کیا حزب اختلاف کی جماعتیں کوئی متحدہ محاذ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی؟

کیا حزب اختلاف کی جماعتیں کوئی متحدہ محاذ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی؟
کیا حزب اختلاف کی جماعتیں کوئی متحدہ محاذ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی؟

  


تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  ملک میں قائد حزبِ اختلاف کا تعلق تو پیپلزپارٹی سے ہے اور اسی جماعت سے مخالفانہ کردار کی امید کی جاتی تھی، لیکن ایسے لگتا ہے الیکشن ہارنے کے بعد یہ جماعت ابھی تک گہرے صدمے کی کیفیت سے باہر نہیں نکلی، سندھ میں اس پارٹی کی حکومت ہے اور اب ایم کیو ایم بھی دوبارہ شریک حکومت ہوگئی ہے اس لئے پیپلزپارٹی سندھ میں اپنی مرضی کی پالیسیاں چلانے میں آزاد ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ، جنہوں نے روکنے ٹوکنے کا کام کرنا تھا انہوں نے چند ماہ کے غور و خوض کے بعد یہی فیصلہ کرنا مناسب سمجھا کہ حکومت میں شامل ہو جایا جائے، دو اہم وزارتیں بھی ایم کیو ایم کے وزیروں کو مل گئی ہیں، کچھ مشیر اور معاون خصوصی بھی بن گئے ہیں ایسے میں پیپلزپارٹی سندھ کی حد تک تو آزاد ہے، وفاق میں خورشید شاہ اور اعتزازا حسن کبھی کبھار مخالفانہ بیانات دے کر سمجھ رہے ہیں کہ وہ حزب مخالف کا رول ادا کررہے ہیں لیکن پیپلزپارٹی بہر حال اس وقت متحرک نہیں ہے یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ لاہور ایک بار پھر ملتوی ہوگیا ہے وجہ تو سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں ،لیکن صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے واقفانِ حال کا خیال ہے کہ اس کے پس منظر میں پارٹی کے تضادات بھی کارفرما ہیں۔

حزبِ مخالف کا ’’پورٹ فولیو‘‘ اگرچہ تحریک انصاف کے پاس نہیں ہے لیکن یہ پارٹی اپنا مخالفانہ کردار ادا کرتی نظر آتی ہے جن لوگوں کا یہ خیال تھا کہ وزیراعظم نواز شریف بنفسِ نفیس چل کر عمران خان کے بنی گالہ کے فارم ہاؤس میں چلے گئے تو شاید اس سے عمران خان ’’فرینڈلی‘‘ ہوجائیں لیکن عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر حکومت کی حمایت ضرور کی ہے اور اس کے جواب میں طالبان خان کے طعنے بھی سنے ہیں، لیکن وہ فرینڈلی اپوزیشن نہیں بنے اور ان کا کردار اب بھی حزبِ اختلاف والا ہے۔

عمران خان انتخابی شکست کا صدمہ ابھی تک فراموش نہیں کرپائے، وہ 35 پنکچروں کو بھی نہیں بھولے جن سے اُن کا دل چھلنی ہے، اُنہیں بعض انتخابی افسروں کا کردار بھی پسند نہیں اور وہ انہیں اب تک رگیدرہے ہیں، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی نہیں بُھلا پائے جنہوں نے دھاندلی کے معاملے کا از خود نوٹس نہیں لیا تھا حالانکہ اس راہ میں ایک فنی رکاوٹ حائل تھی، دھاندلیوں کے معاملے انتخابی ٹربیونلوں کے روبرو چلے گئے اور جو معاملہ انتخابی ٹربیونل کے سامنے چلایا جائے سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس نہیں لے سکتی، یہ بات عمران خان کے ساتھیوں حامد خان جیسے قانون دانوں کو تو اچھی طرح معلوم ہے ممکن ہے انہوں نے اپنے قائد کو بھی یہ قانونی پوزیشن سمجھائی ہو، لیکن عمران خان اس بارے میں اپنے سی کہے جارہے ہیں۔

تحریک انصاف کے اٹھارہویں یوم تاسیس پر انہوں نے جو خطاب کیا وہ یہ ساری تلخیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا، انہوں نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھی کچھ باتیں کیں جہاں اُن کی پارٹی کی حکومت ہے اور ابھی دو روز پہلے ہی ان کی پارٹی کے امیدوار نے ایک صوبائی نشست جیت کر ثابت کیا ہے کہ اُن کی پارٹی صوبے میں بدستور مقبول ہے۔ تاہم اُن کی پارٹی کے اندر ایک فارورڈ بلاک بن گیا تھا۔ اس بلاک سے تعلق رکھنے والوں نے عمران خان سے ملاقات کے بعد ہاتھ کچھ ہولا کرلیا تھا لیکن یہ چنگاری اب بھی سلگ رہی ہے، کیا معلوم کب بھڑک اٹھے، اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف عملاً ثابت کررہی ہے کہ اصلی حزب اختلاف وہی ہے لیکن پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف قریب نہیں آرہے ہیں، اگرچہ عام الیکشن میں کہا جارہا تھا کہ دونوں جماعتوں کی اندر خانے کوئی انڈر سٹینڈنگ ہے جس کا مقصد تحریک انصاف کو فائدہ پہنچانا ہے تاہم اگر ایسی کوئی انڈرسٹینڈنگ تھی بھی تو منصوبے کے مطابق اس کا فائدہ عمران خان کو نہیں پہنچا، قائدِ حزب اختلاف کا عہدہ بھی اُن کی جماعت کے حصے میں نہیں آیا۔اب انہوں نے گیارہ مئی کو آزاد الیکشن کمشنر کے لئے یومِ احتجاج کا اعلان کیا ہے دیکھیں کون کون سی جماعت اُن کا ساتھ دیتی ہے۔

عوامی مسلم لیگ اول و آخر شیخ رشید کے حوالے سے جانی پہچانی جاتی ہے حزب مخالف کی جماعتوں کو اکٹھا ہونے کے مشورے تو شیخ صاحب دیتے رہتے ہیں لیکن ابھی تک انہیں اس میں کامیابی نہیں ملی، وہ مخالف جماعتوں کو ’’باہر نکلنے‘‘ کے مشورے بھی دے رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی جماعت باہر بھی نہیں نکلی، البتہ ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی جماعت پاکستان عوامی تحریک نے جمعہ کو فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں جلوس ضرور نکالے، جماعت کا اصل منصوبہ تو 11 مئی کو ریلیاں نکالنے کا تھا لیکن چند روز سے جنگ جیو میڈیا گروپ کے حوالے سے جو بحث چل نکلی ہے اس کا فائدہ اٹھاکر عوامی تحریک نے 11مئی سے پہلے ہی فوج کی حمایت میں مظاہرہ کردیا۔ 11 مئی کو بھی مظاہرہ ہوگا یا نہیں، فی الحال اگلے پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا، یہ پروگرام انقلاب لانے اور پُرامن طور پر اقتدار پر قبضے کا ہے دیکھیں اس کا عملی اظہار کس طرح ہوتا ہے۔

پیپلزپارتی، تحریک انصاف، عوامی تحریک اور شیخ رشید کی علیحدہ علیحدہ سرگرمیاں اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شیخ رشید کی یہ خواہش پوری ہوجائیگی کہ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوکر باہر نکلیں، عملاً ابھی کوئی بڑا اتحاد بنتا نظر نہیں آتا اور یہ اس وقت تک بن بھی نہیں سکتا جب تک پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک پلیٹ فارم پر نہیں آتیں، پارلیمینٹ میں زیادہ نمائندگی بھی انہی دو جماعتوں کی ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان جماعتوں کے قریب آنے تک اول تو کوئی اتحاد بن نہیں سکتا، بن جائے تو موثر نہیں ہوسکتا، ڈاکٹر طاہر القادری تو ایک کروڑ انسانوں کی امامت کے انتظار میں ہیں، بقول خود انہوں نے لانگ مارچ کرکے اذان دے دی تھی اور جب تک ایک کروڑ مقتدی اکٹھے نہیں ہوں گے وہ امامت نہیں کرائیں گے، دیکھیں اُن کی یہ خواہش کب پوری ہوتی ہے غالب نے کہا تھا

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

مزید : تجزیہ


loading...