ریلوے کا اشتہاری وزیر

ریلوے کا اشتہاری وزیر
ریلوے کا اشتہاری وزیر

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک اپیل سے انکشاف ہوا ہے کہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق دو مقدمات میں اشتہاری ہیں ۔یہ مقدمات پرویز مشرف کے دور حکومت میں درج کئے گئے تھے ۔پنجاب حکومت نے اپنی اس اپیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے اس فیصلے کوچیلنج کیا ہے جس میں خصوصی عدالت نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف یہ مقدمات خارج کرنے کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا۔پنجاب حکومت کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو خواجہ سعد رفیق کیخلاف دہشت گردی، نقص امن، پولیس پر فائرنگ اور دیگر دفعات کے تحت درج2مقدمات واپس لینے کی اجازت دی جائے، لوہاری گیٹ پولیس نے میاں شہباز شریف کی ممکنہ وطن واپسی کے حوالے سے جلسہ کرنے پر 11مئی 2004ء کو مذکورہ دفعات کے تحت دو مقدمات درج کئے تھے جن میں خواجہ سعد رفیق سمیت32ملزمان کو نامزدکیا گیا تھا جبکہ 7 ملزم نامعلوم تھے ، انسداد دہشت گردی عدالت نے 14اکتوبر 2006کو ان مقدمات میں9ملزمان کو استغاثہ کے گواہ کی عدم شناخت پر بری کر دیا تھا جبکہ خواجہ سعد رفیق کو ایک گواہ نے شناخت کیا تھا،انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے مطابق خواجہ سعد رفیق اشتہاری ہیں،انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات واپس لینے کی استدعا اس بنیاد پر خارج کردی تھی کہ مقدمات کی واپسی کا حکم سیکرٹری پراسیکیوشن نے دیا تھاجبکہ قانونی طور پر ایسے حکم سے قبل حکومت سے منظوری لینا ضروری ہے جو کہ نہیں لی گئی ۔انسداد دہشت گردی عدالت نے حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وزیر ریلوے کے اشتہاری ہونے کا سٹیٹس برقرار رکھاتھا۔ اس فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں دائر کردہ اپیل تاحال زیر التواء ہے ۔

مزید : جرم و انصاف


loading...