ثقلین مشتاق چیف کوچ کی دوڑ میں شامل

ثقلین مشتاق چیف کوچ کی دوڑ میں شامل
ثقلین مشتاق چیف کوچ کی دوڑ میں شامل

  


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ثقلین مشتاق پاکستانی ٹیم کے چیف کوچ کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔سابق آف سپنر نے ٹاپ پوزیشن کے ساتھ سپن باﺅلنگ کنسلٹنٹ کے لیے بھی درخواست دے دی ہے، ان کے مطابق جس حیثیت سے بھی موقع ملا وہ ملک کی خدمت کیلیے تیار ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی سابق پیسر وقار یونس کو چیف کوچ مقرر کرنے کا تقریباً فیصلہ کر چکا،البتہ رسمی طور پر اشتہار بھی جاری کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے برطانیہ میں مقیم سابق ٹیسٹ سپنر ثقلین مشتاق نے ٹاپ پوزیشن کے لیے درخواست جمع کرا دی، انھوں نے ساتھ ہی سپن کنسلٹنٹ کی پوسٹ کے لیے بھی اپلائی کیا ہے، گوکہ اس ذمہ داری کو سابق سپنر مشتاق احمد کو سونپنے کا ذہن بنایا جا چکا تاہم بعض حلقوں کی جانب سے جسٹس قیوم رپورٹ میں نام شامل ہونے کی وجہ سے اس پراعتراض سامنے آیا ہے، اسی کے ساتھ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ تو انگلش ٹیم کیساتھ کام کر چکے لہذا پاکستان کے لیے تقرر میں کیا قباحت ہو گی۔ماضی میں بھی ایک بار مشتاق کو گرین شرٹس کیساتھ منسلک کرنے کی کوشش انہی وجوہات کی بنا پر ناکام ہو چکی ہے، سابق لیگ سپنر خود نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں انڈر17اور19 سپنرز کی رہنمائی میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں،اگر بورڈ ان کی تقرری پر سامنے آنے والا دباو¿ جھیلنے کا ارادہ کر چکا تو مشتاق عہدہ سنبھالنے کے لیے فیورٹ ہیں،بصورت دیگر ثقلین مشتاق کا آپشن موجود ہے، وہ ماضی میں نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ بطور سپن کنسلٹنٹ فرائض انجام دے چکے، اسی کے ساتھ انھوں نے ویسٹ انڈین سپنرز کی بھی رہنمائی کا کام سنبھالا، گذشتہ عرصے ورلڈ ٹی ٹونٹی میں وہ کیریبیئن سائیڈ کے ساتھ بنگلہ دیش میں موجود رہے، آسٹریلیا نے بھی چند برس قبل سپنر ناتھن ہورٹز کی مدد کے لیے ایشز سیریز کے دوران انھیں بلایا تھا،اب بھی ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش ان سے معاہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر ”دوسرا“ گیند کے موجد اپنے ہم وطنوں کو سپن بولنگ کے اسرارورموز سکھانے کے خواہاں ہیں۔انگلینڈ سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے منیجر کی معرفت سے پاکستانی ٹیم کے چیف کوچ اور سپن باﺅلنگ کنسلٹنٹ کے لیے درخواستیں جمع کرا دی ہیں، میں لیول 3 کوالیفائیڈ ہونے کیساتھ دیگر شرائط پر بھی پورا اترتا ہوں لہذا امید ہے کہ مثبت جواب ملے گا، انھوں نے کہا کہ دنیا کی کئی ٹیموں کے ساتھ کام کرچکا مگر اب اپنا فن ہم وطنوں میں منتقل کرنے کی خواہش ہے جس حیثیت سے بھی موقع ملا ٹیم کے کام آنے کی کوشش کروں گا، مجھے اگر مستقل ذمہ داری سونپ دی گئی تو اہل خانہ کے ساتھ لاہور بھی منتقل ہو سکتا ہوں، انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں بس اسے نکھارنے والا چاہیے، میں ملک کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کی کوشش کروں گا۔ یاد رہے کہ37 سالہ ثقلین208ٹیسٹ اور288 ون ڈے وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

مزید : کھیل


loading...