ کچھ دوستوں نے منع کر دیا لیکن میڈیا ٹرائل کا سلسلہ نہیں رکا ۔انہوں نے کہاکہ کسی ثبوت کے بغیر میڈیا ٹرائل بند کیا جائے، اس سے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں، بھارتی چینل دیکھے جا سکتے ہیں۔ قومی مفاد میں میری اپیل ہے کہ میڈیا ٹرائل بند کیا جائے اور صبرکا دامن نہ چھوڑا جائے، تالی بجانے والوں اور تیلی لگانے والوں سے دور رہنا سب کے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی سلامتی و دفاعی اداروں کے وقار کا تحفظ صرف قانون نے نہیں بلکہ آئین نے بھی لازم قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں اس کوشش میں ہوں کہ معاملات کو ٹھنڈا کیا جائے،میں حالات کی بہتری کے لیے کوششیں کر رہا ہوں ، انشا اللہ حالات بہتری کی جانب جائیں گے،سب کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر اور ٹھنڈی سانس لے کر حالات کنٹرول کرناچاہیے۔چودھری نثار نے کہا کہ میں ہر مشکل وقت میں جنگ اور جیو کے ساتھ کھڑا ہوں، آزاد میڈیا ملک کی ضرورت ہے اور باوقار دفاعی ادارے بھی ضرورت ہیں۔ دریں اثناء وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مغوی بیٹے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو مل گئی ،مغوی نے اپنے خاندان سے اپنی رہائی کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کرنے کاگلہ کیا ہے اورحکومت سے ایک ماہ کے اندربازیابی کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے،اغواء کاروں کاتحریک طالبان سے کوئی تعلق نہیں جبکہ انہوں نے ابتدائی طورپرمانگی گئی تاوان کی رقم2ارب سے کم کرکے50کروڑکردی ہے ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنے ایک بیان مزید کہا ہے کہ ویڈیو میں انہیں زنجیروں میں بندھا دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں علی حیدر گیلانی نے کہا کہ ا ن کا خاندان ان کی رہائی کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کررہا، اغواء کاروں نے میری رہائی کیلئے دو ارب روپے کا تاوان مانگا تھا اور یہ رقم بعد میں کم کرکے 50 کروڑ روپے کردی تھی ۔ علی حیدر گیلانی نے کہا ہے کہ ان کو اغواء کرنے والے لوگ تحریک طالبان کے کنٹرول میں نہیں آتے اگر مجھے ایک ماہ کے اندر مجھے رہا نہ کروایا جاسکا تو قتل کردیا جائے گا۔ حیدر گیلانی نے حکومت سے رہائی کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ علی حیدرگیلانی کونومئی 2013ء کوملتان سے اغواء کیاگیاتھا۔

مزید : صفحہ اول


loading...