سونے کے کور والا موبائل فون حرام نہیں: پاکستانی مذہبی سکالر

سونے کے کور والا موبائل فون حرام نہیں: پاکستانی مذہبی سکالر
Mobile

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے عالم دین شیخ عبدالعزیز کی طرف سے مردوں کیلئے سونے کے کور والے موبائل فون کے استعمال کو حرام قرار دینے کے فتویٰ پر پاکستان کے مذہبی سکالرز اور علماء کرام نے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ نے کہا ہے کہ سونے کے کور والے موبائل کا استعمال اسلام میں حرام نہیں لیکن یہ فضول خرچی میں آتا ہے اور فضول خرچی کرنے والے کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ تحریک صراط مستقیم کے سربراہ ڈاکٹر اشرف جلالی نے کہا کہ سونے کی بنی ہوئی کوئی چیز ہاتھ میں پکڑی جائے اور پہنی نہ جائے ایسی چیزوں کا استعمال جائز ہے۔ موبائل کا استعمال قطعاً حرام نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ فتویٰ بالکل ٹھیک ہے شرعاً سونا مردوں کیلئے حرام ہے۔ جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ جو سونا زیب و زینت کے زمرے میں آئے حرام ہے لیکن موبائل فون زیب وزینت میں نہیں آتا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ امین شہیدی نے کہا کہ سونے سے بنی ایسی تمام اشیاء جو زیور کے زمرے میں آئیں حرام ہیں اس کے علاوہ سونا کسی بھی طور پر استعمال کرنے پر پابندی نہیں۔ جس طرح سونے کی لاٹھی استعمال کرنا جائز ہے اسی طرح موبائل فون کی بھی ممانعت نہیں۔ وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرلق اری حنیف جالندھری نے کہا کہ کسی بھی شکل میں سونا مردوں کیلئے حرام ہی ہے۔

مزید : تفریح


loading...