سنی لیون کا حامد میر کو فون

سنی لیون کا حامد میر کو فون
سنی لیون کا حامد میر کو فون

  


بلاگ (نعمان تسلیم)آج کل پاکستان میں حامد میر کے مسئلہ نے  تمام میڈیا، حکومت اور فوج کو بیجان میں مبتلا کیا ہوا ہے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس مسئلہ پر زور و شور سے گفتگو ہورہی ہے اور پاکستان کو کہاجارہا ہے کہ آزادی رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ یہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ایسے حالات میں کیسے ممکن ہے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں اس پر بات نہ ہو۔ بھارت کی مقبول اداکارہ سنی لیون جو بے باکی میں کسی سے کم نہیں اورآزادی  اظہار کی وجہ  ہی سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکی ہیں نے اس وقت تمام لوگوں کو حیران کردیا جب انہوں نے حامد میر کو فون کیا اور ان سے ان کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا۔  حامد میر کے ایک انتہائی قریبی دوست جو خود بھی ایک مشہور شخصیت ہیں اور اکثر ٹی وی پر پروگرام بھی کرتے ہیں، اس موقع پرموجود تھے۔انہوں نے ٹیلی فون پر بات چیت کاتمام احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنی لیون نے حامد میر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں کسی انسان کو اس کی مرضی کے خلاف پابند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آزادی اظہار ہم سب کا بنیادی حق ہے،ہمیں کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیاکرنا ہے کیونکہ ہم ایک آزاد دنیا میں رہتے ہیں اور ہر فرد آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔اداکارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حامد میر ایک بہادر صحافی ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اپنے مخالفین کے آگے سر نہیں جھکایا۔اس موقع پر جب حامد میر نے انہیں بتایا کہ ان کے اپنے ہی لوگ ان کے خلاف ہو چکے ہیں اور کس طرح انہوں نے  حملے والے دن اپنی جان بچائی تو یہ سن کر سنی لیون آبدیدہ ہو گئیں اور انہوں نے شدید جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک یا ادارہ آزاد انسانوں پر اپنی رائے مسلط نہیں کرسکتا کیونکہ اسی آزادی اظہار  کی وجہ سے ہم سب زندہ ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کا بنیادی حق ہے  کہ  انہیں تمام پوشیدہ اشیاء کے بارے میں بتایا اور دکھایا  جائے کیونکہ لوگ ’اندر کی باتیں‘جاننا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر بھی پڑھا:

سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے 

کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

سنی لیون نے کہا کہ انقلابی شخصیات کے ساتھ لوگ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں . شروع میں ان پر بھی لوگوں نے بہت تنقید کی اور انہیں بہت برا بھلا کہا لیکن وہ ہرگز دلبرداشتہ نہ ہوئیں اور ہمیشہ ہمت سے کام لیااور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آخر کار ان کی ”محنت“ رنگ لائی اور آج لوگ انہیں انتہائی ”بہادر“ اداکارہ کے طور پر پہچانتے ہیں۔ایک موقع پر انہیں بھی 'تنگ نظر' لوگوں کی جانب سے  جان کے شدید خطرات لاحق تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ اس بات پر یقین رکھا کہ وہ مخالف سمت والی ہوا سے ہرگز نہیں گھبرائیں گی اور اس باد مخالف کو اپنے حق میں استعمال کریں گی اور ان کی یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی۔

اس تند ی بادمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کےلئے

اداکارہ نے جب یہ شعر لہک لہک کر پڑھاتو حامد میر یہ سن کر جھوم اٹھے اور ان میں ایک نیا ولولہ بھی دیکھا گیا۔اداکارہ نے کہا کہ انہیں  سینئر صحافی کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ جانتی ہیں کہ اس طرح کے حملوں سے انہیں خاموش نہیں کیا جاسکتا۔  حامد میر کے قریبی دوست کا کہنا تھا کہ اس موقع پر حامد میر نے اداکارہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور ہمیشہ ”حق و سچائی“ کا ساتھ دیں گے اور آزادی رائے واظہار پر پابندی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور آئندہ بھی وہ آزادی اظہار کی حمایت میں کھل کر بولیں گے کیونکہ بہادری  ان کے خون میں شامل ہے۔

امید ہے کہ آپ اس تحریر کو پڑھ کر حیران اور محظوظ ہو رہے ہوں گے اور سوچ رہے ہوں گے کہ مزید کیا باتیں ہوئی ہوں گی تو یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جس طرح معروف ادارے نے ایک مفروضے کی بنیاد پرہماری افواج کے خلاف ایسا پروپیگنڈہ کیاجو کسی بھی پاکستانی کے لئے قابل قبول نہیں ہے،اسی طرح آپ اس تحریر کو بھی ایک مفروضہ سمجھیں کیونکہ اگر سنی لیون کا فون آیا ہوتا تو آپ کو اب تک یہ خبر ’بریکنگ نیوز‘ کی صورت میں ٹی وی پر پتا لگ چکی ہوتی.

مزید : بلاگ


loading...