گوادر کا دورہ بلوچ عوام کو حوصلہ دلانے کی کوشش!

گوادر کا دورہ بلوچ عوام کو حوصلہ دلانے کی کوشش!
گوادر کا دورہ بلوچ عوام کو حوصلہ دلانے کی کوشش!

  


تجزیہ:چودھری خادم حسین

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور معاشی لحاظ سے کمزور تر صوبہ ہے حالانکہ قدرت نے اسے قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے، لیکن یہ تو تعلیم اور بنیادی اقتصادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی ملک کے باقی حصوں سے کمزور ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو وہاں کا سرداری نظام ہے، جو وسائل پر سانپ بنا بیٹھا ہے اور صرف وہی ترقی ہونے دیتا ہے جس سے اسے ذاتی مفاد حاصل ہو، آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی وہاں رعایا اور حاکم جیسا تصور موجود ہے اور عام آدمی سردار کی مرضی کے بغیر شادی بھی نہیں کرسکتا اور یہی نوجوان ان سرداروں کا بھی آلہ کار ہے جو خود بیرون ملک آرام اور عیش سے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو بغاوت پر اکسایا ہوا ہے، یہ درست ہے کہ بلوچستان میں پسماندگی ہے اور لوگوں کے پاؤں میں جوتے نہیں ،لیکن یہ رعایا ہیں ، ان کے حاکم تو ان کے بچوں کو تعلیم بھی نہیں حاصل کرنے دیتے، خود ان کے بچے ایچی سن کالج اور اس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتے ،افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کے باوجود بلوچستان میں اس نظام کے خلاف بغاوت نہیں ہوتی ، اگرچہ وہاں ترقی پسند جماعتیں اور عناصر موجود ہیں یہ بھی سرداری نظام کو ختم کرنے کی بات نہیں کرتے، بلوچستان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاتاہے ، لیکن اس سرداری نظام پر زد نہیں آتی۔

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جو انسانی شعور کو بلند کرتا ہے اگر بلوچستان میں ابتداہی سے تعلیم پورے صوبے میں پھیلتی تو شاید نوجوان نسل کو احساس غلامی ہوجاتا اور وہ روایات کی پاسداری میں حاکمیت اور رعیت کے رشتے کے خلاف سر بکف ہوجاتے بوجوہ ایسا نہیں ہواکہ سرداراور سرداری نظام بہت طاقت ور ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گوادر کا دورہ کیا تو دعوت دے کر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو بھی ساتھ لے لیا قیاس آرائی کی گئی کہ پچھلے دنوں خبروں کے حوالے سے سیاسی اور عسکری قوتوں کے درمیان جو خلیج بنائی گئی اس کی نفی یاتردید یا پھر یہ تاثر دینے کے لئے مشترکہ دورہ کیا گیا کہ اختلاف تھا تو اب کوئی نہیں اسی لئے وزیراعطم کی یہ بات شہ سرخی بنی کہ سیاسی وفوجی قیادت ایک پیچ پر ہے اور ملکی ترقی کے لئے متحد ہے،حالانکہ معنوی اور عملی اعتبار سے مقصد مختلف بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ بلوچ عوام کو مکمل تحفظ کا یقین دلایا جائے تاکہ گوادر کی ترقی میں ان کی دلچسپی بڑھے اور مخالفت کے ساتھ ساتھ تخریب کاری کم ہو، وزیراعظم نے اسی لحاظ سے تو کہا گوادر کے لئے کام مناسب نہیں ہوا، ہم اسے ترقی دے کر سنگا پور اور دوبئی کی طرح فری پورٹ بنائیں گے، جس کا براہِ راست فائدہ بلوچ عوام کو بھی ہوگا۔

ہم اس سے پہلے بھی کئی بار گزارش کرچکے کہ بلوچستان میں ریکوڈیک اور سیندک کے قدرتی وسائل کے علاوہ مزید گیس اورتیل کے ذخائر بھی ہیں، کوئلہ اور پتھر بھی نکل رہا ہے، لیکن ان وسائل سے ملک مستفید نہیں ہو پا رہا، ریکوڈیک اور سیندک جیسے منصوبے مفاد پرستی کے ہاتھوں رکے ہوئے ہیں تو دوسرے وسائل پر کام نہیں ہونے دیا جاتا، کوئلے اور پتھر کی کانوں کی ملکیت نوابوں کے پاس ہے اور یہی سردار اور نواب اپنی مرضی سے ملکی معیشت میں حصہ ڈالتے ہیں اور غریب عوام فائدے سے محروم ہی رہتے ہیں۔

انہی وسائل قدرت اور منصوبوں میں گوادر پورٹ بھی شامل ہے ، اس پر کام شروع ہوئے عرصہ ہوگیا، دیکھا جائے تو اب تک یہ ایک بڑا وسیلہ بن جانا چاہئے تھی،لیکن یہاں تو چینی انجینئرقتل اور اغوا کئے گئے ،جائیداد خرید کر بستیاں بسانے والوں کو بھگا دیا گیا لوگوں کے سرمائے بھی پھنسے ہوئے ہیں، اب وزیراعظم نے سپہ سالار کے ساتھ دورہ کر کے اور گوادر کو مرکز بنانے کا اعلان کر کے ایک بڑاقدم اٹھایا ہے، بلوچ عوام کو حوصلہ بھی دیا ہے کہ تحفظ بھی کیا جائے گا۔ تاہم اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ بلوچستان میں ایک طرف ’’ناراض‘‘ حضرات سے مذاکرات کئے جائیں(جو کسی نہ کسی مرحلے پر ہورہے ہیں) ان کو کامیاب بنایا جائے اور نہ صرف گوادر کے بارے میں کئے گئے اعلان پر تیزی سے عمل کیا جائے بلکہ بلوچستان میں تعلیم کو شہروں تک محدود رہنے نہ دیا جائے اور اسے نچلی سطح یعنی دوردراز کے دیہات تک بھی پہنچایا جائے، وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ کتنا ضروری ہے دورہ بہر حال معقول اور اچھا اور ارادے بھی نیک ہیں، وزیراعظم دوسرے قدرتی وسائل پر بھی توجہ دیں جو ملک کو قرضوں کی لعنت سے نجات دلا سکتے ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...