ہائیکورٹ نے ورلڈ بینک کا قرض ادا کرنے سے روک دیا

ہائیکورٹ نے ورلڈ بینک کا قرض ادا کرنے سے روک دیا
ہائیکورٹ نے ورلڈ بینک کا قرض ادا کرنے سے روک دیا

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ نے عبوری حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اگر ورلڈ بنک توانائی منصوبوں کیلئے دیئے گئے امدادی قرضے کی واپسی کا تقاضہ کرتے تو یہ امدادی قرضہ واپس نہ کیا جائے ، عدالت نے آئندہ تاریخ پر وفاقی سیکرٹری برائے اقتصادی امور کو بھی طلب کیا ہے۔جسٹس خالد محمود خان نے یہ حکم پاک الیکٹرون لمیٹڈکی طرف سے دائر درخواست پر جاری کیا ہے، درخواست گزارنے فیسکو کی طرف سے نئے ٹرانسفارمرز بنوانے کیلئے جاری کردہ ٹینڈرز کو چیلنج کیا تھا، درخواست گزار کے وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ فیسکو کے ٹینڈرز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری کردہ ایس آر او نمبر827کی خلاف ورزی ہیں جن کے تحت مقامی مینوفیکچررز کو خام مال کی درآمد میں 25فیصدرعایت دی جانی تھی مگر ان ٹینڈز میں رعایت کم کر دی گئی ہے، عدالت کو بتایا کہ رعایت کم کرنے اور ٹینڈرز کیخلاف معاملہ وزارت خزانہ اور اقتصادی امور کی وزارت کے پاس20ماہ سے زیر التواء ہے، عدالت بھی اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا حکم جاری کر چکی ہے، خدشہ ہے کہ رعایت سے متعلق درخواست پر فیصلے تک ورلڈ بینک وفاقی حکومت سے اپنا امدادی قرضہ واپس لے لے گا،وکلاء نے استدعا کہ وفاقی حکومت کو ایس آر او کے مطابق رعایت دینے کا حکم جاری کیا جائے، عدالت نے مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اگر ورلڈ بنک توانائی منصوبوں کیلئے دیئے گئے امدادی قرضے کی واپسی کا تقاضہ کرتے تو یہ امدادی قرضہ واپس نہ کیا جائے ، عدالت نے 5مئی کو سیکرٹری اقتصادی امور کو بھی طلب کیا ہے۔

مزید : بزنس


loading...